Nimar tareekh ke aaine main: Waseem Farhat Ansari

*نماڑ : تاریخ کے آئینے میں
ڈاکٹر وسیم افتخار انصاری
صدر شعبۂ اردو
گورنمنٹ مہا رانی لکشمی بائی گرلس پی.جی.کالج
قلعہ میدان،اندور۴۵۲۰۰۶(ایم.پی.)
موبائل :۹۰۰۹۲۲۸۷۸۶ ۰

ہندوستان مختلف قدرتی خطّوں اور علاقوں سے مل کر ایشیائی نقشے میں اپنی ایک منفرد شناخت رکھتا ہے ۔اس کے قدرتی علاقے ، جو اسے مختلف حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔ اُن کی ایک مخصوص پہچان ہے۔
یہاں انسانی آبادی ، اُن کا رہن سہن ،طور طریقہ ، بُود و باش ، زبان ، کھان پان یہاں تک کہ اُن کی زندگی کے شب و روز، سب ہی یہاں کی قومیت ، معاشرت اورمشتر کہ تہذیب و تمدن کی نمائندگی کرتے ہیں ۔
مدھیہ بھارت کا ایک صوبہ ، جسے ہند کا مقام دل بھی کہا جاتا ہے ، مدھیہ پر دیش کے نام سے موسوم ہے ۔ یہ صوبہ، زمان�ۂ قدیم سے مختلف خطوں اور علاقوں میں منقسم ہے ۔ مثلاً خط�ۂمالوہ ، نماڑ اور بندیل کھنڈ وغیرہ۔
یہ سب کے سب ہند کی قدیم تاریخ سے گہرے رشتے رکھتے ہیں ۔ ان علاقوں میں وقتاً فوقتاًاہلِ علم و فن اور قابلِ ذکر حضرات آ کر آباد ہوتے رہے اور یہاں کے لوگوں میں علم و فن ، فضل و کمال ، ادب و فلسفہ اور حکمت و دانش کی تعلیم دیتے رہے…
خطۂ نماڑ بھی انہیں علاقوں میں سے ایک ہے ،اس کے احاطے میں ایسے علاقے شامل ہیں ۔ جن کا سلسلہ اردو ادب کی ارتقائی نشو و نما سے ملتا ہے …
در اصل نماڑ دو خطوں یعنی مالوہ اور خان دیش کے علاقوں کا مرکب روپ ہے ۔ شمال و دکن کے ما بین واقع ہونے اور ایک گذر گاہ کی حیثیت سے دونوں کے اثرات اس پر مرتسم ہوئے ۔ اس لئے عہد قدیم سے اس خطے میں علم و ادب تہذیب و ثقافت اور سیاست و معاشرت کے نقوش پائے جاتے ہیں ۔ اسی بنا پر یہاں علمی ،ادبی، سیاسی ، سماجی اور ثقافتی تاریخ کا ایک گراں مایہ سرمایہ موجود ہے ۔ ان عوامل اور مایۂ افتخار کے سبب یہاں علم وادب کا ایک ستھرا مذاق پایا جاتا ہے ۔
وجہِ تسمیہ
خطہ کا نام ،نماڑ کب اور کیسے پڑا ؟ اس کی وجہِ تسمیہ کے بارے میں قطعی طور پر کچھ کہنا بڑا مشکل ہے ۔نماڑ کی وجہِ تسمیہ کے بارے میں کئی مؤرّخین اور محققین نے روشنی ڈالی ہے ۔اور مختلف نتائج و نظریات پیش کئے ہیں ۔ جس کا مختصر اً تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا ۔
