Shamoil Ahmad ke afasanon main ilm-e-nujoom ki manawiyat: Dr.Shaikh Aquil Ahmad

شموئل احمد كے افسانوں ميں علم نجوم كي معنويت

 لغت كے مطابق لفظ نجوم كے معني هيں ستارے يا سيّارے۔ ستاروں يا سيّاروںكے علم كو علم نجوم كهتے هيں۔هندي ميں اسے جيوتش شاشتر كهتے هيں۔بعض عالموں كے مطابق اسے جيوتي شاشتر بھي كها جاتا هے ۔اسي مناسبت سے جيوتش شاستر كے عالموں نے اس كا مطلب پركاش يعني روشني دينے والا يا روشني كے متعلق معلومات فراهم كرنے والاشاشتر اخذ كيا هے ۔اس مفهوم كي روشني ميں يه كها جا سكتا هے كه علم نجوم وه علم هے جو اپني روشني سے زندگي اور كائنات كے هر رازكوفاش كر تا هے اوردنيا كي هر شے كے متعلق جانكاري ديتا هے يهاں تك كه زندگي  اور موت كے راز كا بھي پته لگاتا هے۔ انسان كي زندگي ميں آنے والي خوشي اور غم كے متعلق بھي معلومات فراهم كرتا هے۔ اسي لئے قديم زمانے سے هي زندگي كے راز كے متعلق چھان بين كرنے كے لئے علم نجوم كا سهارا ليا جا تارها هے ۔علم نجوم كا سب سے اهم استعمال يهي هے كه يه انساني زندگي كے تمام رازوں كا تجزيه كرتا هے اور علامتوں كے ذريعے پوري زندگي پراس طرح روشني ڈالتا هے جس طرح چراغ اندھيرے كو ختم كركے هر شے كو ديدني بناديتا هے۔يهي وجه هے كه بيشتر لوگ اپنے اور اپنے اهلِ خانه كے مستقبل كے متعلق جاننے كے لئے كوشاں رهتے هيں۔ جب سے سيزيرين آپريشن كا رواج عام هوا هے تب سے بعض والدين اپنے بچے كي پيدائش كا دن اور وقت بھي جيوتشوں كي مدد سے طے كرنے لگے هيں۔ صرف اتنا هي نهيں هر شخص اپنے كسي اهم كام كا آغازكرنے كے لئے جيوتشيوں سے شُبھ دن اور وقت كا پته لگواتا هے يهاں تك كه شبھ گھڑي كا مهينوں انتظار كرتا هے۔ بڑے بڑے سياسي رهنما اور Corporater بھي جيوتشيوں كے مشورے كے بغير كچھ نهيں كرتے۔بعض بڑے ليڈر Nomination File كرنے سے لے كر  Oath لينے تك كا دن اور وقت جيوتشو كے مشورے سے طے كرتے هيں۔علم نجوم كي اهميت Corporate Secter ميں بھي كم نهيں هے۔Corporate Secter  كے تمام اعليٰ افسروں سے كسي بڑے Deal Business  سے پهلے اس كے عادات و اطوار اورپسند و ناپسند كے متعلق علم نجوم كي مدد سے جانكاري حاصل كي جاتي هے تاكه اس سے اس كے مزاج اور موڈ كے مطابق بات چيت كي جا سكے۔ علم نجو م كي مقبوليت كا يه عالم هے كه هندوستان كے بعض اهم يونيورسيٹيوں ميں علم نجوم كے شعبے قائم كئے جا رهے هيں۔

علم نجوم كے متعلق لكھي گئي تحقيقي كتابوں كے مطالعه سے معلوم هوتا هے كه يه انتهائي قديم علم هے۔ نيمي چند شاستري نے اس علم كي تاريخ كو چھ ادوار ميں تقسيم كيا هے۔پهلے دور كو انهوں نے٫٫ اندھكار كال٬٬،دوسرے دور كو ٫٫اُودَے كال٬٬، تيسرے  دوركو٫٫ آدي كال٬٬، چوتھے دور كو ٫٫پُروَ مدھ كال٬٬، پانچويں دور كو ٫٫اُتر مدھ كال٬٬ اور چھٹے  دوركو٫٫ آدھونك كال٬٬ كا نام ديا هے۔پهلا دور BC ٠٠٠٠١ سے پهلے كا هے ، دوسرا دور BC ١٠٠٠١سے BC ٠٠٥، تيسراBC ١٠٥ سے ٠٠٥ عيسوي تك هے، چوتھا ١٠٥ عيسوي سے ٠٠٠١ عيسوي تك،پانچوا ١٠٠١عيسوي سے ٠٠٦١ عيسوي تك اور چھٹا ١٠٦١عيسوي سے ١٥٩١عيسوي تك كا هے۔

علم نجوم پر لكھي جانے والي كتابوں ميں زياده تر مصنفوں نے كها هے كه اس علم كے موجد هندستاني هيں۔اس كي تاريخ متعين كرتے هوئے موّرخوں نے كه رِگ ويد كے حوالے سے لكھا هے كه آج سے انيس هزار﴿٠٠٠٩١﴾ سال پهلے هندستانيوں نے علم نجوم اور فلكيات كا گهرا مطالعه پيش كيا تھا۔وه آسمان ميں چمكتے هوئے تاروں اور سيّاروں كے نام، رنگ ،روپ اور ان كے shape سے بخوبي واقف تھے۔اس سلسلے ميں بے شمار مورخوں كے اقتباسات نقل كئے گئے هيں مثلاً البيروني نے لكھا هے كه:

٫٫ علم نجوم ميں هندو لوگ دنيا كي سبھي قوموں سے بڑھ كر هيں۔ ميں نے بے شمار زبانوں كے نمبروں كے نام سيكھے هيں،ليكن كسي قوم ميں بھي هزار سے آگے كے عدد كے لئے مجھے كوئي نام نهيں ملا۔هندوو ں ميں ٨١ نمبروں تك كے عدد كے لئے نام هيں۔٬٬

پروفيسر وِلسن نے لكھا هے كه:

٫٫هندستاني نجوميوں كي قديم زمانے سے هي خلفائ اور خاص كر هارون الرشيد نے اچھي طرح همت افزائي كي اور انعامات سے نوازا۔ماهرينِ علم نجوم بغداد بلائے گئے اور ان كي كتابوں كا وهيں ترجمه كرايا گيا۔٬٬﴿بھارتييه جوتش،نيمي چند، ص ٤٢﴾

علم نجوم كي تاريخ پر روشني ڈالتے هوئے ميكس مولر نے اپني كتاب ﴿India, What can teach us,p-361﴾ ميں لكھا هے كه كئي عالموں كا خيال هے كه كُشن كال﴿عهد﴾ كے بعد هندوستانيوں نے علم نجو م كے بهت سے اصول يونان اور روم سے سيكھے تھے ۔ليكن اس خيال سے اتفاق كرنے والے اس حقيقت كو بھول جاتے هيں كه خود يونانيوں نے كئي صدي عيسوي پهلے ٫بے بي لونه ٬كے لوگوں سے علم نجوم سيكھا تھا۔ بهر حال علم نجوم كے عالموں اور مورخوں كا متفقه خيال هے كه علم نجوم كے موجد هندستاني هي هيں۔ابتدا سے آج تك اس علم ميں بے شماراديبوں اور شاعروں نے اپنے كمالات كا مظاهره كيا هے اور اس علم سے متعلق كتابيں بھي لكھي هيں۔ان ميں مختلف زبانوں كے كئي شاعر و اديب شامل هيں جنهوں نے اس علم ميں نه صرف مهارت حاصل كي بلكه اپني تخليقات ميں بھي اس علم كا استعمال كيا۔مثلاً آج سے تقريباً دو هزار سال سے بھي پهلے كے شاعر كالي داس نے علمِ نجوم پر چھ كتابيں لكھي هيں۔ان كے نام يه هيں: ٫٫اُتّر كالامَرِت٬٬، ٫٫جاتك چندريكا٬٬،٫٫جَيوتِروِدابھَرن٬٬،٫٫سُوَر شاستر سار٬٬،٫٫رهسيه بودھ٬٬ اور٫٫نارد سِدّھانت بياكھيا ٬٬۔كالي داس نے اپنے گرنتھوں ميں بھي علم نجوم كي اصطلاحات كا استعمال كيا هے۔اس سلسلے ميں ڈاكٹر راج بلي پانڈے نے اپنے تنقيدي مضمون ٫٫وِكرَما دتيه٬٬ ميں لكھا هے كه جيوتش كے بهت سے سنكيت ﴿علامات﴾ كالي داس كے گرنتھوں ميں آئے هيں۔ اسي مضمون ميں ڈاكٹر بلي پانڈے نے علم نجوم كي قديم روايت سے بحث كرتے هوئے يه بھي انكشاف كيا هے كه رامائن ميں علم نجوم كے اصولوں كا استعمال كثرت سے كيا گيا هے۔مثال كے طور پر انهوں نے رامائن كے كئي شلوك بھي   پيش كئے هيں۔ سنسكرت زبان كے بعد هندي ميں بھي امرت لال ناگر نے ٫سورداس٬ كي زندگي پر٫٫كھنجن نين٬٬نام كا ايك ناول لكھا هے جس كي شروعات علم نجوم سے كي هے ۔اس كے علاوه انهوں نے ٫تلسي داس٬ كي زندگي پر بھي ايك كتاب ٫٫مانس كا هنس٬٬ لكھي هے جس ميں انهوں نے علم نجوم كے اصولوں سے سے كام ليا هے۔

