Dr. Saleem Wahid Saleem life & works by Zafar Nasimi

Zafar Nasimi on

Zafar Nasimi on 2
ڈاکٹر سلیم واحد سلیمؔ از ظفرؔ نسیمی
ڈاکٹر سلیم واحد سلیمؔ کی باوقار شخصیت اور ان کی شاعرانہ فنکاری ایران، ہندوستان اور پاکستان کے معاشرتی اور ادبی ماحول کی پروردہ ہے۔ آپ کے والد خلیفہ عبد الواحد کا تعلق غیر منقسمہ ہندوستان میں لاہور کے ایک صوفی صفت معزّز کشمیری گھرانے سے تھااور والدہ ایرانی تھیں جن کے ساےۂ عاطفت میں آپ نے تہران میں پرورش پائی۔ آپ کی مادری زبان فارسی تھی۔لیکن ۱؍ سال کی عمر میں والدہ کے انتقال کے بعد لاہور منتقل ہو گئے۔ تعلیم جاری رہی۔ لاہور میں منشی فاضل کی ڈگری حاصل کی پھر علی گڑھ سے B.U.M.Sاور لندن سے M.R.A.Sکرنے کے بعد یونیورسٹی ہاسپٹل علیگڑھ میں ہاؤس سرجن اور فزیشن رہے۔ یہیں آپ کا ادبی ذوق پروان چڑھا۔شعر کہنا شروع کیا اور مشاعروں میں شرکت کرنے لگے۔ اس اثنا میں ملک تقسیم ہو گیا اور سلیم صاحب سرحد کے اس پار ہو گئے۔ آپ نے سیال کوٹ اور لاہور میں میڈیکل پریکٹس جاری رکھی لیکن اردو فارسی کی غیر معمولی قابلیت کی بدولت آپ کو BBC لندن کی اردو فارسی سروس میں خدمت کا موقعہ مل گیا۔
۱۹۵۰ ؁ء میں سلیم صاحب ترقی پسند تحریک میں شامل ہو کر اپنا ایک خاص مقام بنا چکے تھے لیکن ادب پر سیاست حاوی ہونے کی وجہ سے آپ کی آزاد خیالی اور انقلابی سوچ حکومت کی نظر میں جرم بن گئی۔ پھر ایسے مواقع بھی آئے جب عملی سیاست میں حصہّ لیتے ہوئے جنرل ایوب خاں کے دور میں مارشل لا کے خلاف بغاوت کی اور گیارہ دن کی مسلسل بھوک ہڑتال کی صعوبت برداشت کی۔ ۱۹۶۰ ؁ء میں آپ نے تزک جہانگیری کا فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا جو کافی مقبول ہوا۔ عربی اور انگریزی پر بھی کافی دسترس حاصل کی۔ سلیم صاحب کے ارد گرد علم دوست مدّاحوں ، ادیبوں ، شاعروں اور پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسروں کا مجمع رہتا تھا۔ آپ کی غزلیں اور نظمیں ارباب ادب میں کافی مقبول تھیں۔