(۱) ’’ خطۂ نماڑ کے بارے میں قطعی طور پر کچھ معلوم نہیں لیکن یہ گمان لگایا جا سکتا ہے کہ پرانے خطہ نماڑ کا یہ نام ایسا اس لئے پڑا تھا کہ نر بدا ندی پر واقع نیماور نامی مقام ( اب ضلع دیواس میں شامل ہے ) خطۂ نماڑ کی راجدھانی تھا ‘‘ ۱؂
(۲) ’’ مشہور عرب مؤرخ البیرونی نے بھی نیماور کا ذکر ناماور ( نام آور Namawar) کے نام سے کیا ہے ‘‘ ۲؂
(۳) ’’ نماڑ نام مختلف کتابوں میں نیماؤڑ( Nemaud ) کے روپ میں تحریر ہوا ہے ۔ ۳؂ حالات اور ادوار سے گذرنے کے بعد نیماؤڑ ………. نیماوڑ ………… اور آسان شکل میں نماڑ ہو گیا ۔ جیسا کہ بیشتر علاقوں کے حصوں کے نام ، کسی علاقے کے اہم مقام کے نام پر پڑ جاتے ہیں ۔ چوں کہ نیماوڑ مذکورہ علاقے میں مذہبی اور سیاسی اہمیت کا ایسا ہی مقام تھا ‘‘ ۴؂
تحقیق کے مطابق ،یہ وجہِ تسمیہ درست نہیں معلوم ہوتی کیوں کہ ’’ پُران ادب ‘‘(Puran Lit.) میں نیماور کو نابھا پوری ) (Nabhapuriکہا گیا ہے ‘‘ ۵؂
پنڈت رام نارائن اُپادھیائے ( مولف نماڑ کا سنسکرتک اتیہاس ) کے مطابق ؂
(۴) ’’ نماڑ مالوہ سے نیچے کی جانب بسا ہوا ہے مالوہ سے نماڑ کی طرف آنے میں نشیب میں اتر نا پڑتا ہے ۔اس طرح نمن گامی (Nimngami)سے اس کا نام نمانی(Nimani) … بدل کر نمار (Nimari) ہو گیا ہو ‘‘ ۶؂
اس خیال کی وضاحت آگے وہ اس طرح کرتے ہیں ۔
(۵) ’’ چوں کہ نماڑی زبان میں ’’ نی ‘‘(Ni)کا مطلب نیچے اور ’’ماڑی ‘‘(Mari)کامطلب ماں کی گود ہوتا ہے ۔اس لئے دھرتی ماتا کے زیر دامن یا پہلو (Nimn-aanchal) میں بسا ہونے کے سبب سے ہی اس کا نامنماڑپڑ گیا ہوگا ‘‘ ۷؂
نماڑ کے متعلق ایک خیال یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ
(۶) ’’ یہ شمالی ہند اور جنوبی ہند کا سمادھی استھل(Samadhi-Isthal)ہونے سے آریہ (Arya)اور غیر آریہ(Anarya) کی مشترکہ سر زمین رہا ہو گا ۔ اور اسی نام ’’ نیم آریہ ‘ ‘ یا ’’ نیماریہ ‘‘ (Nimarya)سے نماڑ پڑا ہو گا ۔ نیم کا مطلب بھی نماڑ میں ’’آدھا‘‘ ہوتا ہے۔اس نیم آریہ سے تبدیل ہو تے ہوتے ’’ نمار ‘‘ اور ’’ نماڑ ‘‘ ہو جا نا یقینی ہے ‘‘۸؂
ڈپٹی کمیشنر ( نماڑ ڈسٹرکٹ گزیٹر ۱۹۰۸ء ؁ )وجہہ تسمیہ کے متعلق یہ رائے پیش کرتے ہیں ۔
(۷) ’’ یہ نام نیم کے درختوں کے سبب پڑا ہو گا ۔ جو اس علاقے میں کثرت سے ہوتے ہیں ۔‘‘ ۹؂