اردو كے مشهور شاعر مومن خان مومن بھي علم نجوم كے ماهر تھے اور علم نجوم سے متعلق كئي قصّے اور كهانياں ان سے منسوب هيں۔

موجوده دور كے فكشن نگاروں ميں شموئل احمد نه صرف ايك اچھے فكشن نگار هيں بلكه ماهرِ علم نجوم بھي هيں۔اس علم سے متعلق ان كي ايك كتاب جلد هي منظر عام پر آنے والي هے۔شموئل احمد نے اپنے چند افسانوں ميں كرداروں كي عكاسي كرتے هوئے علم نجوم كا سهارا ليا هے۔ انهوں نے اپنے افسانوں ميں پهلے كرداروں كي جنم كنڈلي بنائي هے اوراس كي روشني ميں ان كرداروں كي شخصيت، ان كي زندگي ميں هونے والے واقعات وحادثات اورحركات و سكنات پر ايسے روشني ڈالي هے كه كهاني اور كهاني كے كرداروں كي زندگي ميں هونے والے تمام واقعات و حادثات خود بخود قاري كے دل و دماغ ميں اُ ترتے چلے جاتے هيں اور ايسا لگنے لگتا هے كه جو كچھ هو ا وه تو هونا هي تھا۔كيوں كه تمام كرداراپني قسمت كے ستاروں كي چال كے سامنے بے بس اور مجبور هيں۔

شموئل ايك انجينيركي شكل ميں حكومت بهار كےSystem كاحصه رهے هيں اس لئے انهوں نے بهار كي سياست كو نزديك سے ديكھا هے اور سمجھاهے۔ ذات پات كي بنياد پر مبني بهار كا سب سے بڑا سياسي Equation ٫٫مايا سميكرن ٬٬ ﴿يعني مسلم اور يادو سميكرن﴾ پر بھي ان كي گهري نظر هے۔لهٰذا  بهار كي سياست اور خا ص كر مايا سميكرن كو انهوں نے اپنے افسانوں اور ناولوں ميںخاص جگه دي هے۔ان كا ايك ناول ٫٫مها ماري٬٬ مايا سميكرن پر هي لكھا گيا هے۔ ان كے متعدد افسانوں ميں سياست اور سياسي رهنماو ں كو بے نقاب كيا گيا هے۔مثلاً ان كے افسانه ٫٫جھگ مانس٬٬ اور ٫٫القمبوس كي گردن٬٬ ميں سياسي رهنماو ں كوبطور كردار پيش كركے يه دكھانے كي كوشش كي گئي هے كه اقتدار حاصل كرنے كے لئے كس طرح سياسي رهنما پريشان رهتے هيں اور اپني پريشانيوں كا حل ڈھونڈھنے كے لئے اور اپنے مستقبل كا حال جاننے كے لئے جيوتشيوں كي مدد ليتے رهتے هيں۔اس لئے ان افسانوں ميں علم نجوم كے اصولوں كا استعمال كثرت سے هوا هے۔شموئل احمد كے افسانوں ميں سياست كے بعد جو موضوعات اهم هيں ان ميں جنس اور جنسي تلذذخاص هيں۔ان كا ايك افسانه٫٫ مصري كي ڈلي٬٬ هے جس كا مركزي كردار ٫٫راشده٬٬ ايك ايسي عورت هے جس پر محبت اور سيكس هميشه حاوي رهتے هيں۔اس كي وجه وه ستارے هيں جو اس كي جنم كنڈلي كے خانوں ميں موجود هيں ۔ شموئل احمد كے انهيں افسانوں كي روشني ميں علم نجوم كي معنويت سے بحث كي جائے گي۔

شموئل احمد نے جن افسانوں ميں علم نجوم كے اصولوں كاسب سے زياده استعمال كيا هے ان ميں افسانه ٫٫القمبوس كي گردن٬٬ كافي اهم هے۔اس افسانه كي بنياد هي علم نجوم كے اصول پر هے۔اسے پڑھ كرمعلوم هوتا هے كه افسانه نگار نے ستاروں كي دنيا آسمان سے اتار كر زمين پر بسائي هے۔اس افسانے كا عنوان هي قاري كو چونكا ديتا هے۔معلوم هوتا هے كه٫٫ القمبوس٬٬ عربي ادب كا كوئي قديم اسطوري كردار هے جسے افسانه نگار نے اپنے افسانے كا كردار بنا يا هے۔ بعض نقادوں كا خيال هے كه يه نام افسانه نگار نے خود وضع كيا هے ليكن محترمه نزهت قاسمي نے اس افسانے پر تبصره كرتے هوئے ٫٫القمبوس٬٬ كے متعلق عجيب و غريب معلومات فراهم كي هے۔معلوم نهيں كه يه حقيقت هے يا ان كے تخيل كي بلند پروازي كا كرشمه ۔محترمه فرماتي هيں:

٫٫بزرگوں سے ايسا سنا هے كه پانچ هزارسال قبل مسيح،مصر ميں يا كسي ايسے هي ديش ميںايك اجاڑ قريه تھاجس ميں صرف ايك آدمي ننگا قيام كرتا تھا۔اس آدمي كا نام تھا٫٫ا٬٬ تھوڑے دنوں بعد وهاں ايك بے ستري عورت كا گزر هوا۔اُسے وه ٫٫ا٬٬ اور وه قريه بهت پسند آيا ،تو اس نے وهيں اپنا ڈيره جما ليا ۔ اس عورت كا نام تھا٫٫ل٬٬ برسوں وه لوگ ايك دوسرے سے لڑتے رهے،ليكن ايك بار ان كي زندگي ميں ٫قُم ٬آ گيا اور پھر اس قم كے بعد ولادت هوئي ،ايك٫ بوس٬كي  دوسرے قريه والوں كو جب يه خبر پهنچي تو وه اس حيرتي قريے كو ديكھنے پهنچے اور وهاں پهنچ كر انهوں نے اس حيرتي قريے كا نام كرن كر ديا۔اب وه حيرتي قريه ٫القمبوس٬ تھا شموئل احمد كا ايك بار جب اس قريے سے گزر هوا تو اس نے اس ٫القمبوس كي گردن٬ ميں اپنے قلم كي نوك چبھو دي اور اس طرح شموئل احمد كي يه لافاني كتاب ٫القمبوس كي گردن٬ هم تك پهچي۔٬٬﴿استعاره، شماره ٢١ ٣١، اپريل  ستمبر ،دو هزار تين،ص ٨٢٢﴾

مندرجه بالا عبارت ميں جو معلومات فراهم كي گئي هيں وه چاهے حقيقت هوں يا افسانه، ليكن هے بهت دلچسپ اور زير بحث كهاني كي مناسبت سے يه نام كرن بهت خوب هے۔

اس كهاني ميںبھي چونكه افسانه نگار كو كهاني كي بنياد علم نجوم كے اصول پر ركھنا تھا اور اس ميں كسي ماهرِ علم نجوم كو بھي كردار بنانا تھا تاكه علم نجوم كے اصولوں كي مدد سے كهاني كو آگے بڑھايا جا سكے اور كهاني ميں دلچسپي پيدا كي جا سكے اس لئے كهاني كے اهم كردا ر كا نام عام ناموں سے هٹ كركچھ عجيب سا نام ٫القمبوس٬ركھا جو كسي اساطيري كهاني كا كردار معلوم هو ۔اس كردار كو مزيد عجيب و غريب اور مافوق الفطرت جيسا كردار دكھانے كے لئے اس كي گردن پر دوج كے چاند كا سبز رنگ كا نشان دكھايا جو بعد ميں تلوار كي شكل اختيار كر ليتا هے۔ايسے ميں كسي نجومي سے اس كي تعبير پوچھنا ضروري هے۔يعني كهاني ميں علم نجوم اور ماهر علم نجوم كا در آنا كهاني كي مناسبت سے عين فطري هے۔افسانه نگار نے ماهر علم نجوم يعني ملنگ اور علم نجوم كي اهميت كا احساس قاري كو دلانے كے لئے ملنگ كي شخصيت كي تصويراس طرح كھينچي هے:

٫٫ملنگ اپنے آستانے ميں موجود تھا۔اس كے مبتدي اس كو حلقے ميں لئے بيٹھے تھے ۔وه انهيں ستاره زحل كي بابت بتا رها تھا كه آتشيں برج ميں مريخ اور زحل كا اتصال خانه جنگي كي دلالت كرتا هے۔ملنگ كے گيسو خالص اون كے مانند تھے اور آنكھيں روشن چراغوں كي طرح منور تھيں۔اس كي سبھي انگليوں ميں انگوٹھياں تھيں جن ميں نگ جڑے تھے۔بائيں كلائي ميں تانبے كا كڑا تھا اور گلے ميں عقيق كي مالا جس ميں جگه جگه سنگِ سليماني اور زبر جد پروئے هوئے تھے۔ملنگ كا چهره صيقل كئے هوئے پيتل كي طرح دمك رها تھا۔٬٬﴿ص ٨٥﴾

