مسلم سلیم – ۲۱ویں صدی کا شاعر Muslim Saleem —-Ikkeesween Sadi ka Shair

 مسلم سلیم – ۲۱ویں صدی کا شاعر

از ڈاکٹر شہزاد رضوی۔۔۔۔سابق پروفیسر ، واشنگٹن ، ڈی ۔سی ، یو۔ایس ۔اے

ایک دن اچانک انٹرنیٹ سرفنگ کے دوران میری نگاہ ایک ویب سائٹ muslimsaleem.wordpress.com پر ٹھہر گئی ۔ یہ بھوپال میں مقیم شاعر ، افسانہ نگار اور صحافی مسلم سلیم کی ویب سائٹ تھی۔ میں کئی گھنٹوں تک اس بلاگ کی سرفنگ کرتا رہا۔ اس میں مسلم سلیم نے صرف اپنی شاعری اور شخصیت کے بارے میں ہی نہیں لکھا بلکہ اردو دنیا کے ہزار ہا شعراء و ادبا کی مختلف ڈائریکٹریز ترتیب دے کر تعارف و تصاویر پوسٹ کی ہیں۔ میرے نزدیک اردو دنیا میں اتنا بڑا کام پہلے کبھی نہیں ہوا۔ بعد میں پتہ چلا کہ مسلم سلیم نے khojkhabarnews.com, muslimsaleem.blogspot.com, poetswriters.blogspot.com, اور کئی دیگر ویب سائٹس کے ذریعہ بھی اردو کے اس بیش بہا اور مخلصانہ خدمت کو مزید آگے بڑھایا ہے۔ بہر حال اس تحریر سے مسلم سلیم کی ویب سائیٹس کی تعریف مقصود نہیں بلکہ ان کی اس شاعری سے ہے جسکا بیشتر حصہ ۲۰ ویں صدی میں خلق ہوا لیکن جسے بجا طور پر ۲۱ویں صدی بلکہ اس سے بھی آگے کی شاعری کہا جا سکتا ہے۔
میں ان کی شاعری کے اس جدید لب و لہجہ سے اس قدر متاثر ہواکہ میں نے انٹرنیٹ پر انگریزی میں مسلم سلیم کی شاعری پر نہ صرف سیر حاصل مضامین تحریر کئے بلکہ ان کی کئی غزلوں کا انگریزی ترجمہ ء کل انٹر نیٹ پر پوسٹ کیا۔ میں نے اپنے ۲۴ اپریل، ۲۰۱۱ کے مضمون Muslim Saleem and revelation of his art میں لکھا تھا ’’ اگر بین الاقوامی اردو حلقہ مسلم سلیم کی شاعری کا حظ اٹھانے سے محروم رہ گیا تو یہ ایک از حد شرمناک بات ہوگی۔ مسلم سلیم شاعری برائے شاعری کے قائل نہیں۔ اور تبھی قلم اٹھاتے ہیں جب ان کے سینے میں موجزن جذبات ان کو تحریک دیتے ہیں اور وہ گزشتہ نصف صدی اور موجودہ صدی کے بحرانات و تجربات کو اس تحریک کی کڑی میں خوبصورتی اورچابکدستی سے پروتے چلے جاتے ہیں۔مسلم سلیم کے اشعارکو سرسری طور پر لینے والا خواہ کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو اس کے عمق سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا۔ زندگی بھر اسٹڈی روم میں بیٹھ کر مطالعہ کرنے والے جو سرد و گرم زمانہ چشیدہ نہ ہوں مسلم سلیم کی شاعری کی depth تک پہنچنے میں ہو سکتا ہے کہ ناکام ہو جائیں لیکن ہم جیسے لوگ جو زبردست جدو جہد کے بعد امریکہ، یوروپ، اور دیگر بیرونی ممالک میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں، مسلم سلیم کے فن اورتجربے کی گہرائی کو مسmiss نہیں کر سکتے۔‘‘