ڈاکٹر سلیمؔ واحد سلیم کا سب سے بڑا کارنامہ عمر خیام کی رباعیوں کا منظوم ترجمہ ہے جسے ’’خیامِ نو‘‘ کے عنوان سے سانجھ پبلی کیشنز لاہور نے ۲۰۱۱؍ میں شائع کیا ہے۔
سلیم ؔ صاحب کا انتقال ۱۹۸۱ ؁ء کو لاہور میں ہوا۔ آپ نے اردو اور فارسی غزلوں کا بڑا ذخیرہ چھوڑا ہے۔ اس کے علاوہ ترقی پسند شاعر کی حیثیت سے جذباتی آزاد نظمیں بھی لکھی ہیں۔ ان کی غزلوں میں روایتی تغزل کے ساتھ نئے دور کی آہٹیں بھی محسوس ہوتی ہیں۔ اشعار سنجیدہ اور معنی خیز ہیں۔ شائستگی اور سنجیدگی کے ساتھ منائع و بدائع کا خاص اہتمام کرتے ہیں:
برق پا جوانی تھی زندگی بھی فانی تھی ؍ پھر بھی تیری چاہت میں لطف بے بہا پا یا
چہرہ گل پر ہجوم اشک شبنم بھی تو دیکھ ؍ اہل غم پر کر نظر عشرت کے ماروں پر نہ جا
امتزاج رنگ و بو وہ بھی سیراب اندر سیراب ؍ فطرت رنگیں کے رنگیں شکاہکاروں پر نہ جا
وہی سب سے زیادہ حال دل سے بے خبر نکلے ؍ جنھیں سب سے زیادہ حال دل سے باخبر جانا
دنیا میں درد عشق غم جاوداں تو ہے ؍ مانا غم حیات غم جاوداں نہیں
ناصح جنون عشق میں کیا مصلحت کا دخل ؍ اک جان کا زیاں ہے سو کوئی زیاں نہیں
ہر ایک ہجر کے صدمے تو سہہ نہیں سکتا ؍ کئی فراق کے صدمے سے مر بھی جاتے ہیں
اشتراکیت سے متاثّر ہوتے ہوئے بھی انھوں نے اس فلسفہ کو کہیں کہیں غزل میں جگہ دی ہے اورتغزل کی طرف لوٹ آئے ہیں۔مثال کے طور پر:
حق بات بہر حال نکالیں گے لبوں سے ؍ نبٹیں گے بہر گام خوشامد طلبوں سے
سلیمؔ اب شہر کے رکھوالے جتنے ہیں نرالے ہیں ؍ کہ جتنی بار بھی لوٹا غریبوں کا نگر لوٹا
سلیمؔ صاحب کا پورا کلام حسن و عشق کے جذبات سے لبریز ہے۔ دو چار شعراور ملاحظہ فرمائیں:
تم ہی تجل�ئرخسار لے کے آجاؤ ؍ کہ آج شمع مسرت بہت ہی مدھم ہے
ہر ورق زر دہے کہاں جائیں ؍ ہر کلی سرد ہے کہاں جائیں
وہ حسینہ وفا کے آنگن میں ؍ دشمن مرد ہے کہاں جائیں
اگر جہاں میں محبت گناہ ہے زاہد ؍ تو پھر خدا کی قسم کوئی پاکباز نہیں
سلیم صاحب کے کلام میں یاس و حسرت کے بجائے ہمت و حوصلہ کا مضمون جا بجا ملتا ہے۔ ان کی جدوجہد بھری زندگی اس کا عملی ثبوت ہے:
حوادث غم دوراں سے ہم کبھی نہ ڈرے ؍ بھنور میں ڈال دی کشتی کہ ہر چہ باداباد
زندگی موت سے بدتر ہوئی جاتی ہے سلیمؔ ؍ لیکن اب بھی وہی جینے کی ہوس باقی ہے
اس مختصر مضمون میں ان کی آزاد نظموں کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا لیکن مندرجہ ذیل دو نظموں سے ان کے احساس کی گہرائی اور جذبات کی گیرائی کااندازہ ضرور ہو جائیگا۔ ’’ روح عصر‘‘ کے عنوان سے ایک نظم میں انسان کی عظمت اس طرح بیان کرتے ہیں:
اگر تم ایک دشت بیکراں ہو جس کا ہر ذرّہ ؍ جہان تشنگی ہو تو بھی کیا غم ہے ؍ میں دریا بن کر ہر ذرّے کو سیرابی سے اک گلشن بنا دوں گا ؍ ببولوں کو مہک ؍ ذرّوں کو تابش کی متاع بے بہا دوں گا ؍ نشان راہ ہوں، منزل ہوں، جادہ ہوں ؍ وفا کا جان دادہ ہوں ؍ میں سیل بیکراں بھی ہوں ؍ تری شادابیوں کا اک نشان جاوداں بھی ہوں ؍ کہ میں انسانیت کے لشکر فتح و ظفر کا ؍ اک پیادہ ہوں ؍ میں روح عصر ہوں ؍ میں وقت کی آواز ہوں ؍ ناقابل تسخیر انساں ہوں
دوسری نظم ’’ایک پہیلی‘‘ در حقیقت پہیلی نہ ہوتے ہوئے اس دور میں صنف نازک کی انقلاب آفریں جد و جہد کی مختصر سی داستان ہے جو تاریخ کا حصہ بن گئی ہے:
ایک نازک سی رقص آفریں نازنیں؍ تازیانوں کو چیلنج کرنے لگی
قہر کے بیڑے حرکت میں آنے لگے؍ باد بانوں کو چیلنج کرنے لگی
قصر آبی میں ، خشکی کے ایوان میں ؍ مسند اختیارات ہلنے لگی
تھر تھری سی مچی آن میں شان میں ؍ ناخداؤں میں سرگوشیاں چل پڑیں
کسقدر زور اک جان نازک میں ہے ؍ آتش سیل میدان نازک میں ہے
جو زمانہ پاکستان میں سلیم صاحب کی شہرت اور مقبولیت کا تھا اس دور میں ہند و پاک کی ادبی تخلیقات میں بھی عصبیت کی درار قائم تھی۔ آج وقت آگیا ہے کہ ہم دونوں ملکوں کے باکمال ادیبوں اور شاعروں کی یادیں تازہ کریں۔
’’ گاہے گاہے باز خواں ایں قصہۂ پارینہ را‘‘