واضح هو كه كسي نجومي ، ملنگ يا كسي پير اور فقير كي خدمت ميں زياده تر وهي لوگ جايا كرتے هيں جو يا تو پريشان حال رهتے هيں يا آنے والي پريشانيوں سے خوف زده رهتے هيں ۔ ايسے لوگوں كي آدھي پريشانياں ملنگ كي خارجي شخصيت يعني ان كے طور طريقے اور عجيب و غريب لباس كو ديكھ كر دور هو جاتي هيں اور باقي پريشانياں ان كي باتيں سن كر اور ان كي باتوں پر عمل كركے دور هوجاتي هيں۔اسي لئے افسانه نگار نے ملنگ كي شخصيت كو ديوي اور ديوتاو ں كي طرح غير فطري دكھانے كي كوشش كي هے اور اس كي زبان سے ان ستاروں كے متعلق بات كر تے هوئے دكھايا جن كے ملن سے كچھ نه كچھ غلط هوتا هے۔اسي لئے مندرجه بالا عبارت ميں ملنگ نے ستاره زحل كے متعلق بات كرتے هوئے بتايا هے كه آتشيں برج ميں جب اس ستارے كا ملن ستاره مريخ سے هوتا هے تو خانه جنگي كے امكانات بڑھ جاتے هيں۔ ماحول كو سنجيده بنانے كے لئے افسانه نگار نے مندرجه بالا عبارت كو لكھا هے۔ملنگ كو مزيد با كمال دكھانے كے لئے افسانه نگار نے ايك نوجوان كو پيش كيا هے جس كي بيوي اس سے الگ كر دي گئي هے اور وه اپني بيوي كے متعلق جاننا چاهتا هے كه وه اب اسے كب ملے گي۔اس سوال كے جواب كو ملنگ كي بيوي كے ڈول كے كنويں ميں گرنے سے جوڑ كر دكھايا گيا هے يعني ملنگ كي بيوي كے ڈول كا كنويں ميں گرنا اس بات كي علامت هے كه بيوي چل چكي اور دونوں پهلو به پهلو هوں گے كيوں كه كنويں ميںپاني كنبه كي مثال هے۔رسّي باهر كي طاقت هے جو ڈول كي مدد سے پاني كو كنويں كي مدد سے الگ كرتي هے۔رسّي ٹوٹ گئي اور ڈول گر گئي۔اب علحده كرنے والي طاقتيں كام كام نهيں كر رهي هيں۔يعني زوجه وهاں سے چل چكي۔ ملنگ كي ان باتوں سے حاضرين محفل كا يقين اور پخته هو جاتا هے اور جب ملنگ القمبوس كي گردن پر بنے نشان كے متعلق يه بتا تا هے كه ٫٫امير سلطنت كي كرسي كا پايه اس كي گردن پر ٹكے گا ٬٬ اور پھر اسي وقت امير عسطيه كو وهاں حاضر كركے افسانه نگار نے اميرعسطيه كے سوال كو اورالقمبوس كے باپ كو دئے گئے جواب سے جوڑ ديا جيسے نوجوان كے سوال كو ڈول كے گرنے سے جوڑ ديا گياهے۔يعني امير عسطيه كي پريشانيوں كا حل القمبوس كي گردن ميں پوشيده هے۔

 ملنگ نے امير عسطيه كا زائچه بنا كر اس طرح اظهار خيال كيا هے:

زائچه ميں شمس وزحل مائل به زوال تھے۔مشتري برج حدي ميں تھا۔عطارد اور زهره كا برج عقرب ميں اتصال تھا۔ملنگ نے بتايا كه مريخ جب سرطان سے گذرے گا تو اس كے تاريك دن شروع هوں گے۔مريخ برج ثور ميں تھا اور سرطان تك آنے  ميںچاليس دن باقي تھے۔عسطيه كي نظر تخت جمهوريه پر تھي ۔چاليس دن بعد امير كا انتخاب هونا تھا۔عسطيه كو فكر دامن گير هوئي۔ملنگ نے مشوره ديا كه ستاروں كي تسخير كے لئے وه مقدس كي تعمير كرے۔بخور جلائے اور ورد كرے تاكه اقتدار كي ديوي وهاں سكونت كر سكے٬٬۔

دراصل هر ستاره كو عروج بھي هے اور زوال بھي۔برج كواكب ميں هر ستارے كے لئے الگ الگ مخصوص مقام هے جهاں وه عروج پر هوتا هے يا زوال پر۔يعني هر ستارے كي ايك راشي ايسي هوتي هے جهاں وه يا تو عروج پر هوتا هے يا زوال پر۔شمس اس وقت زوال پر هوگا جب وه ميزان يعني تلا راشي ميں هوگااور زحل كے لئے برج حمل﴿ميگھ راشي﴾ زوال كي راشي هے۔ چوں كه زوال دربدري اور تنزلي كي علامت هے اس لئے افسانه نگارنے عسطيه كے زائچے ميں شمس وزحل كو مائل به زوال دكھايا هے۔مائل به زوال سے مراد هے كه وه پوري طرح زوال نهيں تھے۔يه اور بھي برا هے كيوں كه جو مائل به زوال هے وه زوال كو پهنچے گا۔مائل به زوال كا مطلب هے كه شمس كي entry برج ميزان ميں هوئي اور زحل كي entry برج حمل﴿ميگھ راشي ﴾ميں هوئي۔اس طرح دونوں ٹھيك آمنے سامنے هيں جو سعد نهيں هے كيوں كه دونوں كے آمنے سامنے هونے سے دشمني پيدا هوتي هے اور دونوں ستارے ايك دوسرے كو دشمن كي نظر سے ديكھتے هيں ۔اسي لئے ملنگ كهتا هے كه اس كے گردوغبار كے دن هوں گے۔مريخ يعني منگل جنگ و جدل كا ستاره هے ۔اور اليكشن ميں كاميابي اور سياست و اقتدار كے لئے اس كا طاقت ور هونا ضروري هے ليكن برج سرطان ميں وه زوال كو پهنچتا هے۔افسانه نگار نے اس زائچه كو عسطيه كے حق ميں نهيں دكھا يا هے۔برج ثور ميں مريخ ﴿منگل﴾خوش نهيں رهتا كيوں كه يه دشمني كي راشي هے۔جدّي ،مشتري كي زوال راشي هے جهاں وه كمزور هو كر بيٹھا هے۔عطارد اور زهره كے اتصال سے كام كرنے كا سليقه آتا هے۔زائچه ميں مريخ برج ثور ميں تھا۔زائچه كا مطلب پيدائش كے وقت جو ستارے جس برج ّ﴿راشي﴾ميں هوتے هيں وه مقام دكھايا جاتا هے۔جس وقت عسطيه ملنگ كے پاس آتا هے اس وقت مريخ برج ثور ميں گردش كر رها هے ليكن جب وه اپنے مدار پر گردش كرتا هوا سرطان ميں آئے گا تو زوال پر هو گا اور اس طرح كمزور هوجائے گا۔وهاں آنے ميں چاليس دن لگيں گے اور چاليس دن كے بعد اليكشن هے يعني اليكشن كے وقت مريخ كمزور پڑ جائے گا۔سرطان ميں هونے سے يه پيدائشي زحل اور شمس سے مركز ميں هو گا جو خود بھي مائل به زوال هيں۔اس لئے زوال هي زوال عسطيه كا نصيب هے۔ ليكن عبادت اور وردسے اسے روكا بھي جا سكتا هے اور راهِ راست پر لايا بھي جاسكتا هے۔اس لئے ملنگ كهتا هے كه ستاروں كي تسخير كرواور اس طرح وه پوري تركيب سے ستاروں كي تسخير كرتا هے۔افسانه نگار نے عبادت اور ورد كے ذريعه ستاروں كي تسخير كي بات كهه كر اس بات كي طرف اشاره كيا هے كه علم نجوم كا تعلق جهاں علم رياضي سے هے وهيں اس كا تعلق اسطور سے بھي هے۔علم نجوم ميں هر ستاره يا سياره اور نچھتر كسي نه كسي ديوتا كو  represnet كرتا هے۔ مثلاً شمس شيو،وشنواوركرشن كو، قمر شيو كو، مريخ هنومان كو،عطارددُرگا كو،مشتري وشنو كو، زهره گرُوكوrepresent  كرتے هيں۔ويدوں ميں كها گيا هے كه تمام گرهوں كا مالك شمس هے اور تمام گره شمس سے هي طاقت حاصل كرتے هيں ۔يهي وجه هے كه تمام سيّاروں يا ستاروں ميں نفع اور نقصان پهنچانے كي صلاحيت پائي جاتي هے اور انهيں صلاحيتوں سے انسان كو نفع يا نقصان پهنچا سكتے هيں۔ان سيّاروں كو انسان كي قسمت كو سنوارنے والا اور برباد كرنے والا كها جاتا هے۔يه سيّارے اپنے اثرات سے راجه كو رنك اور رنك كو راجه بنا ديتے هيں۔ هندو مائيتھولوجي كے مطابق هندوستاني علم نجوم كا رشته روحانيت اور ماديت دونوں سے هے۔روحانيت كي صورت ميں يه٫٫ برهمه٬٬اور ماديت كي صورت ميں عيش و عشرت كے سامان حاصل كرنے كا راسته دكھاتا هے۔هندو مائيتھولوجي كے مطابق سيّاروں كے ذريعه دھن،دولت، راهِ راست اور دوسري تمام دلّي تمنّاو ں كي تكميل هوجانے كے بعد انسان خود٫٫ برهمه٬٬ كو حاصل كرنے كي طرف گامزن هوجاتا هے۔واضح هو كه٫٫ برهمه٬٬ كو حاصل كرنے سے مراد حصول ِعلم هے۔ علم حاصل هوتے هي ٫٫برهمه ٬٬كا ديدار هوجاتا هے۔يهي علم نجوم كاانتهائي پوشيده  راز هے۔ اس طرح كها جا سكتا هے كه علم نجوم سب سے پهلے ظاهري يا مادي خوشي حاصل كر نے كا راسته دكھاتا هے اس كے بعد روحانيت كي طرف انسان كو گامزن كر ديتا هے۔