اس سے قبل میں نے ۱۰ اپریل ،۲۰۱۱ کو تحریر کردہ اپنے مضمون Muslim Saleem:An Analysis میں مسلم سلیم کے بارے میں لکھا تھا۔
’’ مسلم سلیم کا تعلق اس نسل سے ہے جو آزادئ ہند کے فوراً بعد وجود میں آئی تھی ۔ تلاشِ ذات اس نسل کا سب سے اہم مسئلہ تھا اور اسکے لئے لمحہۂ فکریہ یہ تھا کہ برق رفتاری سے گزرتی جا رہی ۲۰ویں صدی میں وہ کیا اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہی وہ دور تھا جب مسلم سلیم پہلے علی گڑھ اور پھر الہٰ آباد یونیورسٹی میں اردو، عربی، فارسی، انگریزی اور ہندی کی اپنی صلاحیتوں کو جلاِ دے رہے تھے۔ تحصیل علم کے دوران ہی مسلم سلیم نے معاشرہ کی انہی نئی لہروں کی اپنی شاعری اور افسانوں کا ایجنڈا بنا لیا تھا۔ گزشتہ ۳۰ برس کو دوران انگریزی، اردو اور ہندی میں صحافت سے ان کے قلم کی کاٹ اور بھی گہری ہو گئی ہے۔‘‘ ؂
میں اس مضمون میں مسلم سلیم کے اشعارصرف چند اشعار نقل کر رہا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ آپ بھی میرے خیالات سے متفق ہو جائیں گے۔ مسلم سلیم کو استعاروں اور علامتوں پر جو عبور حاصل ہے اس سے ان کی شاعری ازحد تہہ دار ہوگئی ہے۔ ایک ہی شعر سے معنیٰ و مفہوم کے سوتے پھوٹے پڑتے ہیں۔ ؂
دھوپ میں دیوار بھی تھی کسکو تھا اسکا خیال۔۔۔۔۔ استفادہ ساےۂِ دیوار سے سب نے کیا
یہ اس شخص کے المیہ اور بے چارگی کا پر اثر بیان ہے جس سے ایک زمانہ مستفید ہوتا ہے لیکن یا تو اس ایثار سے بے خبر ہے یا دیدہ ؤ دانستہ اس کی داد نہیں دیتا کہ اس نے لوگوں کو آلام و مصائب سے محفوظ رکھنے کے لئے آفات و کرب کا کس قدر سامنا کیا ہے اور وہ بھی کوئی شکوہ زبان پر لائے بغیر۔احسان ناشناسی اور بے قدری ہمارے دور کا ایک بڑا المیہ ہے اور غزل کے دو مصرعوں میں اسے اتنی چابکدستی اور فنّی مہارت کے ساتھ نظم کرنے پر مسلم سلیم بے شک داد کے مستحق ہیں۔ ؂
بچوں کو ہونے دیجئے احساس دھوپ کا
نشو و نما نہ کیجئے، سایہ نہ کیجئے
ایک بار پھر دھوپ اور سایہ کی علامتیں ایک بہترین شعر کی تخلیق میں ممد ہوئی ہیں۔ جدوجہد اور تجربات و حوادث زندگی میں آگے بڑھتے رہنے اور اسے سنوارنے کے لئے از حد ضروری ہیں۔ ضرورت سے زیادہ پدری یا مادری شفقت میں پلنے والے بچے زندگی میں ذہنی و شخصی ارتقاء کی کئی منازل طے کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس لئے تجربے ان کے لئے تریاق اور سایہ سنگِ راہ ہے۔ یہ مضمون غزل کے پیرائے میں مسلم سلیم سے پہلے کسی نے نہیں باندھا ہے۔ ؂
تقدیر کی مجھ سے یونہی تکرار چلے گے۔۔۔۔۔ میں سائے میں بیٹھوں گا تو دیوار چلے گی