ڈاکٹر سید صفدر رضا کھنڈوی نے اپنی تحقیقی کتاب ’’اردو کی ترقی میں نماڑ کا حصہ ‘‘میں مذکورہ ڈپٹی کمیشنر کی اسی رائے کو اضافہ کے ساتھ ، بغیر حوالہ دیئے اپنی ذاتی رائے سے منسوب کر دیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں ۔
(۸) ’’ راقم الحروف کی رائے میں نماڑ در اصل دو لفظوں کا مرکب ہے یعنی’’نیم ‘‘ اور ’’ آڑ ‘‘ ( نیم 228 آڑ )اردو لغت میں ’’ آڑ ‘‘کے ہندی معنی پناہ یا’’ اوٹ ‘ ‘ کے ہیں لہذا یہاں نیم کے درختوں کی کثرت کی وجہ سے ہی یہ نماڑ کہلانے لگا ہو گا لفظ ’’ نیم آڑ ‘ ‘ کا اپ بھرنش میں عام بول چال میں نماڑ بن گیا ہو یہی بات قرین قیاس اور مناسب معلوم ہوتی ہے ۔ ‘‘ ۱۰؂
اگر لفظ نیم اور آڑی ( نیم 228 آڑی) کو دیکھیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ نیم بمعنی نصف ، آدھا اور آڑی کے معنی اردو میں محافظ ، قائم مقام کے ہوتے ہیں ۔ ۱۱؂
اس طرح نیم آڑی کے پس منظر میں مالوہ اور خان دیش کے سلاطین اور حکومت کی تاریخ کو سامنے رکھیں اور ہندوستانی نقشے میں مدھیہ پر دیش کو دیکھیں ، تو واضح ہو گا ۔ یہ خطہ ہندوستان کا نصف محافظ ، آدھا قائم مقام اور وسطی نمائندہ ہے۔ اس لئے جتنے بادشاہ شمال یادکن سے مختلف خطوں اور علاقوں کو عبور کرتے ہو ئے ، انہیں اپنے تصرف و اختیار میں لیتے ہوئے ،اس خطے پر قابض ہوتے ، وہ خود کو ہند کا نصف قائم مقام ، آدھا محافظ اور وسطی نمائندہ سمجھتے ۔ ایسے سلاطین کو مؤرخین نے ہند کا نصف فاتح کہا ہے ۔ احقرراقم کی یہ رائے پنڈت رام نارائن اپادھیائے ( مؤلف نماڑ کا سنسکرتک اتیہاس ) کی آراء سے مربوط اور منطبق بھی ہے ۔اس لئے نیم آڑی سے نماڑی …… پھر نماڑ ہو جانازیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے ۔
محلِ وقوع
نماڑ مدھیہ پر دیش کے جنوب میں مغربی سمت میں واقع ہے ۔ اس کے شمال میں ست پڑا اور جنوب میں وندھیا چل کی سلسلے وار پہاڑیاں موجود ہیں ۔
اس کی سر حدیں مشرق میں بیتول ، ہردا ،ہوشنگ آباد اور مغرب میں صوبہ گجرات سے ملتی ہیں ۔ شمال میں دیواس ، اندور، دھار ( مالوہ ) اور جنوب میں مہاراشٹر کے شہر بھساول ، جل گاؤں ( مشرقی خاندیش ) سے متصل ہے ۔