بهرحال ملنگ كے مشورے كے مطابق ستاروں كي تسخير كے لئے ٫٫مشتري كي ساعت ميں مقدس كي تعمير شروع هوئي۔٬٬افسانه نگار نے  مقدس كي تعمير اس طرح كي هے كه معلوم هوتا هے كه ستاروں كي دنيا آسمان سے اُتر كر نيچے زمين پر بس گئي هے۔ذرا يه عبارت ديكھئے:

٫٫بيضوي شكل ميں صحن كي گھيرا بندي كي گئي جس كا قطر جنوب شمال سمت ميں ستّر هاتھ تھا۔اور مغرب مشرق سمت ميں پچاس هاتھ تھا۔صحن كے كنارے كنارے باره برجوں كي تعمير هوئي۔چاند كي اٹھائيس منزلوں كے لئے برجوں ميں اٹھائيس خانے بنائے گئے۔صحن كے بيچوں بيچ شمس كے لئے ايك ستون بنايا گيا جس كي اونچائي سات هاتھ ركھي گئي۔ستون كے گرداگرد قمر، زهره عطارد، مشتري اور زحل كے لئے ايك ايك ستون كي تعمير هوئي جس كي اونچائي پانچ هاتھ ركھي گئي۔زهره كا ستون برج ثوراور ميزان كے بيچوں بيچ عطارد كا جوزه اور اور سنبله كے بيچ مريخ كا ،حمل اور عقرب كے بيچ ،مشتري كا قوس اور حوت كے بيچ ،زحل كا جدي اور ولو كے بيچ قمر كا ستون برج سرطان كے مطابق ركھا گيا۔شمس كے ستون كو نارنجي رنگ سے، قمر كے ستون كو زعفراني رنگ سے زهره كے ستون كو سفيد رنگ سے، عطارد كے ستون كو سبز رنگ سے،مريخ كے ستون كو سرخ رنگ سے ، مشتري كے ستون كو چمپئي رنگ سے اور زحل كے ستون كو سياه رنگ سے رنگا گيا۔صحن كے چاروں طرف قناتيں لگائي گئيں۔راهو اور كيتو كے لئے دو گڈھے كھودے گئے۔ايك زحل كے ستون كے قريب اور دوسرا مريخ كے ستون كے قريب۔برج كو روشن كرنے كے لئے تانبے كا شمع دان بنايا گيا۔شمع دان كا پايه اور ڈنڈي گھڑ كر بنائے گئے۔شمع دان كے پهلو سے سات شاخيں نكالي گئيں۔هر شاخ پر ايك پيالي گھڑ كر بنائي گئي۔ورد كے لئے صحن كے بيچوں بيچ شمس كے ستون كے قريب ايك مسكن بنايا گيا جس كي لمبائي چار هاتھ اور چاڑائي تين هاتھ تھي۔مسكن ميں شيشم كي لكڑي كے تختے لگائے گئے۔مسكن سے دس هاتھ هٹ كر قربان گاه بنائي گئي جس كي لمبائي دس هاتھ اور چوڑائي آٹھ هاتھ تھي۔قربان كي اونچائي ڈھائي هاتھ ركھي گئي۔اس كے چاروں خانے پر سينگ اور ترشول بنائے گئے جسے چاندي سے مڑھا گيا۔٬٬ ص ١٦

 مندرجه بالا عبارت ميں افسانه نگار نے يه كهه كر كه٫٫ بيضوي شكل ميں صحن كي گھيرا بندي كي گئي٬٬ اس بات كي طرف اشاره كيا هے كه بيضوي شكل ﴿ Solar System ﴾ميں شمس﴿ يعني Sun﴾ كا Orbit بيضوي﴿elliptical ﴾ هوتا هے۔ اس عبارت ميں باره برج ﴿راشي﴾ كے خانے هيںجهاں شمس هر ماه باري باري سے داخل هوتا هے۔هر برج كا ايك مالك هوتا هے۔افسانه نگار نے زهره كے ستون كو برج ثور اور ميزان كے بيچ اس لئے ركھا هے كه ثور اور ميزان راشي كا مالك زهره هے۔گرهوں كے رنگ كي مناسبت سے ستونوں كو رنگا گيا هے۔شمس كا رنگ نارنجي، قمر كا زعفراني، زهره كاسفيد، عطارد كا سبز، مريخ كا سرخ، مشتري كا چمپئي اورزحل كا سياه هوتا هے۔افسانه نگار نے راهو اور كيتو كے لئے دو گڈھے كھدوا كر اس بات كي طرف اشاره كيا هے كه يه دونوں گڈھے كي علامت هے۔ساتھ هي اس بات كي طرف بھي اشاره كيا هے كه ان كا تعلق ٫٫اَمرت منتھن٬٬ كي متھ ﴿Myth ﴾ سے هے۔هندو مائيتھولوجي كے مطابق جب سمندر منتھن كيا گيا تو اَمرت پينے كے لئے تمام ديوتا آئے ان كے ساتھ راكشس بھي صف ميں كھڑا هو گياتو وشنوں نے ٫جراسے٬راكشس كو دو ٹكڑے كر ديئے۔سر راهو هے اور دھڑ كيتو۔اس لئے سر كو راهو كے گڈھے ميں اور دھڑ كو كيتو كے گڈھے ميں دفنايا جاتا هے۔اسي لئے افسانه نگار نے آگے لكھا هے :

٫٫ملنگ نے بتايا كه صبح كي پهلي كرن كے ساتھ امير خود ورد كرے۔ورد سے پهلے بحور جلائے اور شمع روشن كرے۔شمس، قمر، عطارد،زهره، مريخ، مشتري اور زحل كے ستون پر بالترتيب شمع روشن هوگي پهلے شمس كي ستون پر آخر ميں زحل كے ستون پر۔اقتدار كي ملكه قرباني چاهتي هے۔قرباني كي جنس كا سر راهو كے گڈھے ميں اور دھڑ كيتو كے گڈھے ميںدفن هوگا اور قرباني كي ساعت مريخ كي ساعت هوگي۔٬٬

افسانه نگار نے يه كهه كر كه٫٫ قرباني كي ساعت مريخ كي ساعت هوگي۔٬٬ يه بتانے كي كوشش كي هے كه مريخ مارتا هے اور هتھيار بھي هے۔اس لئے مريخ كي ساعت ميں ٫٫القمبوس٬٬قسمت كا مارا وهاں آتا هے اور قرباني كے لئے قتل هو جاتا هے۔

شموئل احمد نے اپنے دوسرے افسانے٫٫ جھگ مانس٬٬ ميں سياسي رهنماو ں كے هتھكنڈے كو بے نقاب كرتے هوئے يه بتانے كي كوشش كي هے كه كس طرح اليكشن جيتنے كے لئے بد امني پھيلائي جاتي هے اور بے گناه لوگوں كي جان و مال سے كھيلا جاتا هے۔اس افسانے كا مركزي كردار كانگريس كا Highly Ambitious ليڈر كپورچند ملتاني هے جو هر قيمت پر اليكشن جيتنا چاهتا هے ليكن اس كي قسمت اس كا ساتھ نهيں ديتي هے اور اس كي هر چال الٹي هو جاتي هے۔اقليت كے ووٹ حاصل كرنے كے لئے شهر ميں دنگا كرواتا هے جس كي آگ ميں پورا شهر جل اٹھتا هے ليكن اس كا فائده بي جے پي كو هوتا هے اور اس كا اميدوار اليكشن جيت جاتا هے۔

شموئل احمد نے اس افسانے كي شروعات جس جملے سے كي هے اس ميں علم نجوم كي اصطلاح٫٫شني كي ساڑھے ساتي٬٬كا استعمال كيا هے۔جمله يه هے۔٫٫كپور چند ملتاني كو شني كي ساڑھے ساتي لگي تھي٬٬۔ علم نجوم كے مطابق ٫٫شني كي ساڑھے ساتي٬٬ سے مراد شني يعني زحل كي نحس چال هے۔شني اپنے مدار پر گھومتا هوا جب زائچه كے قمر يعني چندرما كے عين پيچھے والے برج ميں آتا هے تو ٫٫ساڑھے ساتي٬٬ شروع هوتي هے اورچال اس وقت تك نحس سمجھي جاتي هے جب شني گھومتا هوا قمر سے تيسري برج﴿راشي﴾ پر نهيں آجاتا۔چونكه شني كو ايك برج طے كرنے ميں ڈھائي سال لگتے هيں اس لئے تين برجوں كو طے كرنے ميں اسے ساڑھے سات سال لگ جاتے هيں۔اسي لئے شني كي اس چال كو ساڑھے ساتي كها جاتا هے۔

