Barqi Azmi as seen by Aziz Belgami

احمد علی برقی اعظمی
ایک ہمہ جہت شخص، ایک بے مثال فن کار
عزیز بلگامی
غالباً ۷۰۰۲ئ کی بات ہے ،اُردو بندھن ڈاٹ کام جدہ ، سعودی عربیہ کے ناظمِ اعلیٰ جناب سالم باشوار صاحب نے گو کہ پہلی بار کال کی تھی،لیکن یہ پہلی کال ہونے کے باوجود پہلی کال نظر نہیں  آتی تھی، کیوں  کہ صاحبِ اُردو بندھن نے اپنی پہلی ہی کال میں  ہم سے اِتنی طویل گفتگو فرمائی تھی،کہ گمان ہوتا تھا، جیسے وہ ہم سے زمانہ  دراز سے رفاقت کے بندھن میں  بندھے ہوئے ہوں ۔گفتگو کا موضوع تھاصرف اور صرف اردو اور اِس کا فروغ ۔دراصل سالم باشوارصاحب کا شمار اُردو کے اُن عشاق میں  ہوتا ہے،جنہوں  نے انٹرنیٹ پرخدمتِ زبان و ادب کی قسم کھا رکھی ہے۔ یہ وہ احباب ہیں  جن کی خدماتِ اُردو کا ثانی بڑی مشکل سے ملتا ہے۔جب فیس بک سے لوگ ابھی مانوس بھی نہیں  تھے، جیسا کہ آج نظر آتے ہیں ، تبھی سے سالم باشوار صاحب نے بڑے اہتمام کے ساتھ اُردو بندھن ڈاٹ کام کے نام سے ایک عالمی محفل شعر و سخن کی سجا رکھی تھی ،جہاں  شعرائ جوق در جوق حاضری دیتے، کلام پوسٹ کرتے اور اِس طرح داد و تحسین کا دو طرفہ دورگرم رہتا، جو آج بھی جاری ہے۔اِس سائٹ پر ہماری شعری تخلیقات کے علاوہ ہماری نثربھی شائع ہونے لگی ۔ سا لم صاحب ہماری نثرنگاری سے بہت متاثر تھے اور یہی شئے اُن کے مذکورہ کال کا محرک بنی تھی۔چونکہ ہم بھی اِسی سائٹ کے ذریعہ انٹر نیٹ پر نیے نیے وارد ہوئے تھے ،تو نیے میڈیا کے آداب سے ابھی ناواقف ہی تھے، چنانچہ اُردو بندھن پر مصروفِ شعر و سخن فنکاروں  سے ہمیں  زیادہ واقف ہونے کا موقع نہیں  ملا تھا۔سالم بھائی نے اپنی پہلی گفتگو کے دوران ہمیں  سب سے پہلے جس شخصیت سے متعارف کرایا تھا اُن کا نام تھا احمد علی برقی اعظمی۔ موصوف کے فون نمبر سے بھی سالم بھائی نے یہ کہتے ہوئے واقف کرایا تھا کہ ہم اُن سے رابطہ کریں ۔لیکن ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گیے تھے کہ ہم سے پہلے ہی برقی صاحب نے فون پر ہم سے رابطہ کیا تھا اورکی وہ کیفیت پیدا کر دی تھی کہ فی الواقع پہلی ہی ملاقات میں  ہم اُن کے گرویدہ ہوگیے تھے ، اور یہ گرویدگی اوریہ تاحال برقرار ہے اور اِن شائ اللہ جب تک جان رہے گی، رفاقت کا یہ تعلق برقرار رہے گا۔پہلی ہی ٹیلی فونک گفتگو میں  ہمیں  یہ احساس ہو گیا تھا کہ ایک نہا یت ہی نفیس انسان ہمارے حلقہ احباب کا حصہ بن گیا ہے اور جس کی رفاقت پر بجا طور پر ناز کیا جاسکتا ہے۔