کھنڈوہ ریلوے جنکشن سے یہ سینٹرل ریلوے سے جڑا ہو ا ہے ۔ جس سے ہندوستان کے تمام مقامات کے لئے بآسانی سفر کیا جا سکتا ہے ۔اس کے علاوہمیٹر گیج لائن کھنڈوہ جنکشن ہی سے مغربی ریلوے سے بھی وابستہ ہے ۔ یہ کھنڈوہ :اندور سیکشن کہلاتا ہے ۔ میٹر گیج چھوٹی لائن ، اندور ، اُجین ، رتلام ، اجمیر ، جے پور ، اکولہ یعنی مالوہ ، مہاراشٹر ، راجستھا ن وغیرہ صوبے کے شہروں سے تعلق قائم کئے ہوئے ہے۔
روڈویز کے ذریعے چھتیس گڑھ ، گجرات ، مہاراشٹر ، راجستھا ن ، یو.پی وغیرہ صوبوں کے سفر کرنے کی سہولت بھی رکھتا ہے ۔
تاپتی اور نربدا خاص دریا ہیں ۔ آب و ہوا کا فی گرم ہے ۔ خور د اشیاء کی تقریباًتمام فصلیں یہاں کی مٹی میں پیدا ہوتی ہیں ، جنگلات ، ندیاں ، پہاڑ ، تالاب ، باندھ، اور مختلف قدرتی و سائل آمدنی کے ساتھ اس کی عوامی زندگی کے حصے ہیں ۔
زراعت ، پارچہ بافی ، بیڑی ، برتن ، کاغذ، تیل ، رنگائی ، چھپائی ، مویشی پالن اور شکر کے گھریلو، ذاتی ، سرکاری ، نیم سرکاری اور غیر سرکاری کارخانے ، کارگاہیں ، ملیں اور فیکٹریاں یہاں کے باشندوں اور حکومت کے معاشی ذرائع ہیں ۔
نماڑ دو حصوں میں منقسم ہے ۔
(۱) مشرقی نماڑ
(۲) مغربی نماڑ

’’ یکم نومبر ۱۹۵۶ء ؁ کو صوبائی تشکیل نو کے پہلے یہ ضلع سرکاری روپ سے نماڑ ( متحد ہ نماڑ ) کہلاتا تھا اور مدھیہ پردیش کے مہا کوشل علاقے کا ایک حصہ تھا ۔ قدیم نماڑ کا مغربی حصہ ، جس پر ہولکر کا اختیار تھا ۱۹۴۸ء ؁ میں جب مدھیہ بھارت صوبے کی تشکیل عمل میں آئی(تو) مدھیہ بھارت صوبے کا ایک حصہ بن گیا ۔…….. صوبائی تشکیل نو کے وقت مدھیہ بھارت ،علاقہ مدھیہ پردیش میں ملا دیا گیا ۔ ……… وہ علاقہ جس کا صدر مقام کھر گون تھا ۔ پرانا نام نماڑ ہی بنا رہا ۔ ……….. پرانے نماڑ کے مغرب میں واقع ہونے سے مغربی نماڑ نام رکھا گیا ۔جب کہ ۱/نومبر ۱۹۵۶ء ؁ سے اس کا نام ( مشرق میں واقع ہونے سے ) سرکاری روپ سے مشرقی نماڑ ۱؂ کر دیا گیا ‘‘ ۱۲؂
نماڑ کی تاریخ تقریباً تین ہزار سال پرانی ہے مہشمتی(Mahishmati) ( جسے آج مہیشور کہا جاتا ہے ) کی تاسیس و بنیاد ایک ہزار سال قبل مسیح سے مانی جاتی ہے ۔ یدویاہیہی(Yadu/Hayhai) خاندان کے بادشاہ نے یعنی مہش منت(Mahishmant) نے اسے جیتا اور اس کا نام مہشمتی رکھا ۔
نماڑ پر کچھ عرصہ موریہ کا اختیار رہا ۔۱۷۵؍ قبل مسیح میں شنگ قابض ہوئے ۔پہلی صدی قبل مسیح کے اواخر میں ساتواہن (Saatwahan)بادشاہوں کی عمل داری میں آیا ۔ کچھ عرصہ نہپان (Nehpan)نگراں رہے ۔ پھر دو بارہ ساتواہن کی سلطنت قائم ہوئی ۔