اس شعر میں دھوپ کا لفظ تو نہیں لیکن اس کا شدید احساس موجود ہے۔ سایہ اور دیوار مل کر پھر جادو جگاتے ہیں اور ایک المیہ اے حسین پیرائے میں بیان ہو جاتا ہے۔ شاعر ایک ایسے شخص کی کیفےئات کو بیان کرتا ہے جو مسلسل طور پر اخوت، شفقت، دوستی اور کرم سے محروم ہے۔ یہ احساسِ محرومی تب اور بھی بڑھ جاتا ہے جب وہ کسی ایسے شخص کی طرف بڑھنے کی سعی کرتا ہے جس میں یہ اوصاف پائے جاتے ہیں لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس شخص سے کچھ استفادہ کر سکے وہ شخص کوچ کر جاتا ہے اور طالبِ فیض تشنہ کا تشنہ رہ جاتا ہے۔ ؂
سائباں ساتھ کس کے چلے ہیں ۔۔۔۔۔پھر وہی دھوپ تھی، قافلہ تھا
قافلۂِ ذات کو تجربات و حوادث کی تیز دھوپ میں چلتے ہی رہنا پڑتا ہے کیونکہ محافظت اور تسکین دینے والے ایک حد تک ہی ساتھ دے سکتے ہیں اور رہگزارِ زیست میں ان سے صرف اسی قدر مستفید ہوا جاسکتا ہے جس طرح راہ میں کوئی سائبان یا کوئی سایہ مل جائے اور انسان کچھ دیر وہاں رک کر آرام کر لے۔ آگے کا سفر تو اسے سائبان سے آگے بڑھکر صعوبتوں اور دشواریوں کو جھیل کر ہی طے کرنا پڑیگا۔
یہ اشعار میں نے مسلم سلیم کے گذشتہ مجموعہ آمد آمد سے لئے تھے۔ اب میں ان کے زیرِ نظر مجموعہ سے منتخب چند تاریخ ساز اشعار کی نشاندہی کر رہا ہوں۔
بہار لائے تھے یہ انکا احترام کرو۔۔۔۔خزاں رسیدہ درختوں کو بھی سلام کرو
پاس ہو کے بھی ہم سے وہ خفا خفا سا ہے ۔۔۔۔۔دوریاں ہیں میلوں کی فاصلہ ذرا سا ہے
رنگ آتے جاتے ہیں کتنے اسکے چہرے پر۔۔۔۔۔حسن اسکا اب دیکھو جب کہ وہ خفا سا ہے
اس لئے جیت کر ہر اک میداں بڑھ گئے رزم گاہ سے آگے۔۔۔۔ہم نے اپنی نگاہ رکھی تھی دشمنوں کی نگاہ سے آگے
پہلے تھا ملک میں بس اک ظالم سب جسے بادشاہ کہتے تھے۔۔۔۔اب تو اپنے ہیں سینکڑوں آقا ظلم میں عالی جاہ سے آگے
کس قدر پانی ہے پہلے اس کا اندازہ کیا۔۔۔۔۔بند پھر اپنی مدد کا اس نے دروازہ کیا
دہکتی ریت پر پھر میں نے دیکھا۔۔۔۔سمندر میری ٹھوکر سے نکلنا
قوم کی زبوں حالی پر بھی مسلمؔ سلیم نے بے حد چابک دستی سے روشنی ڈالی ہے:۔
یاد ہے سارا جہاں بھول گئے ہیں خود کو۔۔۔۔۔سوچتے ہیں کہ کہاں بھول گئے ہیں خود کو
جیت لے گا ہمیں دشمن بڑی آسانی سے۔۔۔۔۔ہو گیا سب پہ عیاں بھول گئے ہیں خود کو
زیرِ نظر مجموعے میں مسلمؔ سلیم نے دہشت گردی کے خلاف کافی موثر اشعار شامل کئے ہیں۔یہاں میں اس موضوع پر انکی ایک مکمل غزال نما نظم نقل کر رہا ہوں:
ہو اگر عاجز تو پھر حاجت روا بنتے ہو کیوں۔۔۔۔کام ہے یہ تو خدا کا تم خدا بنتے ہو کیوں
درسِ رحمت بھول کر کیوں بن گئے بیدادگر۔۔۔۔۔سب کے حق میں پیکرِ جوروجفا بنتے ہو کیوں
ہر قدم کج فہمیاں ہیں، ہر قدم گمراہیاں۔۔۔۔۔حق شناس و حق نگر اور حق نما بنتے ہو کیوں
ہو اگر مقدور رکھّو ساتھ کوئی راہبر۔۔۔۔۔راہ گم گشتہ عزیزو! رہمنا بنتے ہو کیوں