۰۱۰۲ئ کے اوائل میں  مشرقی ادیان اور اِسلام کے موضوع پر دہلی میں  ایک عالمی کانفرنس منعقد ہوئی تھی،جس میں  ہم نے بھی اپنا مقالہ پیش کیا تھا، اِس موقع پر وہ ہماری قیام گاہ پر تشریف لائے اور یہی ہماری پہلی ملاقات تھی اور جب تک دہلی میں  ہمارا قیام رہا اُن سے ملاقاتیں  اور گفتگوئیں  ہوتی رہیں ۔ وہ اپنے دولت کدے پر بھی لے گیے، اپنی کتابیں  عنایت کیں  اور ہماری خوب مہمان نوازی فرمائی۔ اِس سارے عرصے میں  اُن کی یادوں  کا جو پیکر قلب و ذہن میں  اُتر آیا تھا وہ بالکل وہی تھا ، جو ملاقات سے پہلے بنا ہوا تھا۔یعنی ایک شریف النفس انسان کا پیکر، جو اُس تصو ری پیکر کے عین مطابق تھا جوہمارے مذکورہ پہلے
کے وقت وجود میں  آیا تھا۔اُن کے مزاج کی سادگی اور اُن کے محبانہ سلوک کی گرمی کو قریب سے محسوس کرنے کا موقع ملا۔اُ ن کی عطا کردہ کتابوں  میں  اُن کے والد محترم کاضخیم مجموعہ کلام بھی تھا، جسے دیکھ کربے ساختہ علامہ اِقبال علیہ رحمہ کا یہ شعر ہماری زبان پر جاری ہوگیا

باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
پھر پسر وارثِ میراثِ پدر کیوں  کر ہو

اور تب کہیں  جاکراُن کی زبان دانی اور زود گوئی،کئی زبانوں  پر اُن کا عبور، خصوصاً فارسی زبان سے اُن کا شغف ، اُن کی متنوع شعری اور ادبی مصروفیتوں  کے راز پر سے پردہ اُٹھ گیااور یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی کہ ایک باکمال بیٹا اپنی فن کارانہ صلاحیتوں  کے ذریعہ ایک ذی مرتبت فن کارباپ کی فکری و علمی وراثت کی ہرشق کو ازبر کیے ہوئے ، اُن کی روایتوں  کا پاسدار اور میراث پدر کا وارث بنا ہوا ہے۔اور چونکہ وہ خود بھی بے پناہ شعری صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے۔ چنانچہ اُس کی شعری و علمی گل افشانیاں محض اُس کے ذاتی تسکین کا سامان ہر گز نہیں  ہی ،بلکہ وہ اِسی علمی و ادبی وراثت کو آگے بڑھانے میں  مصروف ہے۔ دریں اثنائ انٹرنیٹ کے لیے اُن کا مثبت یا رجحان وہ کام کرگیا کہ حضرت برقی، برقی لہروں  کے دوش پرسوار ہوکر مذکورہ وراثت کے ساتھ دنیا کے اُن گوشوں  میں  پہنچ گیے، جہاں  اُردو ادب کی شمعیں  اِن ہی روایات کے اُجالے پھیلانے میں  مصروف ہیں  اور برقی صاحب جیسے صاحب فکر و فن کے استقبال کے لیے آنکھیں  بچھائے کھڑی ہیں ۔