۲۵۰ ء ؁ تک کردمک (Kardmak) قابض رہے ۔ ۲۵۱ ء ؁ سے ۶۷۔۳۶۶ ؁ ء تک آبھیر اور ۵۱۰ء ؁تک واکاٹک (Wakatak)راجاؤں کا راج رہا ۔ ۹۷۲ء ؁ تک گپت ، کل چری (Kalchuri) وردھن و چالوکیہ، راشٹر کٹ (Rashtrakut)اور گُرجر(Gurjar)حکومتوں کے ماتحت رہا ۔ ۱۳۰۵ء ؁ تک اس پر پرمار ، اہیر اور چوہان راجاؤں کا راج پاٹ رہا ۔
۱۳۰۵ء ؁میں خلجی سلطنت کے اقتدار و تسلط میں آگیا ۔اس طرح دلّی سے تعلقات اُستوار ہو گئے ۔ ۱۴؍ویں صدی عیسوی کے آخر تک اسے خلجی اور تغلق سلاطین کے مختلف نا ظمین اور صوبے داروں کی نگہبانی میسر ہوئی ….تیمور کا حملہ ہوا ……. جس کے سبب تغلق سلطنت منتشر ہو گئی ،ملک کے مختلف علاقوں میں آزاد حکومتیں قائم ہو ئی۔ دیگر حضرات کی طرح مالوہ (مالوہ کاذکر یہاں اس لئے کیا گیا ہے کہ بیجا گڑھ ، کھرگون ، سناود ، بڑوانی وغیرہ پہلے مالوہ میں شامل تھے۔ فی الحال یہ علاقے مغربی نماڑ میں شمار ہوتے ہیں )کے صوبے دار دلاور خاں غوری نے بھی ۱۴۰۱ء ؁ میں اپنی خود مختاری کا اعلان کردیا ۔ ادھر مشرقی نماڑ میں خاندیش کے ملک راجہ فاروقی نے ۱۳۹۸ء ؁ میں آزاد حکومت کی بنیاد ڈالی ۱۳؂ ۱۴؂
غوری اور فاروقی عہد میں مالوہ اور نماڑ کے تعلقات پُر سکون و پُر امن رہے ،ملک راجہ فاروقی نے اپنے فرزند نصیر خان فاروقی کا نکاح دلاور خاں غوری کی دُختر سے کیا اور اپنی بیٹی کو ہوشنگ شاہ ابن دلاور خاں غوری کے عقد میں دیا ۔ اس طرح مالوہ اور نماڑ کے مابین سیاسی رشتوں میں مزید استحکام پیدا ہو جاتا ہے ۔ ۱۵؂
مغربی نماڑ پر غوری سلاطین نے ۱۴۰۱ء ؁ سے ۱۴۳۶ء ؁ تک اور خلجی سلاطین نے ۱۴۳۶ء ؁ سے ۱۵۳۱ء ؁ تک حکومت کی ۔ ۱۵۳۱ء ؁ سے ۱۵۳۵ء ؁ تک اس پر گجرات کے بہادر شاہ گجراتی کا قبضہ رہا۔ ۱۶؂
مشرقی نماڑ میں ۱۳۷۰ء ؁ سے ۱۶۰۱ء ؁ تک فاروقی خاندان کے تقریباًچودہ سلاطین نے بڑے تزک و احتشام کے ساتھ ۲۳۵ ؍سال حکومت کی۔ ۱۷؂
فاروقی عہد تہذیب و ثقافت اور علم و فضل کی ترقی کے لحاظ سے بڑا سنہری دور رہا ہے، اس دور کے سلاطین نے فنِ تعمیر کے وہ نقوش چھوڑے ہیں، جن کے آثار صدیاں گذر جانے کے بعد بھی نظروں کو خیرہ کرتے ہیں نیز مقامی اور عالمی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں …فاروقی سلاطین کا درباردانشوروں اور علم و فضل کی عظیم شخصیتوں سے کہکشاں بنا ہوا تھا۔ انہوں نے ابرِ بہار بن کر اس خطے کی آبیاری کی اور علم ودانش اور فضل و کمال کی فصلیں اگائیں۔