فرض مسلمؔ پر قیامِ امن ہے یہ جان لو ۔۔۔۔۔۔یوں کھلونا بے جہت جذبات کا بنتے ہو کیوں
اسی موضوع پر چند اور اشعار ملاحظہ ہوں:
نہ جانے کس جگہ مل جائے دہشت۔۔۔۔دعائیں پڑھ کے سب گھر سے نکلنا
بھرے گا پیکرِ تصویر میںِ خوں ۔۔۔۔۔محبت کا وہ منظر سے نکلنا
بہشت ملتی ہے دہشت سے اور تشدّد سے ۔۔۔۔۔نکال ڈالے دماغوں سے یہ سنک کوئی
اڑا کے اوروں کو خود کو بھی مار لیتے ہیں۔۔۔۔۔وہ سوچتے ہیں کہ اس میں ثواب ہوتا ہے
اے کشت و خون کے داعی ذرا بتا تو سہی ۔۔۔۔۔کہ ان دھماکوں سے کیا انقلاب ہوتا ہے
اس مجموعہ میں رومانی شاعری اور قطعات کی شمولیت بھی معنی خیز ہے کیونکہ پہلے مجموعے میں ان کی تعداد برائے نام تھیْ وہ مجھ کو سمجھنے میں جو ناکام رہا ہے ۔ ۔۔۔ ۔ خود مجھ پہ ہی اس جرم کا الزام رہا ہے
یہ جسم کرتا ہے اکثر بہت سوال تر۱ ۔۔۔ ۔۔ رگوں میں دوڑنے لگتا ہے جب خیال ترا
قدم بچا کے رکھوں میں اگر تو کیسے رکھوں ۔ ۔۔۔ہر ایک سمت تو پھیلا ہوا ہے جال ترا
تب مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے مخمل یاد کا ۔۔ ۔۔۔ سر پہ جب سایہ فگن ہوتا ہے بادل یاد کا
جان و دل میں جب مہک اٹھتا ہے صندل یاد کا۔۔۔۔ سو غموں کو دور کر دیتا ہے اک پل یاد کا
آج صندوق سے دیرینہ زمانے نکلے ۔۔۔۔۔ڈائری کھولی تو یادوں کے خزانے نکلے
ایسے ماضی کی پھواروں میں شرابور ہوئے۔۔۔۔ جیسے بچہ کوئی بارش میں نہانے نکلے
رات بھر چنتے ہیں اکثر لعل و گوہر خواب کے۔۔۔صبحدم روتے ہیں ہم ٹکڑے اٹھا کر خواب کے
خواب کی جانب چلے پیغام لے کر خواب کے۔۔۔۔یوں اڑے دل کی منڈیروں سے کبوتر خواب کے
جان و دل اپنے ہیں صدقے اس منور خواب کے ۔۔۔۔۔جاگتی آنکھوں میں رہنے دو وہ منظر خواب کے
مسلم سلیم نے مغربی ممالک اور میڈیا کی فحاشی اور غلط بیانی کا راز بھی فاش کیا ہے:
مغربی بازاریت کی دین یہ ہیجان ہے۔۔۔۔۔حسنِ نسواں اب فقط تفریح کا سامان ہے
مکر آرائش ہے اسکی،جھوٹ اسکی شان ہے۔۔۔۔۔مت بہک جانا، یہ گورا میڈیا شیطان ہے
خود تو گویا قتل و غارت، ظلم سے انجان ہے۔۔۔۔۔ ہر برائی کے لئے اسلام پر بہتان ہے
اُس کی ہرزہ گوئیوں پر مہرِ استحسان ہے ۔۔۔۔۔۔ ہم نے گر کچھ کہہ دیا تو ہر طرف طوفان ہے
حق پہ جینا ، حق پہ مر مٹنا ہی اسکی شان ہے۔۔۔۔۔ سچ تو یہ ہے دہر میں مسلم ہی بس انسان ہے
مسلم سلیم کا تقریباً ہر شعر ایسی ہی تہہ داریوں سے مملو ہے اس کے لئے ایک علیحدہ کتاب درکار ہے اور اس مضمون کی طوالت کے خوف سے میں اسے یہیں ختم کرتا ہوں لیکن چلتے چلتے ایک بار پھر میں مسلم سلیم کی اردو ویب سائٹس اور ویب ڈائریکٹریز کا ذکر کروں گا اور یہ کہنے کی جسارت بھی کروں گا کہ اس کارنامہ کے سبب مسلم سلیم کو بابائے اردو مولوی عبدالحق کے پائے کی شخصیت قرار دیا جا سکتا ہے۔