جہاں  تک اُن کی فکر ی جولان گاہ اور اِس کی وسعت کی بات ہے، تو جیسا کہ ہم نے عرض کیا،اِس کا دائرہ عالمی سطح تک پھیل گیا ہے اور فکر و فن کی مختلف جہتوں  کے ساتھ وہ مصروفِ سخن نظر آتے ہیں ۔آج دُنیا کی کوئی معروف آن لائن انجمن ایسی نہیں  جہاں  حضرتِ برقی کی برق رفتار شاعری کی رسائی نہ ہوئی ہو۔ ایک طرف وہ ہر صنفِ سخن میں  اپنی تخلیقیت کے کامیاب تجربے کرتے ہیں ،تودوسری طرف تازہ تخلیقات کو معرضِ وجود میں  لانے کا کوئی موقع وہ ہاتھ سے جانے نہیں  دیتے۔مثلاً کسی انجمن پر کسی مصرعِ طرح کا اعلان ہوتا ہے تو سب سے پہلی غزل برق رفتاری کے ساتھ کسی کی پہنچتی ہے تو وہ حضرت ِ برقی کی ہی ہوتی ہے۔کسی کتاب کی تقریبِ رونمائی ہو، کسی کتاب کا اجرائ ہورہا ہو تو برقی صاحب کی رگِ سخن پھڑک جاتی ہے او ر کم از کم ۷ شعروں پر مشتمل منظوم خراج تحسین پیش کر ہی دیتے ہیں ۔خود بھی خوش ہوتے ہیں  اور اپنے ممدوح کو بھی بے شمار خوشیاں  عطا کر جاتے ہیں ۔

یادِ رفتگان، کے ذیل میں  تو اُنہوں  نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے کہ مرحومین کی روحیں  تک فرحت محسوس کرتی ہوں  گی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اِس ضمن میں  اُنہوں  نے قابلِ قدرو قابل تقلید مثالیں  قائم کی ہیں ۔ شعرائ اور ادبائ سمیت زندگی کے مختلف میدانوں  میں  مصروف مختلف  کی رحلت پر وہ ملول ہو اُٹھتے ہیں  اور جب تک اُن پر تعزیتی نظم نہیں  کہہ لیتے اُنہیں  چین نہیں آتا۔ایسا کرتے ہوئے وہ کسی قسم کی ذہنی تحفظات کوخاطر میں  نہ لاتے ہوئے ہر قسم کی شخصیت کو اپنا موضوعِ سخن بناتے ہیں ۔ایک طرف علامہ اِقبال پر شعر کہتے ہیں  تو دوسری طرف فلمی اداکار راجیش کھنہ کو بھی اپنے شعروں  کا موضوع بنا تے ہوئے کسی قسم کا تامل محسوس نہیں  فرماتے۔
اِس سے نہ صرف اُن کی بے پناہ دردمندی اِنسانیت کا اِظہار ہوتا ہے، بلکہ وہ آرٹ اورفن کی دُنیا کے ہر فرد کے لیے اپنے دل میں  قدردانی کے حقیقی جذبات کی پرورش کرتے نظر آتے ہیں  ۔ وہ اِنسانیت نواز شاعر ہیں  اور یہی اِنسانیت نوازی اُنہیں  مولانا الطاف حسین حالی کے ساتھ ایم ایف حسین جیسے کسی مصور پر بھی شعر کہنے سے کبھی روک نہیں  پاتی ہے۔دراصل اِس کے لیے بڑی اعلیٰ ظرفی کی ضرورت ہوتی ہے، اللہ تعالی نے اِس ظرفِ عالی سے برقی صاحب کو خوب نوازا ہے۔ ایک ایسے زمانے میں  جب ایک شاعر دوسرے شاعر کی ٹانگ کھینچنے سے کبھی نہیں  ہچکچاتا ،دوسروں  کی شاعری کو ہدفِ ملامت بنانے سے ذرہ برابر نہیں  چوکتا، اورصرف خود کو لوگوں  کی توجہ کا مرکز بنانے کی فکر میں  لگا رہتا ہے ، ایسے میں  برقی صاحب جیسے اِنسان دوست شاعر کا وجود بسا غنیمت ہے،اوراِن کا یہ طرز عمل قابلِ ستائش ہی نہیں  بلکہ قابلِ تقلیدبھی ہے۔