About Muslim Saleem

Muslim Saleem (born 1950) is a great Urdu poet, writer and journalist and creator of massive directories of Urdu poets and writers on different blogs. These directories include 1. Urdu poets and writers of India part-1 2. . Urdu poets and writers of India part-II 3. Urdu poets and writers of World part-I 4. Urdu poets and writers of World part-II, 5. Urdu poets and writers of Madhya Pradesh, 6. Urdu poets and writers of Allahabad, 7. Urdu poets and writers of Shajahanpur, 8. Urdu poets and writers of Jammu-Kashmir and Kashmiri Origin, 9. Urdu poets and writers of Hyderabad, 10. Urdu poets and writers of Augrangabad, 11. Urdu poets and writers of Maharashtra 12. Urdu poets and writers of Tamil Nadu, 13, Urdu poets and writers of Karnataka 14. Urdu poets and writers of Gujarat, 15. Urdu poets and writers of Uttar Pradesh, 16. Urdu poets and writers of Canada, 17. Urdu poets and writers of Burhanpur, 18. Urdu poets and writers of West Bengal 19. Female Urdu poets and writers, 20. Hindu Naatgo Shuara etc. These directories can be seen on :- 1. www.khojkhabarnews.com 2, www.muslimsaleem.wordpress.com 3. www.urdunewsblog.wordpress.com, 4. www.khojkhabarnews.wordpress.com. 5. www.poetswritersofurdu.blogspot.in 6 www.muslimsaleem.blogspot.in 7. www.saleemwahid.blogspot.in (Life) Muslim Saleem was born in 1950 at Shahabad, Hardoi, Uttar Pradesh in India, brought up in Aligarh, and educated at Aligarh Muslim University. He is the son of the well-known Urdu poet Saleem Wahid Saleem. He has lived in Bhopal, India since 1979. (Education): Muslim Saleem studied right from class 1 to BA honours in AMU schools and University. He completed his primary education from AMU Primary School, Qazi Para Aligarh (Now converted into a girls school of AMU). He passed high school exam from AMU City School, Aligarh and B.A. Hons (Political Science) from Aligarh Muslim University Aligarh. Later, Muslim Saleem did M.A. in Arabic from Allahabad University during his stay in Allahabad. (Career) Muslim Saleem began his career as a journalist in the Urdu-language newspaper Aftab-e-Jadeed, Bhopal. He is multilingual journalist having worked on top posts with Dainik Bhaskar (Hindi), Central Chronicle (English), National Mail (English), News Express (English) and most recently as the chief copy editor of the Hindustan Times in Bhopal. At present, Muslim Saleem is English news advisor to Directorate of Public Relations, Government of Madhya Pradesh. (as on December 1, 2012). (Works and awards) Muslim Saleem has been appointed as Patron of Indo-Kuwait Friendship Society. He is the author of Aamad Aamad, a compilation of his poetry published by Madhya Pradesh Urdu Academi. Several of his couplets are well known in the Urdu language. He won the Yaad-e-Basit Tarhi Mushaira, a poetry competition, in 1982. In 1971, Muslim Saleem was awarded by Ismat Chughtai for his Afsana “Nangi Sadak Par” at AMU Aligarh. His ghazals and short stories have been published in Urdu-language publications Shair, Ahang, Asri, Adab, Agai, Naya Daur, Sada-e-Urdu, Nadeem and other periodicals and magazines. His work in service of the Urdu language was recognized in a special 2011 edition of the periodical Abadi Kiran, devoted to his work. Evenings in his honour have been organised in a number of cities. Muslim Saleem is currently compiling a massive database of poets and writers of the Urdu language, both historic and currently active. (Translation of Muslim Saleem’s work in English): Great scholar Dr. Shehzad Rizvi based in Washington has translated Muslim Saleem’s ghazal in English even though they have never met. Dr. Rizvi saw Muslim Saleem’s ghazals on websites and was so moved that he decided to translate them. (Praise by poets and writers) Great poet and scholar of Urdu and Persian Dr. Ahmad Ali Barqi Azmi has also written a number of poetic tributes to Muslim Saleem. Dr. Azmi and Muslim Saleem are yet to meet face to face. Beside this, great short-story writer and critic Mehdi Jafar (Allahabad, Bashir Badr (Bhopal), Jafar Askari (Lucknow), Prof. Noorul Husnain (Aurangabad), Kazim Jaffrey (Lahore) and a host of others have written in-depth articles defining Muslim Saleem’s poetry. (Muslim Saleem on other websites) Muslim Saleem’s life and works have been mentioned on Wikipedia, www.urduadab4u.blogspot.in, www.urduyouthforum.org and several other website. In fact, www.urduyouthforum.org has given credit to Muslim Saleem for lifting a number of pictures and entries from Muslim Saleem’s websites and blogs. (Address): Muslim Saleem, 280 Khanugaon, VIP Road, Bhopal-462001 Mobiles: 0 9009217456 0 9893611323 Email: muslimsaleem@rediffmail.com saleemmuslim@yahoo.com Best couplets: Zindagi ki tarah bikhar jaayen…… kyun ham aise jiyen ki mar jaayen kar di meeras waarison ke sipurd…. zindagi kis ke naam mar jaayen rooh ke karb ka kuchh mudaawa no tha doctor neend ki goiyan likh gaya wo dekhne mein ab bhi tanawar darakht hai haalanke waqt khod chuka hai jaden tamam My Facebook url is http://en-gb.facebook.com/pages/Muslim-Saleem/176636315722664#!/pages/Muslim-Saleem/176636315722664?sk=info Other blogs http://urdupoetswriters.blogspot.com/ http://muslimspoetry.blogspot.com/ http://abdulahadfarhan.blogspot.com/ http://ataullahfaizan.blogspot.com/ http://hamaramp.blogspot.com/ http://madhyanews.blogspot.com/ http://cimirror.blogspot.com/
This entry was posted in Dr. Saleem Wahid Saleem. Bookmark the permalink.