  شموئل احمد نے علم نجوم كي زير بحث اصطلاح كے استعمال سے كهاني كے آغاز،اختتام اور انجام كے متعلق كئي پيشين گوئياں كردي هيں۔مثلاً كپور چند ملتاني كي قسمت كے ستارے گردش ميں هيں۔اس كي پلاننگ اورسوچ غلط هوگي۔ اس كي تمام تدبيريں الٹي هونگي اور اس كے حالات سازگار هونے ميں كم سے كم ساڑھے سات سال لگيں گے۔ شموئل احمد نے علم نجوم كي اس اصطلاح كا استعمال كركے يه تمام پيشن گوئياں نهيں بھي كي هوتيں توبھي كهاني كي صحت پر كوئي فرق نهيں پڑتا ليكن اس كے استعمال سے كهاني كے متعلق جو پيشن گوئي كي هے يا قاري كو جو آگهي دي هے اس كو هوتے هوئے ديكھنے كے لئے قاري بے قرار هو جا تا هے اور اس كے ذهن ميں كئي سوالات پيدا هونے لگتے هيںجس سے قاري كي دلچسپي مزيد بڑھ جاتي هے ۔ اس كے بعد شموئل احمد كهاني كو دھيرے دھيرے آگے بڑھاتے هيں اور قاري كو لگنے لگتا هے كه كهاني بالكل ويساهي هے جيسا اس نے سوچا تھا۔

افسانه نگار نے علم نجوم كي اصطلاح٫٫ شني كي ساڑھے ساتي٬٬ كا استعمال كركے يه اشاره كيا هے كه ملتاني كي قسمت كے ستارے گردش ميں هيں ليكن شني كي ساڑھے ساتي كيوں لگي اسے دكھانے كے لئے انهوں نے اس كا زائچه بنايا جس كے مختلف خانوں ميں سياروں كو ايسے بيٹھايا هے كه ان كے اثرات منفي هوںاور قاري كو لگنے لگے كه ملتاني اپني قسمت كے آگے بے بس اور مجبور تھا۔سياروں كي غير مناسب جگه اور دشا كي وجه سے اس كا هر كام الٹا هونا لازمي تھا۔مثلاً افسانه نگارنے جيوتشي كي زباني زائچه كے مختلف خانوں ميں سياروں كي موجودگي اور دَشا يعني period of  planetory influence كا بيان اس طرح كيا هے۔

٫٫ ملتاني كي پيدائش برج ثور ميں هوئي تھي اور طالع ميںعقرب تھا۔زحل برج ولو ميں تھا ليكن مريخ كو سرطان ميں زوال تھا۔مشتري زائچه كے دوسرے خانے ميں تھا۔اس كي نظر نه زحل پر تھي نه مريخ پر۔عطارد ، شمس اور زهره سبھي جوزاميں بيٹھے تھے۔جوتشي نے بتايا كه شني ميگھ راشي ميں پرويش كرچكا هے جس سے اس كي ساڑھے ساتي لگ گئي هے۔دشا بھي راهو كي جا رهي هے۔اس كے گردوغبار كے دن هوں گے اور اليكشن ميں كاميابي مشكل سے ملے گي۔٬٬

 زائچه ميں افسانه نگار نے جو معلومات فراهم كي هيں ان ميں سب سے اهم يه هے كه زحل يعني شني جو پهلے برج ولو ميں تھا اب وه ميگھ راشي ميں پرويش كر چكا هے يعني اس زائچے كے مطابق قمر كے عين پيچھے هے جو ساڑھے ساتي لگنے كي خاص وجهه هے۔دوسري اهم بات يه بتائي گئي هے كه شني يعني زحل ولو راشي ميں تھا۔خيال رهے كه زحل ولو كا مالك هوتا هے اس لئے زحل زياده طاقتور هو گا اور اس كے اثرات شديد هوں گے۔تيسري بات يه كه ٫٫مريخ كو سرطان ميں زوال تھا٬٬۔ علم نجوم كے مطابق مريخ اعليٰ ذات كا سياره هے جبكه سرطان نيچ ذات كا هے ۔مريخ كي مناسبت سے افسانه نگار نے ملتاني كو برهمن كے روپ ميں پيش كيا هے۔زائچے كے مطابق چونكه مريخ كو سرطان ميں زوال هے اسي لئے ملتاني اليكشن جيتنے كے لئے هر وه كام كرتا هے جسے نهيں كرنا چاهئے يهاں تك كه كميونل رائٹ بھي كرواتا هے۔ زائچے ميں يه بھي بتايا گيا هے كه عطارد ، شمس اور زهره سبھي جوزاميں بيٹھے تھے۔علم نجوم كے مطابق يه تينوں ايك ساتھ هوں تو انسان دكھي، بے انتها بولنے والا، دربدر بھٹكنے والا، بدله لينے والا اور نفرت بھراكام كرنے والا هوتاهے۔ افسانه نگار نے افسانه كے ابتداميں هي ملتاني كے متعلق لكھا هے:

٫٫ اس كو ايك پل چين نهيں تھاوه كبھي بھاگ كر مدراس جاتا كبھي جے پور ان دنوں كٹھمنڈو كے ايك هوٹل ميںپڑا تھا اور رات دن كبوتر كے مانند كڑھتا تھا۔ره ره كر سينے ميں هوك اٹھتي ۔كبھي اپنا خواب ياد آتا كبھي جيوتشي كي باتيں ياد آتيں كبھي يه سوچ دل بيٹھنے لگتا كه آگ اس نے لگائي اور فائده بي جے پي نے اٹھايا۔٬٬

زائچے ميں يه  بات بھي بتائي گئي هے كه ٫٫دَشا بھي راهو كي جا رهي هے۔٬٬راهو كي دَشا سے مطلب وه مدّت جب تك راهو اثر انداز رهے گا۔راهو كي دشا ميں كام عموماً بگڑتا هے اگر ستارے كا يوگ غير مناسب هوں۔خاص بات يه بھي هے كه راهو كي دَشا ٨١ سال تك چلتي هے۔اس سے يه نتيجه نكلتا هے كه ملتاني كي political death هو چكي هے۔افسانه نگار نے اس كے political death كي بات اپني كهاني ميں كهي هے۔

افسانه نگار نے كهاني ميں علم نجوم كا استعمال كرنے كے لئے ايك خواب كو plot كياهے جسے ملتاني ديكھتا هے۔اس خواب كے لئے افسانه نگار نے ايك ايسي مخلوق خلق كيا هے جسے همارے سماج ميں ا َشُبھ مانا جاتا هے۔خواب يه هے۔

٫٫اس نے پهلي بار ديكھا كه چھگ مانس چھت كي منڈير پر بيٹھا اس كو پكار رها هے۔اس كے ناخن كرگس كے چنگل كي طرح بڑھ گئے هيں۔وه بيل كي مانند گھانس كھا رها هے اور اس پر پانچ سال گزر گئے اس نے جيوتشي سے خواب كي تعبير پوچھي۔جيوتشي نے خواب كو نحس بتايا۔٬٬

قاري كے دل ميں اس خواب كي خوف اور نحاست كي شدت كو بڑھانے كے لئے افسانه نگار نے اس كي شكل و صورت اور حركت كو غير فطري بنانے كي كوشش كي هے تاكه قاري كو لگے كه ملتاني كو بھيانك اور نحس خواب كو ديكھنے كے بعد كسي جيوتشي سے خواب كي تعبير پوچھنا فطري تھا اور جب جيوتشي كي ضرورت پڑے گي تو علم نجوم كا استعمال افسانے ميں در آنا بھي فطري هوگا۔خواب كي تعبير اگر اچھا نه هو اور ستاروں كے اثرات بھي خطرناك هوں تو اس كا اُپچار كرنا بھي ضروري هے۔لهٰذا افسانه نگار نے اُپچار كے ذر يعه قاري كو يه جانكاري دي هے كه شني كے نحس اثرات كو كم كرنے كے لئے گھوڑے كي نال اور تانبے كي انگوٹھي ميں ساڑھے سات رتي كا نيلم دھارن كرنا چاهئے اور انهيں شني وار كے دن بنوا كر اسي دن بيچ والي انگلي ميں پهن لينا چاهئے۔

افسانه نگار نے ملتاني كے خواب ، اس كي جنم كنڈلي اور ستاروں كے غير مناسب اثرات كي مددسے ملتاني كي زندگي ميں عجيب غريب كشمكش، كشيدگي اور هلچل پيدا كيا هے۔جس سے اس افسانے ميں فني اعتبار سے جان پيدا هو گئي هے ۔اس لئے افسانے ميں علم نجوم كي معنويت بھي بڑھ جاتي هے۔

شموئل احمد نے اپنے ايك اور افسانه ٫٫مصري كي ڈلي ٬٬ميں بھي علم نجوم كي اصطلاحات كا برمحل اور با معني استعمال كيا هے۔افسانے كي مركزي كردار راشده هے جوعثمان كي خوبصورت ، sexy اورعاشق مزاج بيوي هے جو اپنے پڑوسي الطاف حسين تمنّا كے دامِ محبت ميں گرفتار هو جاتي هے اور شوهر عثمان چاه كر بھي كچھ نهيں كر پاتا هے۔شموئل احمد نے اس افسانے ميں بھي علم نجوم كي روشني ميں كرداروں كے متعلق قاري كو معلومات فراهم كراتے هيں۔افسانے كي ابتدا انهوں نے ان الفاظ ميںكي هے۔