یہ برقی صاحب ہی کا ظرف ہے کہ وہ ایک طرف وہ فراق گورکھپوری،نظیر اکبر آبادی،ابن انشائ،اِظہار اثر، علامہ اِقبال،امیر خسرو،آرزو لکھنوی،حفیظ میرٹھی،احمد فراز،رحمت اِلٰہی برق اعظمی،اصغر گونڈوی،ناصر کاظمی،جوش ملیح آبادی،دلاور فگار،حسرت موہانی،میر تقی میر،مظہراِمام،راغب مراد آبادی،صبا اکبر آبادی،عمر خیام،عزم بہزاد،خواجہ الطاف حسین حالی،مرزا غالب،جیسے شعرائ کو بعد از مرگ اپنا منظوم خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں ، تو دوسری جانب فلمی شعرائ جیسے کیف بھوپالی،کیفی اعظمی،مجروح سلطان پوری پر نظمیں  کہہ کر ہمارے متذکرہ دعوئوں  کا ثبوت پیش فرماتے ہیں ۔پھر یہ کہ وہ صرف شعر و سخن اور علم و ادب ہی کے میدانوں  میں  کام کرنے والوں  کو یاد نہیں  کرتے، بلکہ زندگی کے ہر میدان میں  اپنی اپنی صلاحیتوں  کا لوہامنوانے والے فنکاران مرحومین پر اُن کی موت پر منظوم شعری عقیدت کا اِظہار کرتے ہیں ۔حتیٰ کے فلمی اداکاروں  ، موسیقاروں  ، مصوروں اور غزل گا ئیکی کے شہسواروں  کوبھی اپنی منظومات کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ، جیسے نوشاد علی،جانی واکر،راجیش کھنہ،محمد رفیع،جگجیت سنگھ،مہدی حسن،مقبول فدا حسین ،منصور علی خان پٹوڈی۔ہمارے بزرگ شعرائ کو بھی وہ بھولتے نہیں  ہیں ،جیسے اسرار الحق مجاز،بابائے اُردو عبدالحق،پروفیسر مغنی تبسم،میر انیس،مظفر رزمی،مظفر وارثی،شہید اردو نرائن پانڈے،پروفیسر وہاب اشرفی،وغیرہ۔یہاں  تک کہ پڑوسی ملک پاکستان کے فنکاران معین اختر،پروین شاکر،مقبول صابری قوال،فیض احمد فیض،کو بھی یاد رکھتے ہیں ۔اِن کے علاوہ،منشی پریم چند،نوح ناروی،پروفیسرامیر حسن عابدی، ابو الکلام آزاد، امام غزالی،شبلی نعمانی،سرسید احمد خان،سید صادقین نقوی،سعادت حسن منٹو،رضیہ بٹ،ہاجرہ مسرور،حکیم اجمل خان صاحب،مولانا انیس احمد اصلاحی، حیدرعلی ریاستِ میسور،کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ثابت کرتے ہیں  کہ وہ وسیع الظرفی کی عظیم نعمتِ خداوندی سے نوازے گیے ہیں ۔
وہ کسی کی ستائش بھی کرتے ہیں  تو بہ زبانِ شعر کرتے ہیں ۔میں  تو کہتا ہوں  کہ اُن کی نس نس میں  شاعری بھری ہوئی ہے۔اُن کی رگِ سخن وقفے وقفے سے نہیں  پھڑکتی، بلکہ وہ مسلسل حالتِ اِرتعاش میں  رہتی ہے۔ پھر اُن کے مزاج کایہ پہلو بھی نہایت شاندار ہے کہ اُنہوں  نے کبھی کسی پر تنقید نہیں  کی نہ کسی فن کار کو دکھ پہنچایا۔ہر فنکار کا احترم کیا اور ستائش ہی سے نوازا۔کسی کی تخلیق پرکمنٹس بھی دیے تو دل کھول کر تعریف کے ساتھ ہی دیے۔

ہم نموتاً اُن کے کچھ تعزیتی شعر پیش کرتے ہیں ۔ نشتر خیر آبادی کے بار ے میں  جو نظم کہی اُس کے یہ شعر ملاحظہ ہوں