About Muslim Saleem

Muslim Saleem (born 1950) is a great Urdu poet, writer and journalist and creator of massive directories of Urdu poets and writers on different blogs. These directories include 1. Urdu poets and writers of India part-1 2. . Urdu poets and writers of India part-II 3. Urdu poets and writers of World part-I 4. Urdu poets and writers of World part-II, 5. Urdu poets and writers of Madhya Pradesh, 6. Urdu poets and writers of Allahabad, 7. Urdu poets and writers of Shajahanpur, 8. Urdu poets and writers of Jammu-Kashmir and Kashmiri Origin, 9. Urdu poets and writers of Hyderabad, 10. Urdu poets and writers of Augrangabad, 11. Urdu poets and writers of Maharashtra 12. Urdu poets and writers of Tamil Nadu, 13, Urdu poets and writers of Karnataka 14. Urdu poets and writers of Gujarat, 15. Urdu poets and writers of Uttar Pradesh, 16. Urdu poets and writers of Canada, 17. Urdu poets and writers of Burhanpur, 18. Urdu poets and writers of West Bengal 19. Female Urdu poets and writers, 20. Hindu Naatgo Shuara etc. These directories can be seen on :- 1. www.khojkhabarnews.com 2, www.muslimsaleem.wordpress.com 3. www.urdunewsblog.wordpress.com, 4. www.khojkhabarnews.wordpress.com. 5. www.poetswritersofurdu.blogspot.in 6 www.muslimsaleem.blogspot.in 7. www.saleemwahid.blogspot.in (Life) Muslim Saleem was born in 1950 at Shahabad, Hardoi, Uttar Pradesh in India, brought up in Aligarh, and educated at Aligarh Muslim University. He is the son of the well-known Urdu poet Saleem Wahid Saleem. He has lived in Bhopal, India since 1979. (Education): Muslim Saleem studied right from class 1 to BA honours in AMU schools and University. He completed his primary education from AMU Primary School, Qazi Para Aligarh (Now converted into a girls school of AMU). He passed high school exam from AMU City School, Aligarh and B.A. Hons (Political Science) from Aligarh Muslim University Aligarh. Later, Muslim Saleem did M.A. in Arabic from Allahabad University during his stay in Allahabad. (Career) Muslim Saleem began his career as a journalist in the Urdu-language newspaper Aftab-e-Jadeed, Bhopal. He is multilingual journalist having worked on top posts with Dainik Bhaskar (Hindi), Central Chronicle (English), National Mail (English), News Express (English) and most recently as the chief copy editor of the Hindustan Times in Bhopal. At present, Muslim Saleem is English news advisor to Directorate of Public Relations, Government of Madhya Pradesh. (as on December 1, 2012). (Works and awards) Muslim Saleem has been appointed as Patron of Indo-Kuwait Friendship Society. He is the author of Aamad Aamad, a compilation of his poetry published by Madhya Pradesh Urdu Academi. Several of his couplets are well known in the Urdu language. He won the Yaad-e-Basit Tarhi Mushaira, a poetry competition, in 1982. In 1971, Muslim Saleem was awarded by Ismat Chughtai for his Afsana “Nangi Sadak Par” at AMU Aligarh. His ghazals and short stories have been published in Urdu-language publications Shair, Ahang, Asri, Adab, Agai, Naya Daur, Sada-e-Urdu, Nadeem and other periodicals and magazines. His work in service of the Urdu language was recognized in a special 2011 edition of the periodical Abadi Kiran, devoted to his work. Evenings in his honour have been organised in a number of cities. Muslim Saleem is currently compiling a massive database of poets and writers of the Urdu language, both historic and currently active. (Translation of Muslim Saleem’s work in English): Great scholar Dr. Shehzad Rizvi based in Washington has translated Muslim Saleem’s ghazal in English even though they have never met. Dr. Rizvi saw Muslim Saleem’s ghazals on websites and was so moved that he decided to translate them. (Praise by poets and writers) Great poet and scholar of Urdu and Persian Dr. Ahmad Ali Barqi Azmi has also written a number of poetic tributes to Muslim Saleem. Dr. Azmi and Muslim Saleem are yet to meet face to face. Beside this, great short-story writer and critic Mehdi Jafar (Allahabad, Bashir Badr (Bhopal), Jafar Askari (Lucknow), Prof. Noorul Husnain (Aurangabad), Kazim Jaffrey (Lahore) and a host of others have written in-depth articles defining Muslim Saleem’s poetry. (Muslim Saleem on other websites) Muslim Saleem’s life and works have been mentioned on Wikipedia, www.urduadab4u.blogspot.in, www.urduyouthforum.org and several other website. In fact, www.urduyouthforum.org has given credit to Muslim Saleem for lifting a number of pictures and entries from Muslim Saleem’s websites and blogs. (Address): Muslim Saleem, 280 Khanugaon, VIP Road, Bhopal-462001 Mobiles: 0 9009217456 0 9893611323 Email: muslimsaleem@rediffmail.com saleemmuslim@yahoo.com Best couplets: Zindagi ki tarah bikhar jaayen…… kyun ham aise jiyen ki mar jaayen kar di meeras waarison ke sipurd…. zindagi kis ke naam mar jaayen rooh ke karb ka kuchh mudaawa no tha doctor neend ki goiyan likh gaya wo dekhne mein ab bhi tanawar darakht hai haalanke waqt khod chuka hai jaden tamam My Facebook url is http://en-gb.facebook.com/pages/Muslim-Saleem/176636315722664#!/pages/Muslim-Saleem/176636315722664?sk=info Other blogs http://urdupoetswriters.blogspot.com/ http://muslimspoetry.blogspot.com/ http://abdulahadfarhan.blogspot.com/ http://ataullahfaizan.blogspot.com/ http://hamaramp.blogspot.com/ http://madhyanews.blogspot.com/ http://cimirror.blogspot.com/
This entry was posted in Muslim Saleem's works. Bookmark the permalink.