٫٫راشده پر ستاره زهره كا اثر تھا وه عثمان كے بوسے ليتي تھي   راشده كے رخسار ملكوتي تھے هونٹ ياقوتي دانت جڑے جڑے هم سطح اور ستا ره زهره برج حوت ميں تھا اور وه سنبله ميں پيدا هوئي تھي۔سنبله ميں قمر آب و تاب كے ساتھ موجود تھا اور راشده كے گالوں ميںشفق پھولتي تھي۔آنكھوں ميں دھنك كے رنگ لهراتے تھے اورهونٹوں پردل آويز مسكراهٹ رقص كرتي تھي اور عثمان كو ر اشده مصري كي ڈلي معلوم هوتي تھي

مصري كي ڈلي عموماً محبوبه هوتي هے ليكن راشده، عثمان كي محبوبه نهيں تھي۔وه عثمان كي بيوي تھي اور اس پر ستاره زهره كا ٬٬

مندرجه بالا عبارت كے پهلے جملے ميں يه كهه كر كه٫٫راشده پر ستاره زهره كا اثر تھا ٬ ٬، ٫٫ اور ستا ره زهره برج حوت ميں تھا۔٬٬  اورعبارت كے آخر ميں ٫٫وه عثمان كي بيوي تھي اور اس پر ستاره زهره كا ٬٬ا فسانه نگار نے راشده كي زندگي پر ستاره زهر ه كے اثرات پر زور ديا هے جس سے معلوم هوتا هے كه راشده كي زندگي پر ستاره زهره چھايا هوا هے اور يهي ستاره اس كي زندگي ميں هونے والے واقعات و حادثات كي وجه هے۔ستاره زهره كے اثرات كو بار بار بتا كر افسانه نگار نے قاري كے دل ميںاس كي اهميت بڑھا دي هے اور ساتھ ساتھ افسانے كي تفصيل ميں جانے سے پهلے راشده كي نفسيات كي ايك جھلك بھي اپنے قاري كو دكھانے كي كوشش كي هے تاكه افسانے ميں قاري كي دلچسپي بڑھ جائے۔دراصل زهره پيار، محبت،عشق ،sex اور امن و امان كا ستاره هے۔نيززهره والي عورتيں هنس مكھ اور رومان پرور هوتي هيں۔sex ميں پهل كرتي هيں اور زندگي سے بھرپور هوتي هيں۔ افسانه نگار نے مندرجه بالا عبارت ميں يه كهه كر كے ٫٫ وه عثمان كے بوسے ليتي تھي ٬٬راشده كي نفسيات كے بارے ميں هلكا سا اشاره كيا هے ليكن افسانے ميںباربارراشده كے كردار ميں زهره كے اثرات كو دكھايا گيا هے جس سے اس كے عاشق مزاج اور  sexy هونے كا پته چلتا هے ۔

اس عبارت ميں افسانه نگار نے قاري كے ذهن ميں يه سوال پيدا كر ديا هے كه ايسي عورتوں كے لئے كيا عثمان مناسب جيون ساتھي هو سكتا هے؟ زيرِ بحث عبارت ميں افسانه نگار نے راشده كے حسن كي تعريف ان لفظوں ميں كي هے:

٫٫راشده كے رخسار ملكوتي تھے هونٹ ياقوتي دانت جڑے جڑے هم سطح اور راشده كے گالوں ميںشفق پھولتي تھي۔آنكھوں ميں دھنك كے رنگ لهراتے تھے اورهونٹوں پردل آويز مسكراهٹ رقص كرتي تھي اور عثمان كو ر اشده مصري كي ڈلي معلوم هوتي تھي    ٬٬

افسانه نگار نے راشده كے رخسار، هونٹ، دانت،گال،آنكھ اورمسكراهٹ وغيره كے متعلق جو باتيں كهي هيں ان تمام خوبيوں كي وجه علم نجوم كے ذريعے يه بتائي هے كه ٫٫ ستا ره زهره برج حوت ميں تھا اور وه سنبله ميں پيدا هوئي تھي۔سنبله ميں قمر آب و تاب كے ساتھ موجود تھا٬٬۔راشده سنبله يعني كنيالگن ميں پيدا هونے سے اور وهاں قمر يعني چندرما كے بھي موجود هونے سے منھ گول اور خوبصورت هوتا هے۔سنبله اورحوت راشياں ايك دوسرے كے آمنے سامنے هوتي هيں ا س لئے زهره اور قمر ايك دوسرے كو ديكھ رهے هوتے هيں۔چندرما من هے يعني دل و دماغ اور اس پر زهره كي نظر هے۔اس لئے راشده خوبصورت اور sexy هے۔اس ميں جماليات كوٹ كوٹ كر بھري هے۔زهره اور قمر دونوں هي جمالياتي هيں۔ زهره كوبرج حوت ﴿يعني شُكر كو مين راشي﴾ ميں هونے سے زهره كو شرف حاصل هوتا هے يعني زهره كو طاقت ملتي هے۔ يهي وجه هے كه راشده كي شخصيت پر عشق اور sex هميشه حاوي رهتے هيں۔مثلاً ايك جگه افسانه نگار نے لكھا هے:

٫٫اور راشده اپني كافرانه دل آويزيوں سے عثمان پر لذتوں كي بارش كرتي كبھي آنكھيں چومتي كبھي لب كبھي رخسار كبھي كان كي لوو ں كو هونٹوں سے دباتي اور هنستي كھِل كھِل كھِل اور اس كي چوٹياں كھنكتيں پازيب بجتے اور پازيب كي چھن چھن چوڑيوں كي كھن كھن هنسي كي كھل كھل ميں گھُل جاتي اور عثمان بے سدھ هوجاتا ايك دم ساكت تلذذ كي بے كراں لهروں ميں ڈوبتا اور ابھرتا اس كي آنكھيں بند رهتيں اور عثمان كو محسوس هوتا جيسے راشده لذتوں سے لبريز جامِ ج هے۔جو قدرت كي طرف سے اس كو وديعت هوا هے۔٬٬

افسانه نگار نے راشده كي جنم كنڈلي كے برخلاف اس كے شوهر كي جو جنم كنڈلي تيار كي هے اور ان ميں جن ستاروں كي موجودگي دكھائي هے ان كے زيرِ اثراكثر انسان شريف هوتے هيں اور زهره والي عورتوں كو مطمئين كرنے ميں ناكام رهتے هيں۔راشده كے شوهر عثمان كے متعلق افسانه نگار نے لكھا هے كه:

٫٫عثمان ان مردوں ميں سے تھاجو نامحرم عورتوں كي طرف ديكھنا بھي گناه كبيره سمجھتے هيں۔ جو مرد كبھي نامحرم عورتوں كي طرف نهيں ديكھتے وه اس طرح اپني زوجه سے پيش بھي نهيں آتے۔ليكن آدمي كے ناخن بھي هوتے هيں۔اس ميں جانور كي بھي خصلت هوتي هے۔عثمان كے اندر بھي كوئي جانور هوگاجو شير تو يقيناً نهيں تھا بھيڑيا بھي نهيں بندر بھي نهيں خرگوش هوسكتا هے بھيڑيا يا ميمنا جس كا تعلق برج حمل سے هے۔عثمان كے كے هاتھ كھردرے هوں گے ليكن اس كي گرفت بهت نرم تھي وه بھنبھوڑتا نهيں تھا وه راشده كو اس طرح چھوتا جيسے كوئي اندھيرے ميں بستر ٹٹولتا هے

مندرجه بالا عبارت ميں عثمان كو خرگوش سے تعبير كركے افسانه نگار نے واضح كرديا كه وه راشده كو sexualy مطمئن نهيں كرسكتا هے كيوں كه اس كا تعلق برج حمل سے هے جو بنيادي طور پر شريف هوتے هيں ، sexualy كمزور هوتے هيں يا زياده سے زياده بستر ٹٹولنے والے هوتے هيں۔مندرجه بالا عبارت ميں افسانه نگارنے جنسي تلذذ كي كيفيت پيدا كرتے هوئے اس بات كي طرف بھي اشاره كيا هے كه sexy عورتوں كے لئے شريف مرد بے معني هوتے هيںبلكه ايسي عورتوں كو ايسے مردوں كي ضرورت هوتي هے جو شير كي طرح پھاڑ كر ركھ دينے والا يا كم سے كم بھيڑيا كي جيسي خصلت والاهو۔اس عبارت كا پهلا جمله٫٫عثمان ان مردوں ميں سے تھاجو نامحرم عورتوں كي طرف ديكھنا بھي گناه كبيره سمجھتے هيں۔ جو مرد كبھي نامحرم عورتوں كي طرف نهيں ديكھتے وه اس طرح اپني زوجه سے پيش بھي نهيں آتے٬٬ افسانے ميں كئي بار دهرا ياهے جس سے معلوم هوتا هے كه عثمان راشده كے اعتبار سے sexualy unfit تھا۔افسانه نگار نے اس كي مزيد وضاحت ان الفاظ ميں كي هے:

٫٫جنسي فعل كے دوران كوئي شيشه ديكھے گا تو كيا ديكھے گا جبلّت اپني خباثت كے ساتھ موجود هوگي ۔ليكن عثمان كے ساتھ ايسا نهيں تھا كه آنكھيں چڑھ گئيں هيں سانسيں تيز تيز چل رهي هيں يا بازوو ں كے سكنجے كو سخت كيا هو دانت بھينچے هوں اور وه جو هوتا هے كه انگلياں گستاخ هو جاتي هيںاور زينه زينه پشت پرنيچے اتر تي هيںتو ايسا نهيں هوتا تھا وه اس كے لب و رخسار كو اس طرح سهلاتا جيسے عورتيں رومال سے چهرے كا پاو ڈ ر پونچھتي هيں ٬٬