بادہ عرفاں  سے ہے سرشار اِن کی شاعری
رنگ میں  ہے اُن کے فکر وفن کا دل کش اہتمام
اُن کی غزلیں  بخشتی ہیں ذہن کو اک تازگی
دیتی ہیں  وہ اہلِ دِل کوبادہ عرفاں  کا جام

مشتاق احمد یوسفی

اُردو ادب کو اُن پہ ہمیشہ رہے گا ناز
اُن کی نگارشات ہیں  عالم میں  انتخاب
گلہائے رنگا رنگ کی خوشبو سے جا بجا
ہے گلشنِ ادب میں  معطر ہر اک کتاب

فرمان فتح پوری کی موت پر یہ شعر کہے

ممتاز ہیں  اُردو میں  سب اُن کے ادب پارے
اس دور کی تھے عظمت فرمان فتحپوری
آیا ہے یہاں  جو بھی جانا ہے اُسے برقی
کیوں  کرتے نہ پھر رحلت فرمان فتحپوری

کیفیتِ آمد سے مملواِن اشعار سے یہ اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں کہ وہ ایسے شعر رسماً نہیں  کہتے بلکہ اِن میں  مکمل فن کارانہ خلوص کارفرما ہوتا ہے۔ بلاشبہ برقی صاحب ایک زُود گوشاعر ہیں ۔ اِن کا بس چلے تو گفتگو بھی شاعری میں  کریں  گے۔ بس کیوں  نہیں  چلے گا،بس تو ضرورچلے گا ، لیکن اُن کا ساتھ دینے کے لیے اُن کا ہم پلہ اور زود گو شاعر کہاں  سے آئے گا۔اُن کی طرحی غزلوں ، فی البدیہہ نعتوں  ،مختلف تہواروں ، تاریخی ایام کے سلسلے میں  اُن کی منظومات کا ایک دفتر ہے جو انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔چونکہ وہ فارسی ، اردو اور انگریزی زبانوں  پر مہارت رکھتے ہی اِس لیے اُنہوں  نے منظوم تراجم بھی دُنیائے ادب کی خدمت میں  پیش کیے ہیں ۔ تعجب ہوتا ہے کہ اِس قدر شریف النفس شاعر وادیب اِس دورِ بے ضمیرمیں  پیدا کیسے ہوا کہ اِتنی زبردست صلاحیتوں  کے باوجود وہ اپنی سادہ مزاجی کے حوالے سے ایک لمحے کو بھی کسی کویہ محسوس کرنے نہیں  دیتا کہ وہ ایک عظیم شخصیت کا مالک عالمی شہرت یافتہ قلمکارو شاعر ہے، جس کے سینے میں  ایک ایسا دھڑکتا دل ہے،جس میں  انسانوں  سے عموماً اور فنکاروں  سے خصوصاً ، التفات و اُلفت کا ایک ٹھاٹیں  مارتا ہوا سمندرموجزن ہے۔