2 Responses to مسلم سلیم – ۲۱ویں صدی کا شاعر Muslim Saleem —-Ikkeesween Sadi ka Shair

  1. Abdul Ahad Farhan says:


    Sarfaraz Khan Azmi

    ڈاکٹر شہزاد رضوی صاحب نے یہ اعلی ادبی فریضہ ادا کرنے کی گراں قدر پیش
    رفت کرکے ہمعصروں میں ایک ہلچل پیدا کردی ہے.
    آپ دونوں، مبصر و مبصور کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں
    مجھ طا لب علم کی ذہنی استعداد سے کوسوں دور کی باتیں ہیں. آپکی شخصیت پر دو لفظ لکهنا بهی.بلکہ یہ کہنا درست ہوگا….
    عمر اس ٹوہ میں تمام ہوئ
    کیسے “مسلم سلیم” بنتے ہیں
    ************************************************************

    Asrar Ahmad Raazi

    ڈاکٹر شہزاد رضوی صاحب نے ایک نغز کو اور نہایت معتبر شاعر مسلم سلیم کی شاعری پر شاندار خامہ فرسائی کی ہے
    آفریں صد آفریں
    میری طرف مسلم سلیم صاحب اور ڈاکٹر شہزاد رضوی صاحب کو بہت بہت مبارکباد
    ***********************************************************


    Zia Shahzad Shahzad
    Dr. Shahzad Rizvi ne Muslim Saleem ki shukhsiyat par jw tafsili izhare khayal kia hai use par kar meri nazar main Muslim ka qad aur bhi barh gaya hai . Main us k aik khoobsurat sha,er k sahar main abhi tk dooba owa hoon ”دھوپ میں دیوار بھی تھی کس کو تھا اس کا خیال ۔ ۔ ۔ استفادہ سایہ۶ دیوار سے سب نے کیا ” . . . wah wa ! kia bat hai Muslim ki , tu dostau mujhe iss sha,er ka HIZ uthane dijiye .