 راشده اپني شديد جنسي خواهشات كا اظهار اشارے كنائے ميں كرتي رهتي هے پھر بھي عثمان كچھ نهيں كر پاتا هے۔افسانه نگار نے راشده كي شديد جنسي اظهار كو مزے لے لے كر اس طرح بيان كيا هے:

٫٫ايك دن راشده نے پاو ں ميں بھي مهدي رچائي۔عثمان گھر آيا تو راشده چاروں خانے چت پڑي تھي۔اس كے بال كھلے تھے۔عثمان پا س هي بستر پر بيٹھ گيااور جوتے كے تسمے كھولنے لگا۔راشده اترا كر بولي۔٫٫اﷲ قسم ديكھئے كوئي شرارت نهيں كيجئے گا  ٫٫كيوں ؟٬٬ ۔٫٫ميرے هاتھ پاو ں بندھے هيں۔ميں كچھ كر نهيں پاو ں گي٬٬۔ عثمان مسكرايا۔راشده تھوڑا قريب كھسك آئي۔اس كاپيٹ عثمان كي كمر كو چھونے لگا۔عثمان اس كو پيار بھري نظروں سے ديكھنے لگا۔٫٫پليز شرارت نهيں  ٬٬ راشده پھر اترائي۔بھلا عثمان كيا كرتا ؟اگر كچھ كرتا تو راشده خوش هوتي۔عورتيں اسي طرح اشارے كرتي هيں۔ليكن جو مرد نا محرم عورتوں كي طرف نهيں ديكھتے وه ايسے اشارے بھي نهيں سمجھتے۔ان كے لئے  جوزه عورت نهيں هوتي پاك صاف بيوي بي بي هوتي هے۔٬٬

ايسي صورتِ حال ميں راشده اگر كسي غير مرد كي طرف راغب هوتي هے تو يه عين فطرت هے۔ليكن دوسرا مرد كيسا هوگا؟اس پركن ستاروں كے اثرات هوں گے ؟وغيره  وغيره سوالات قاري كے ذهن ميں پيدا هونے لگتے هيں۔ان سوالات كے جواب كے لئے افسانه نگار نے جس مرد كو كردار بنايا هے اس كي كنڈلي ميں ايسے ستاروں كو جگه دي هے جو راشده كے ستاروں كے لئے مناسب هوں۔افسانه نگا نے لكھا هے:

٫٫اور قدرت كے جام جم كو زحل اپني كاسني آنكھوں سے سامنے كي كھڑكي سے تكتا تھا زهره پر زحل كي نظر تھي زحل كائياں هوتا هے سياه فام هاتھ كھردرے دانت بے هنگم نظر ترچھي برج حدي كا مالك برج ولو كا مالك۔٬٬

افسانه نگار كي اس عبارت ميں راشده كو جام جم سے تعبير كرتے هوئے راشده كے ستارے زهره كي مناسبت ستاره زحل كي تخليق كي هے جو سامنے كي كھڑكي سے زهره يعني راشده كو ديكھتا رهتا هے۔اس كے بعد زحل كي خاصيت پر روشني ڈالتے هوئے اسے كائياں، سياه فام، كھردرے هاتھ والا،بے هنگم دانت والا اور ترچھي نظر والا قرار ديا هے۔افسانه نگار نے زحل يعني شني كو الطاف حسين تمنّا سے تعبير كيا هے اور زهره كو راشده سے تعبير كياهے۔زهره كي دوستي شني سے هے۔شني سياه فام اور كج رو هے۔شني اور زهره جب ملتے هيں يا ايك دوسرے كو ديكھتے هيں يا ايك ساتھ بيٹھتے هيں تو زهره ميں كج روي آجاتي هے يعني sex ميںperversion پيدا هوتا هے۔ الطاف حسين تمنّا كي طرف راشده كو مائل هوتے هوئے افسانه نگار نے اس طرح دكھايا هے:

٫٫زهره ميں زحل كا رنگ كھلنے لگتا هے اور پته نهيں چلتا  زحل جس كو شني بھي كهتے هيں شني جو شنئے شنئے يعني دھيرے دھيرے چلتا هے  ٬٬

دراصل راشده اور الطاف حسين كي كھڑكي آمنے سامنے هوتي هے اور دونوں ايك د وسرے كو ديكھ رهے هوتے هيں ۔آهسته آهسته زهره ميں شني كا كاسني رنگ گھلتا هے يعني راشده اس كي نظروں كا اثر قبول كر رهي هے اور اس كي طرف مائل هو رهي هے۔اس لئے كسي نه كسي بهانے الطاف كاعثمان كے گھر جانے كا سلسله جاري هو جاتا هے اور عثمان چاه كر بھي اسے روك نهيں سكتا كيوں كه اس كامنگل كمزور هے اور شني پيچھا نهيں چھوڑنے والا چمر چٹ ستاره هے۔افسانه نگار نے منگل اور شني كے درميان جو تضاد هيں انهيں ان الفاظ بيان كيا هے:

ايسا هي هوتا هے شني  چمر چٹ پيچھا نهيں چھوڑتا   اور شني دوش كو كاٹتا هے منگل شني كا رنگ كالا هے۔منگل كا لال هے۔شني برف هے۔منگل آگ هے۔شني دكھ كا استعاره هے۔منگل خطرے كي علامت هے۔كهتے هيں شني اور منگل كا جوگ اچھا نهيں هوتا۔چوتھے خانے ميں هو تو گھر برباد كرے گا اور دسويں خانے ميں هو تو دھنده چوپٹ كرے گا۔شني چھپ چھپ كر كام كرتا هے۔منگل دو ٹوك بات كرتا هے۔عثمان كي جنم كنڈلي ميں منگل كمزور رها هوگا يعني پيدائش كے وقت اس كے قلب ميں منگل كي كرنوں كا گذر نهيں هوا تھا ورنه الطاف حسين كو ايك بار گھور كر ضرور ديكھتا۔٬٬

افسانه نگار نے شني كي خصوصيت كي مزيد تفصيل بيان كرتے هوئے هندو مائيتھولوجي سے متعلق ايك واقعه كا ذكر يوں كيا هے:

٫٫جب ميگھ ناتھ كا جنم هو رها تھا تو راون نے چاها كه لگن سے گيارهويںنو گره كا سنجوگ هو۔ليكن نافرماني شني كي سرشت ميں هے۔سب گره اكٹھے هو گئے ليكن جب بچے كا سر باهر آنے لگا تو شني نے ايك پاو ں بارهويں راشي كي طرف بڑھا ديا۔راون كي نظر پڑ گئي۔اس نے مگدر سے پاو ں پر وار كيا۔تب سے شني لنگ مار كر چلتا هے اور ڈھائي سال ميں ايك راشي پار كرتا هے۔٬٬

اس واقعے سے شني اور اس كے اثرات كے تئيں قاري كي معلومات ميںاضافه هوتا هے اور قاري كا ذهن ايك تاريخي اور اساطيري واقعه كي طرف منتقل هو جاتا هے جس سے قاري كا اجتماعي حافظه بيدار هو جاتا هے اور ساتھ ساتھ علم نجوم ميں دلچسپي بھي بڑھتي چلي جاتي هے۔علم نجوم سے متعلق ايسے هزاروں اساطيري واقعات كا ذكر اردو، هندي ،عربي اور سنسكرت ادبيات ميں موجود هے جن كا ذكر يهاں ممكن نهيں هے۔

افسانه نگار نے راشده ، عثمان اور الطاف حسين تمنّا كو كهاني كے مختلف موڑ سے گذارتے هوئے اس موڑ پر پهنچاديا هے جب الطاف حسين تمنّا دھوبي اور دودھ والے كي تلاش ميں عثمان كے دروازے تك پهنچتا هے۔اس موڑ پر پهنچ كر افسانه نگار نے بتا يا هے كه ٫٫شني ايك قدم برج ثور كي طرف بڑھا درواز ے كے مدخل پر پهنچ گيا۔٬٬ الطاف دھيرے دھيرے گھر كے اندر بھي داخل هونے ميں كامياب هوتا هے۔يهاں تك كه وه منزلِ مقصود كو بھي حاصل كر ليتا هے۔افسانه نگار نے الطاف كو عثمان كے گھر پهونچانے كے لئے روهني نچھتر ميں شني كو پرويش كرايا هے۔وه لكھتے هيں:

٫٫روهني نچھتر كے چاروں چرن برج ثور ميں پڑتے هيں جو زهره كا گھر هے۔روهني شني كي محبوبه هے۔اس كي شكل پهيئے سي هے۔اس ميں تين ستارے هوتے هيں۔پهلے دن الطاف نے عثمان كے دروازے پر قدم ركھا تو شني برج ثور كے مدخل پر تھا۔اب شني روهني نچھتر كے پهلے چرن ميں تھا۔٬٬

دراصل هر راشي ميں نچھتر هوتے هيں۔هر نچھتر كا چار چرن هوتا هے۔روهني نچھتر برج ثور ميں پڑتا هے۔شني اس نچھتر ميں خوش رهتا هے۔مندرجه بالا عبارت ميں افسانه نگار نے بتايا هے كه شني روهني نچھتر كے پهلے چرن ميں هے يعني عشق كي ابتدا هو چكي هے۔روهني كي شكل پهيئے كي سي هے۔اس لئے اب پهيا گھومے گا اور عشق كا سلسله يوں هي آگے بڑھتا رهے گا۔منگل يعني مريخ طاقت كا استعاره هے۔ عثمان كا منگل چونكه كمزور هے اس لئے وه احتجاج نهيں كرپاتا۔