3 Responses to Dr. Saleem Wahid Saleem life & works by Zafar Nasimi

  1. muslimsaleem says:

    FACEBOOK COMMENTs

    Kamil Janetvi Waaaaaah waah . Bahut khubsurat aur meyari tahreer hai . Mubarakbad . Zindabad
    Muslim Saleem Shukriya Kaamran Zia
    8 hours ago • Like

    Abu Obaida Azmi Waah bahot hi umda Muslim Saleem sahab mabrook
    8 hours ago via mobile • Like

    Tanwar Toor Nice

    7 hours ago • Like

    Khurshidul Hasan Naiyer mubaarak baad pesh hai muHtaram Muslim Saleem Sb.

    Salahuddin Haque kamaal ki tahreer hai….bahut umda

    Syed Husnain bahut lajawab tahreer hai ,bila shuba aap ke walid adab ke sath hi sath samaj ke bhi bade aadmi the ,isi liye aap men bhi woh khubiyan paida ho gai ,honahar birwa ke chikne chiknepat

    Majeed Taj Baloch Bahut umda

    Muslim Saleem Kindly see………..http://saleemwahid.blogspot.in/

    Urdu poet and writer Dr Saleem Wahid Saleem ‘KHAYYAM-E-NAU’
    saleemwahid.blogspot.com
    Dr Saleem Wahid Saleem was a great poet and writer, who penned poetry from 1940s…See More