انٹر نیت اِس دور کے مثبت سوچ رکھنے والے تخلیق کار انسانوں  کے لیے اللہ کا ایک انعام ہے،اور اُن ہی کے لیے انعام ہے ، جن کے پاس عالمِ اِنسانیت کو دینے کے لیے ضرورکوئی نہ کوئی پیغام ہی۔لیکن افسوس کے ابھی یہ عام نہیں  ہے۔ بہت کم شعرائ ہیں  جو اِس سے جڑے ہوئے ہیں  ۔ ممکن ہے ابھی دو دہے تو ضرور درکار ہوں  گے جب اردو کے باکمال فنکار اپنے فکر و فن سے عوام کو روشناس کرا نے کے لیے انٹر نیٹ کی دُنیا میں  قدم رکھیں  گے اور خود اپنے مقام و مرتبے کا ادراک کر پائیں  گے۔ خوش نصیب ہیں  وہ شعرائ جنہیں  فی زمانہ یہ موقع ملا ہوا ہے کہ وہ انٹر نیٹ کو اپنی شاعری و قلمکار ی کے فروغ کا ذریعہ بنا ئے ہوئے ہیں ۔لیکن چونکہ یہ عام نہیں  اِس لیے ہم سب ایک غیر محسوس حقیقت کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں کہ انٹر نیٹ کے شعرائ کو عالمی شہرت تو مل جاتی ہے ، لیکن عوام میں  پھر بھی وہ غیر مقبول ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ وہ توکہیے کہ برقی صاحب اور ہم جیسے شعرائ کا شعری سفر انٹرنیٹ کی ایجاد سے پہلے بہت طویل عرصے سے جاری رہاہے، تو بجا طور پرہم پریہ بات یقینا صادق نہیں  آتی، ہاں ، ہمیں  اِس حقیقت کا اعتراف توہے کہ انٹرنیٹ ہماری شہرت سے زیادہ ہماری موجودہ شہرت کو چار چاند لگانے کا باعث ضرور بن گیا ہے۔

جہاں  تک اُن کے فن اور اُن کی شاعری کی بات ہے تو الحمد للہ علم و ہنر کی کئی نامور شخصیتوں  نے اِس فریضے کو خوب نبھایا ہے اور اُن کی شاعری پر سیر حاصل گفتگو اور اِظہار خیال کا حق ادا کر دیا ہے۔اِس لیے ہم صرف اپنے اِن ہی تاثرات پر اکتفا کرنا چاہتے ہیں ، جو گزشتہ سطور میں  پیش کیے جا چکے ہیں ۔اور دُعا گو ہیں  کہ اللہ تعالی ملت کے اِس عظیم شاعر کی عمر میں  برکت عطا فرمائے اور اُس کے نقشِ قدم پر ہمیں  بھی اپنے شعری سفر کی سمتیں  متعین کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