شموئل احمد كے ان افسانوں كو پڑھنے كے بعد معلوم هوتا هے كه اس دنيا ميں جو حادثات اور واقعات رو نما هوتے رهتے هيں وه محض ايك اتّفاق نهيں هے بلكه يه اس لئے هوتے هيں كه انهيں انسان كرتے هيں۔اور انسان انهيں جان بوجھ كر نهيں كرتے هيں بلكه انهيں ايسا كرنے سے قسمت كے ستارے مجبور كرتے هيں۔قسمت كے ستارے دراصل انسان كي زندگي پر اپنے اثرات ڈالتے هيں اور انهيں اثرات كے تحت انسان عمل كرتا هے۔يه ستارے اپنے اثرات اس لئے ڈالتے هيں كه انهيں طاقت سورج سے ملتي هے جو ان ستاروں كا مالك هے۔اور خود سورج اپني طاقت كے لئے خدا كا محتاج هے۔يعني خدا مسبب ا لاسباب هے۔دوسرے لفظوں ميں يه بھي كها سكتا هے كه افسانه نگار نے اپنے افسانوں ميں علم نجوم كے اصولوں كا استعمال كركے Cause and Effect Theory  كو تقويت بخشي هے۔

 متذكره افسانوں ميں علم نجوم كے اصولوں كے استعمال سے شموئل احمد نے عجيب و غريب كيفيت پيدا كي هے۔ افسانه ٫٫القمبوس كي گردن٬٬ كے كردار القمبوس نے باپ كے دل و دماغ ميں القمبوس كي زندگي اور اس كے مستقبل كو لے كر ايك خاموش هلچل پيدا كيا هے۔امير كے دل ميں ستاروں كي غير مناسب چال كے ذريعه اقتدار كے هاتھ سے نكل جانے كا جو خوف پيدا كيا هے اس كا كوئي جواب نهيں هے اور اس خوف سے نجات پانے كے لئے بے قصور القمبوس كي قرباني ميں بھي جو كشمكش پيدا كي هے وه بھي قابل تعريف هے۔اسي طرح ساڑھے ساتي لگنے كي وجه سے جھگمانس كا مركزي كردار ملتاني كے اندرPolitical Death كے خوف سے جو كيفيت پيدا كي هے وه علم نجوم كے استعمال كے بغير ممكن نهيں تھا۔اسي طرح راشده كي زندگي ميں هونے والي تبديليوں اور الطاف حسين كي طرف اس كو مائل هوتے هوئے دكھا كر راشده كے شوهر عثمان كے دل كي جو كيفيت پيدا كي هے اس كا بھي كوئي جواب نهيں هے۔ان افسانوں كے تمام كرداروں ميں علم نجوم كي اصطلاحوں كے برمحل استعمال سے جو هلچل اور كشمكش پيدا كيا هے يهي فني عتبار سے افسانه نگار كے فن كا كمال هے۔لهٰذا يه كهنا غلط نهيں هوگا كه افسانه نگار نے اپنے افسانوں ميںعلم نجوم كي مدد سے فكشن كي نئي جهت تلاش كي هيں اور تخليقي منطقه كو مختلف اور منفرد نقطه عطا كيا هے۔شموئل احمد واحد تخليق كار هيں جنهوں نے افسانے كا ايك ڈائمنشن دريافت كيا هے۔

 Dr.Shaikh Aquil Ahmad, (Associate Professor), E-mail: aquilahmad@yahoo.com, Website:people.du.ac.in/~aahmad

About Muslim Saleem

Muslim Saleem (born 1950) is a great Urdu poet, writer and journalist and creator of massive directories of Urdu poets and writers on different blogs. These directories include 1. Urdu poets and writers of India part-1 2. . Urdu poets and writers of India part-II 3. Urdu poets and writers of World part-I 4. Urdu poets and writers of World part-II, 5. Urdu poets and writers of Madhya Pradesh, 6. Urdu poets and writers of Allahabad, 7. Urdu poets and writers of Shajahanpur, 8. Urdu poets and writers of Jammu-Kashmir and Kashmiri Origin, 9. Urdu poets and writers of Hyderabad, 10. Urdu poets and writers of Augrangabad, 11. Urdu poets and writers of Maharashtra 12. Urdu poets and writers of Tamil Nadu, 13, Urdu poets and writers of Karnataka 14. Urdu poets and writers of Gujarat, 15. Urdu poets and writers of Uttar Pradesh, 16. Urdu poets and writers of Canada, 17. Urdu poets and writers of Burhanpur, 18. Urdu poets and writers of West Bengal 19. Female Urdu poets and writers, 20. Hindu Naatgo Shuara etc. These directories can be seen on :- 1. www.khojkhabarnews.com 2, www.muslimsaleem.wordpress.com 3. www.urdunewsblog.wordpress.com, 4. www.khojkhabarnews.wordpress.com. 5. www.poetswritersofurdu.blogspot.in 6 www.muslimsaleem.blogspot.in 7. www.saleemwahid.blogspot.in (Life) Muslim Saleem was born in 1950 at Shahabad, Hardoi, Uttar Pradesh in India, brought up in Aligarh, and educated at Aligarh Muslim University. He is the son of the well-known Urdu poet Saleem Wahid Saleem. He has lived in Bhopal, India since 1979. (Education): Muslim Saleem studied right from class 1 to BA honours in AMU schools and University. He completed his primary education from AMU Primary School, Qazi Para Aligarh (Now converted into a girls school of AMU). He passed high school exam from AMU City School, Aligarh and B.A. Hons (Political Science) from Aligarh Muslim University Aligarh. Later, Muslim Saleem did M.A. in Arabic from Allahabad University during his stay in Allahabad. (Career) Muslim Saleem began his career as a journalist in the Urdu-language newspaper Aftab-e-Jadeed, Bhopal. He is multilingual journalist having worked on top posts with Dainik Bhaskar (Hindi), Central Chronicle (English), National Mail (English), News Express (English) and most recently as the chief copy editor of the Hindustan Times in Bhopal. At present, Muslim Saleem is English news advisor to Directorate of Public Relations, Government of Madhya Pradesh. (as on December 1, 2012). (Works and awards) Muslim Saleem has been appointed as Patron of Indo-Kuwait Friendship Society. He is the author of Aamad Aamad, a compilation of his poetry published by Madhya Pradesh Urdu Academi. Several of his couplets are well known in the Urdu language. He won the Yaad-e-Basit Tarhi Mushaira, a poetry competition, in 1982. In 1971, Muslim Saleem was awarded by Ismat Chughtai for his Afsana “Nangi Sadak Par” at AMU Aligarh. His ghazals and short stories have been published in Urdu-language publications Shair, Ahang, Asri, Adab, Agai, Naya Daur, Sada-e-Urdu, Nadeem and other periodicals and magazines. His work in service of the Urdu language was recognized in a special 2011 edition of the periodical Abadi Kiran, devoted to his work. Evenings in his honour have been organised in a number of cities. Muslim Saleem is currently compiling a massive database of poets and writers of the Urdu language, both historic and currently active. (Translation of Muslim Saleem’s work in English): Great scholar Dr. Shehzad Rizvi based in Washington has translated Muslim Saleem’s ghazal in English even though they have never met. Dr. Rizvi saw Muslim Saleem’s ghazals on websites and was so moved that he decided to translate them. (Praise by poets and writers) Great poet and scholar of Urdu and Persian Dr. Ahmad Ali Barqi Azmi has also written a number of poetic tributes to Muslim Saleem. Dr. Azmi and Muslim Saleem are yet to meet face to face. Beside this, great short-story writer and critic Mehdi Jafar (Allahabad, Bashir Badr (Bhopal), Jafar Askari (Lucknow), Prof. Noorul Husnain (Aurangabad), Kazim Jaffrey (Lahore) and a host of others have written in-depth articles defining Muslim Saleem’s poetry. (Muslim Saleem on other websites) Muslim Saleem’s life and works have been mentioned on Wikipedia, www.urduadab4u.blogspot.in, www.urduyouthforum.org and several other website. In fact, www.urduyouthforum.org has given credit to Muslim Saleem for lifting a number of pictures and entries from Muslim Saleem’s websites and blogs. (Address): Muslim Saleem, 280 Khanugaon, VIP Road, Bhopal-462001 Mobiles: 0 9009217456 0 9893611323 Email: muslimsaleem@rediffmail.com saleemmuslim@yahoo.com Best couplets: Zindagi ki tarah bikhar jaayen…… kyun ham aise jiyen ki mar jaayen kar di meeras waarison ke sipurd…. zindagi kis ke naam mar jaayen rooh ke karb ka kuchh mudaawa no tha doctor neend ki goiyan likh gaya wo dekhne mein ab bhi tanawar darakht hai haalanke waqt khod chuka hai jaden tamam My Facebook url is http://en-gb.facebook.com/pages/Muslim-Saleem/176636315722664#!/pages/Muslim-Saleem/176636315722664?sk=info Other blogs http://urdupoetswriters.blogspot.com/ http://muslimspoetry.blogspot.com/ http://abdulahadfarhan.blogspot.com/ http://ataullahfaizan.blogspot.com/ http://hamaramp.blogspot.com/ http://madhyanews.blogspot.com/ http://cimirror.blogspot.com/
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s