    Faisal Nawaz DR. SALEEM WAHID – AN ARTICLE BY VETERAN CRITIC ZAFAR NASIMI……parhne ke baad yeh andaza laghyaa ja sakta heh Dr.saleem wahid saib ki maqboliyaat adaab ke dhere main aur zati zindaghii jis main taleem ko lekar london tak pounche jab ke yeh safar us dour main asaan na thaa,,aur us ke baad her us maqaam par tarqi pate ghe jo jo un ki nazar se ghuzara……jis main BBC london tak shamil hain ….mashaAllah………ghalib ka sher yaad aah ghayaa is moqe par…””baskih dushvaar hai har kaam kaa aasaaN honaa
    aadmii ko bhii muyassar nahiiN insaaN honaa””…….adami ka muqaam hum ko muyasar heh par puri insanyaat ka mauqaam thora mushqil heh aur us ke liye jado jehd zaroori heh…..take society main nazar aayee insaan ka moqaam…aur Dr Saleem Wahid saib ko Allah (SWT) ne yeh sharf bakhsha. MashaAllah…au un ke ashar parhne ke baad share karta hoon …… barq paa jwani thi zindagi bhi fani thii…………..
    phir bhi teri chahat main lutf be baha payaa…..
    cheraa o gul hujoom ashk shabnam tu dekh
    ahl gham par kar nazar ishrat ke maroon par na jaa
    tum he tajali rukhsaar le ke aa jaoo
    ke aaj shamaa masrat baut hi madaham heh… bout umda Muslim Saleem sahib a very proud and highly regarded work by Dr.Saleem Wahid saib (mahroom)…..thank you for share..

    Muslim Saleem Shukriya Faisal Nawaz.. Walid-e-mohtaram Dr. Saleem Wahid Saleem ne zindagi ke bade zabardast nasheb-o-faraz dekhe the. Taqseem-e-HInd ke baad Lahore mein bas jaane ke baad un par bahut mazaalim dhaye gaye kyonke unke nazariyat taraqqi pasandana the. Yeh wo waqt tha jab Josh aur Faiz jaise log bhi underground ho gaye the. Lekin Dr. Sab ne hukoomat se loha liya aur 11 din tak bhook hartaal bhi ki. Wo shair-e-baa amal they. Jo kehte the, karte they.

    Ahmad Ali Khan First of all, I would like to thank Mr. Zafar Nasimi, a veteran Critic of global fame…..who has given a vivid picture and a useful explanatory Notes on the graceful Life of Dr. Saleem Wahid “Saleem”. the Poet, Scholar and a Social Reformer of 1950s. He was not merely a Poet but above all, he was one of the influencial members of Progressive Movement. ( Taraqqi-Pasand Tehreek ke ik ba-waqaar aur sargarm Rukn). In view of his credential (Command over Farsi/ Persian & Urdu) and versatility on Languages e.g. FARSI & URDU, “the BBC” offered him a job for its Farsii & Urdu Services. Prior to this job he already practised in A.M.U Hospital as a House Surgeon and Physician while he had with him Medicine Degree ( B.U.M.S – A.M.U & M.R.A.S from London). Dr. Saleem Wahid Saleem’s great contribution in Urdu-Adab regarded immensely for his Translation of ….UMAR KHAIYYAM’S RUBAE, in Urddu under the new Tiltle …” Khaiyyam-e-Nau” that was published by Sanjh Publication – Lahore in 2011. The following are the best commemoration of his Poetic Creation…. that’s sufficient to unfold his Pen-Power, outlook, overwhelming strength to catch the attention of common-man thru- the depth of calibre………………………..WAHI SAB SE ZEYADA HAAL-E-DIL SE BE-KHABAR NIKLE,,,,JINHE’N SAB SE ZEYADA HAAL-E-DIL SE BA-KHABAR JANA,,,,!! BARQ-PA JAWANI THI, ZINDAGI BHI FAANI THI,,,,PHIR BHI TERI CHAHAT ME LUTF BE-BAHA PAYA,,,,,!! NAASIH JUNOON-E-ISHQ ME KYA MASLEHAT KA DAKHL,,,,IK JAAN KA ZEYA’N HAI SO KOI ZEYA’N NAHI,,,,!! At the end I want to conclude his great works with so impressive Lines that appealing each and everyone in the World…………..ZINDAGI MAUT SE BAD-TAR HUE JATI HAI “SALEEM”,,,,LEKIN AB BHI WAHI JEENE KI HAWAS BAQI HAI,,,!!

    Muslim Saleem Bahut shukriay Ahmad Ali Khan sb. Jab tak aap jaise qadrdaan maujood hain. Urdu adab zinda rahe ga.

  2. urdu adub aap jaisay zindah dil wa zameer logonn k dum say zindah hay awr aap jaisay adeeb wa shaiyer hi urdu zubaan ki asle pehchaan hn ;; ALLAH KRAY JUZB WA SHOAQE- KHIDMUT-EZUBAN AWR BHI ZYADAH ;; AAMEEN SUMMA AAMEEN ;;; SALAM MAUHTARUM DR SALEEM WAHID SALEEM AWR MUHTARUM MUSLIM SALEEM BHAYI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s