لے
نما

جشہ

اروو

About Muslim Saleem

Muslim Saleem (born 1950) is a great Urdu poet, writer and journalist and creator of massive directories of Urdu poets and writers on different blogs. These directories include 1. Urdu poets and writers of India part-1 2. . Urdu poets and writers of India part-II 3. Urdu poets and writers of World part-I 4. Urdu poets and writers of World part-II, 5. Urdu poets and writers of Madhya Pradesh, 6. Urdu poets and writers of Allahabad, 7. Urdu poets and writers of Shajahanpur, 8. Urdu poets and writers of Jammu-Kashmir and Kashmiri Origin, 9. Urdu poets and writers of Hyderabad, 10. Urdu poets and writers of Augrangabad, 11. Urdu poets and writers of Maharashtra 12. Urdu poets and writers of Tamil Nadu, 13, Urdu poets and writers of Karnataka 14. Urdu poets and writers of Gujarat, 15. Urdu poets and writers of Uttar Pradesh, 16. Urdu poets and writers of Canada, 17. Urdu poets and writers of Burhanpur, 18. Urdu poets and writers of West Bengal 19. Female Urdu poets and writers, 20. Hindu Naatgo Shuara etc. These directories can be seen on :- 1. www.khojkhabarnews.com 2, www.muslimsaleem.wordpress.com 3. www.urdunewsblog.wordpress.com, 4. www.khojkhabarnews.wordpress.com. 5. www.poetswritersofurdu.blogspot.in 6 www.muslimsaleem.blogspot.in 7. www.saleemwahid.blogspot.in (Life) Muslim Saleem was born in 1950 at Shahabad, Hardoi, Uttar Pradesh in India, brought up in Aligarh, and educated at Aligarh Muslim University. He is the son of the well-known Urdu poet Saleem Wahid Saleem. He has lived in Bhopal, India since 1979. (Education): Muslim Saleem studied right from class 1 to BA honours in AMU schools and University. He completed his primary education from AMU Primary School, Qazi Para Aligarh (Now converted into a girls school of AMU). He passed high school exam from AMU City School, Aligarh and B.A. Hons (Political Science) from Aligarh Muslim University Aligarh. Later, Muslim Saleem did M.A. in Arabic from Allahabad University during his stay in Allahabad. (Career) Muslim Saleem began his career as a journalist in the Urdu-language newspaper Aftab-e-Jadeed, Bhopal. He is multilingual journalist having worked on top posts with Dainik Bhaskar (Hindi), Central Chronicle (English), National Mail (English), News Express (English) and most recently as the chief copy editor of the Hindustan Times in Bhopal. At present, Muslim Saleem is English news advisor to Directorate of Public Relations, Government of Madhya Pradesh. (as on December 1, 2012). (Works and awards) Muslim Saleem has been appointed as Patron of Indo-Kuwait Friendship Society. He is the author of Aamad Aamad, a compilation of his poetry published by Madhya Pradesh Urdu Academi. Several of his couplets are well known in the Urdu language. He won the Yaad-e-Basit Tarhi Mushaira, a poetry competition, in 1982. In 1971, Muslim Saleem was awarded by Ismat Chughtai for his Afsana “Nangi Sadak Par” at AMU Aligarh. His ghazals and short stories have been published in Urdu-language publications Shair, Ahang, Asri, Adab, Agai, Naya Daur, Sada-e-Urdu, Nadeem and other periodicals and magazines. His work in service of the Urdu language was recognized in a special 2011 edition of the periodical Abadi Kiran, devoted to his work. Evenings in his honour have been organised in a number of cities. Muslim Saleem is currently compiling a massive database of poets and writers of the Urdu language, both historic and currently active. (Translation of Muslim Saleem’s work in English): Great scholar Dr. Shehzad Rizvi based in Washington has translated Muslim Saleem’s ghazal in English even though they have never met. Dr. Rizvi saw Muslim Saleem’s ghazals on websites and was so moved that he decided to translate them. (Praise by poets and writers) Great poet and scholar of Urdu and Persian Dr. Ahmad Ali Barqi Azmi has also written a number of poetic tributes to Muslim Saleem. Dr. Azmi and Muslim Saleem are yet to meet face to face. Beside this, great short-story writer and critic Mehdi Jafar (Allahabad, Bashir Badr (Bhopal), Jafar Askari (Lucknow), Prof. Noorul Husnain (Aurangabad), Kazim Jaffrey (Lahore) and a host of others have written in-depth articles defining Muslim Saleem’s poetry. (Muslim Saleem on other websites) Muslim Saleem’s life and works have been mentioned on Wikipedia, www.urduadab4u.blogspot.in, www.urduyouthforum.org and several other website. In fact, www.urduyouthforum.org has given credit to Muslim Saleem for lifting a number of pictures and entries from Muslim Saleem’s websites and blogs. (Address): Muslim Saleem, 280 Khanugaon, VIP Road, Bhopal-462001 Mobiles: 0 9009217456 0 9893611323 Email: muslimsaleem@rediffmail.com saleemmuslim@yahoo.com Best couplets: Zindagi ki tarah bikhar jaayen…… kyun ham aise jiyen ki mar jaayen kar di meeras waarison ke sipurd…. zindagi kis ke naam mar jaayen rooh ke karb ka kuchh mudaawa no tha doctor neend ki goiyan likh gaya wo dekhne mein ab bhi tanawar darakht hai haalanke waqt khod chuka hai jaden tamam My Facebook url is http://en-gb.facebook.com/pages/Muslim-Saleem/176636315722664#!/pages/Muslim-Saleem/176636315722664?sk=info Other blogs http://urdupoetswriters.blogspot.com/ http://muslimspoetry.blogspot.com/ http://abdulahadfarhan.blogspot.com/ http://ataullahfaizan.blogspot.com/ http://hamaramp.blogspot.com/ http://madhyanews.blogspot.com/ http://cimirror.blogspot.com/
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s