۱۵۶۲ء ؁ میں جب اکبر نے مالوہ فتح کیا ،تو اسے بھی ( مغربی نماڑ کو) اپنے تصرف میں لے لیا اور اس خطے کو تین حصوں میں منقسم کیا ۔ بیجا گڑھ ، ہنڈیہ اور مانڈو ۔ اس زمانے میں اس خطے کا ایک بڑا حصہ بیجا گڑھ ریاست ( ضلع کھر گون ) کے ماتحت تھا لیکن مرکزِ حکومت جلال آباد نگر ( ضلع کھر گون ) تھا ۱۸؂
۱۶۰۱ء ؁ میں اکبر نے تفریباً گیارہ ماہ کے طویل محاصرے کے بعد اسیر گڑھ ( مشرقی نماڑ ) فتح کر لیا ۔ اسیر گڑھ کی تسخیر پر اکبر اتنا خوش تھا کہ اس نے جامع مسجد برہان پور ۱۹؂ ، قلعہ اسیر ( مشرقی نماڑ ) ۲۰؂ نیل کنٹھ محل مانڈو ۲۱؂ ( مالوہ ) وغیرہ مقامات پر اپنی فتح مندی اور کامیابی کے یادگار کتبات کندہ کروائے ۔شاہ جہاں نے تعمیرات کے بے مثل نمونے چھوڑے ۔ اورنگ زیب نے اہلِ علم و فن حضرات کی سر پرستی کی ۔اس نے اپنے دورِ حکومت میں نماڑ کا بہت سا حصہ اورنگ آباد صوبے میں شامل کیا ۔
مغل دور ( ۱۵۶۲ء ؁ مغربی نماڑ اور مشرقی نماڑ ۱۶۰۱ء ؁ سے ۱۷۲۰ء ؁ تک) ۲۲؂ میں یہاں کے علم وادب ، تہذیب و ثقافت نیز سیاست و معاشرت کے میدان میں مزید اضافہ ہوا ۔ اس عہد میں عبدالرحیم خانِ خاناں کی شخصیت ، یہاں کے علم و فن اور فضل و کمال کو تقویت عطا کرنے میں اور اسے پروان چڑھانے میں ایک غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے ۔ اس کی تبحر علمی ، نفاست ، شائستگی ، علم دوستی ، جو ہر شناسی اور سیاسی حکمت عملی کا زمانہ معترف ہے ….. مغل عہد میں ایران ، افغان اور ہندوستان کے مختلف مقامات کی اربابِ کمال اور جامع الصفات شخصیات کی آمد ہوئی ۔ جن کے پُر شِکوہ ہجوم سے مغل دربار مزیّن ومعمور ہو گیا …
۱۷۲۰ء ؁ میں حیدر آباد کے نظام الملک آصف جاہ اوّل نے اپنی خود مختاری کا اعلان کر دیا ۔اسے اپنی تحویل اور نگہبانی میں لے کر عظیم الشان فصیل تعمیر کروائی ۔ ۱ ؂ اور اسے مزید منظم و مستحکم کیا ۔اس نے رعایا اور عوام کی جس طرز سے نگہداشت کی اور ان کے مسائل کو حل کرنا ، اپنا فرضِ منصبی جانا ، ویسے ہی یہ سخن ور اور سخن پرواز تھا اور عبدالرحیم خانِ خاناں کی طرح علوم و فنون کا دلدادہ بھی ……….