    Muslim ki shakhsiyat hai badi, qad bhi hai bada. . . .goshe hain us ki zaat main kitney chupey hovey.( zia shahzad)

    ***********************************************************

    Ahmad Ali Khan
    Janab Dr. Shahzad Rizvi sahib jo in dino Washington – USA (America) mein muqeem hain unhon nay Daur-e-Haazir kay is azeem shaair, Mohtaram Muslim Saleem sahib ki Shaairi aur zabaan-e-urdu ke farogh se muta’alliq Apni be-baak Rai, Tabsiron-o-Tajzeeyon say yeh Ta’assur bhi Watan-e-Azeez aur bilkhusoos Wo ” QAREEB KAY LOG ” yani jis Shahr ko Shaair nay Apna Saaibaan samajh rakhaa hai wahi usay abhi-tak samajhnay aur padhnay say qaasir hain ….. Dr. sahib nay ba-jaa farmaaya hai ke…. Is Shaair ke Kalaam ko sarsari taur par lenewaala khawaah kitna hi Qaabil kyon na ho wo shair ki Rooh aur uski Gehraayi se bahrawar naheen ho sakta……. Jis Shaair ne Apni Fikri-o-Tajurbaati Teer aur Urdu-Adab ki is pokhtaa Shairy dhaal se Apni Maurosi-Viraasat (ILM-O-ADAB) ki muhafizat kI ho usay faramosh karna……. Ba-Qaul Dr. Shahzad Rizvi ke “Ahsaan Na-shanaasi aur Be-Qadri Hamare Daur kaa Ik badaa Almiyaa hai “……….. Is Nai Nasal (New Generation) ki Nash-o-Numaayi ke Haq mein jo Paighaam Shaair-e-Mausoof ne diya hai wo kisi Nuskha-e-Kimeeya se kam naheen…….. BACHCHON KO HONAY DIJIYE AHSAAS DHOOP KAA,,,,,,,,, NASH-O-NUMAA NA KIJIYE, SAAYA NA KIJIYE,,,,,,,,, Unhen Apnay faislaay par Nafa-o-Nuqsaan ka tajziyaa khud hi karnay dijiye…… Mausam ke Sard-o-Garm se milnay ki Aap aur Ham unhen pehlay Azaadi to den….. Phir dekhen ke wahi Bachchay Waqt ki bhatti mein tapkar kaisay Kundan bankar Hamare saamnay aatay hain…….. !!!!!!!!!

    Ahmad Ali Khan
    Aapki us be-laus Khidmat ke aagay yeh to ik Haqeer sa Nazraana hai Sir………. Khuda Aapko Salaamat Rakhay……..Aur daraazi-e-Umr ataa Farmaaye….Aameen……!
    ***********************************************************

    Azad Saghar
    MASHA ALLAH aapki iss be los khidmat k liey INSHA ALLAH ,, aane wala kal aap kay hi gun gaey ga. ALLAH AAP KO APNE MAQSAD MAIN KAMYAB FARMAE AAMIN
    **********************************************************

    Kaleem Khan Aasi
    Khuda Salamat rakhe sir Khuda kamyabian naseeb furmaye Aameen
    *********************************************************

    Sayyed Fazal Gillani
    Muslim SAleem sb ki khidmaat ka men intehai motrif hoon aor jb koi brri shakhsiat eitraaf kryti hay to dili khushi aor sarshaari ki kaifiat milti hay, ALLAH KREEM inhen slaamat rakhay
    ********************************************************

    Zareena Khan
    shair kehna KHUDA-DAAD salahiyat hoti hai aur is khoobi se ALLAH ne khoob nawaza hai, bahaisiyat insaan bhi bohat achhe hai , ALLAH HO AKBAR

  2. Aamir Riyaz says:

    Aamir Riyaz bahut
    umda aur mukammal tajziya hai…Muslim Saleem sb ki Urdu khidmat aur Shaayri ko bade saleeqe se pesh kiya gaya hai…Mubarakbad

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s