نظام کا تسلط چھ اضلاع اور ۱۳۷؍ تعلقوں پر مشتمل تھا ۔دریائے تاپتی سے لے کر ترچنا پلی تک اور حیدر آباد سے لے کر بند رامیشور تک یعنی تقریباً آٹھ سو میل لمبا اور چار سو میل چوڑا علاقہ آصف جاہی عمل داری میں تھا ۲۳؂
نظام آصفی حکومت کے بعد مرہٹے قابض ہوئے ۔ انہوں نے بیجا گڑھ کو مرکزِ حکومت بنائے رکھا ۔اس طرح یہ خطہ مختلف اقوام ، اَدیان ،زبان او ر تہذیب و نظریات کے باہمی اشتراک کا حسین گلدستہ بن گیا ۔
۱۷۷۸ء ؁ میں پیشوا نے کسراود ، کا نا پور اور بیریہ کے زر خیز چھوٹے علاقوں کو چھوڑ کر باقی تمام علاقے سندھیا ہو لکر اور پوار کو دے دیئے ۔ اسی دور میں صوبے کی راجدھانی ( مغربی نماڑ ) مہیشور سے اندور تبدیل کر دی گئی ۔۱۸۱۸ء ؁ میں نمارکھیڑی مقام پر سرجان میلکم کے سامنے پیشوا نے ہتھیار ڈال دیئے۔۱۸۱۹ء ؁ میں اسیر گڑھ( مشرقی نماڑ ) پر انگریزوں نے قبضہ جما لیا ۔ مختلف معاہدے کے تحت یہ سندھیا اور ہولکر کے ماتحت رہا ۔ ۱۸۲۳ء ؁ میں سندھیا کے پانچ پر گنے ( دُھر گاؤں ، بروئی ، سیلانی ، پُنا سا ، اور کھنڈوہ ) پر انگریزوں نے اپنے قبضے میں لے لئے۔بعد میں اسیر گڑھ بھام گڑھ ، منڈی، بلورا، اٹود اور پپلود پر بھی قابض ہو گئے ۔ اب سندھیا کے پاس صرف برہان پور ، منجرود ،زین آباد ہی بچے رہے ۔۱۸۲۳ء ؁ سے ۱۸۵۴ء ؁ تک نماڑ اندورواقع ریزی ڈینسیز اور ۱۸۵۴ء ؁ کے بعد سینٹرل انڈیا میں وائسرائے کے ایجنٹ کی نگرانی میں رہا ۔
۱۸۶۴ء ؁ میں مشرقی نماڑ ( خان دیش سے الگ کر کے ) ممالک متوسط برار( سی پی اینڈ برار) میں ملا دیا گیا اور صدر مقام منڈلیشور سے تبدیل کر کے کھنڈوہ کر دیا گیا ۔۱۸۹۶ء ؁ میں ہوشنگ آباد ضلع سے اکاون مربع میل چاروا علاقہ اور ۲۹۳؍مربع میل سرکاری جنگل لے کر ہرسُود تحصیل میں اضافہ کر تے ہوئے ،اس ضلع میں ضم کر دیا گیا ۔ اس طرح پورے نماڑ پر انگریزوں کی عمل داری قائم ہو گئی ۔ ۲۴؂
برطانوی اقتدار وتسلط کے بعد ہندوستان کو قربان گاہ بنا دیا گیا ۔ملک کے مختلف علاقوں کی طرح نماڑ کے اُفق پر ظلم و بر بریت کے کثیف و سیاہ بادل چھا گئے …….. تغلق و خلجی ، فاروقی و مغل اور نظام آصفی اَدوار کی علمی ، ثقافتی ، تہذیبی اور سیاسی چمک دمک کو ماند کر نے کی ہر ممکن کوششیں کی جانے لگیں …لیکن محب وطن سراج الدولہ اور حیدر و ٹیپو کی شہادتیں ، امام بخش صہبائی ، شاہ ظفرؔ اور فرزندانِ ظفر کی قربانیاں ، منیرؔ شکوہ آبادی اور علامہ فضلِ حق خیرآبادی کا احتجاج ، وہابی مسلمانوں کا جہاد ، بسمل ؔ ، اشفاق اور بھگت سنگھ کی سولیاں ، سر سید اور ان کے رفقاء کے نظریات ،محسن و وقار الملک ، سر آدم جی پیر بھائی ، سر آغا خان ، نواب عزیز مرزا ، مولوی مظہر الحق بیرسٹر، علی برادران اور مولانا آزاد وغیرہ کی جاں فشانیوں نے نماڑ کے باشندوں کے ذہن و دل اور فکر و خیال کو نئی توانائی عطا کی ۔ انجام کار یہ ہوا کہ نماڑ کا ہرشعوری فرد جنگِ آزادی کے کارواں میں شامل و شریک ہو کر وطن کو آزاد کرانے کے در پے ہو گیا ۔
ہندوستان کی تحریک آزادی کے روشن باب میں یوں تو ہند کے ہر گوشے سے مجاہدین آزادی نے حصہ لیا ۔ جس کی ایک طویل فہرست ہے ۔ نماڑ بھی اس فہرست میں شامل ہونے کا فخر و اعزاز رکھتا ہے ۔اس خطے سے تحریکِ آزادی میں حصہ لینے والے مجاہدینِ آزادی کے کچھ نام اس طرح ہیں ۔
عبدالقادر صدیقی ؂ برہان پوری ، ہر ی داس چٹرجی ، ماکھن لال چتر ویدی کھنڈوہ ، ٹھاکر لکشمن سنگھ چوہان ۲۵؂ منشی علیم اللہ خیالیؔ برہان پوری ، ۲۶؂ حشمت اللہ ریاضیؔ برہان پوری ، ۲۷؂ حاتمؔ استاد اختر سناود، مرزا اختر حسن ایڈوکیٹ ۲۸؂ سید شبیر علی ، شوق ؔ ماہری کھنڈوہ ، مختار احمد ، حاجی رفیق ، مولانا حفظ الرحمن برہان پوری ، محمد ابراہیم ممبر ، ۲۹؂ محمد اصغر ایڈوکیٹ ، ڈاکٹر خورشید احمد صدیقی ، ڈاکٹر ممتاز احمد خوشترؔ ، علی احمد گرامیؔ چشتی کھنڈوہ ، ۳۰؂ سید حفاظت علی خان بہادر ، خلیق ؔ برہان پوری ، والدۂ خلیق کلثوم بی زوجہ سعد اللہ میاں جی ۳۱؂ اور اسماعیل فہمیؔ برہان پوری ۳۲؂ وغیرہ حضرات کے ساتھ ساتھ اہلِ ہُنود نے بھی خوب بڑھ چڑ ھ کر تحریک آزادی میں نماڑ کی نمائندگی کی ۔
گاندھی جی، مولانا حسرتؔ موہانی اور علی برادران کی آمد سے ۱۹۲۱ء ؁ ۳۳؂ میں خلافت رضا کار جماعت کی تشکیل عمل میں آئی ۔جس کے رضاکاروں نے تحریکِ آزادی کی سر گرمیوں میں آگے بڑھ کر حصہ لیا ۔ ۳۴؂
جب ترکِ موالات اور سول نافرمانی کی بات آئی تو لوگوں نے سرکاری نوکریاں چھوڑ دیں ،جس میں حشمت اللہ ریاضیؔ برہان پوری بھی شامل تھے ۔ ۳۵؂
مدّتوں ، شب و روز کی قربانیوں کے بعد فرزندانِ وطن، جس آزادی کی سنہری چادر میں سکون کا سانس لینے کا خواب دیکھ رہے تھے ۔ نماڑ کے باشندے ، خاص کر برہان پور ، کھنڈوہ ، کھر گون اور بڑوانی کے روشن خیال افراد ، طلباء اور عوامی گروہ بھی ، اس خواب کی تعبیر کے لئے ہر طرح کی قربانیاں دے چکے تھے اور دینے کو تیار تھے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوا۔ غلامی سے نجات پانے کی جس صبح کا انتظار تھا ۔ آخر وہ وقت قدرت کی فیاضیوں کے ساتھ ۱۵؍اگست ۱۹۴۷ء ؁ کو میسر ہوا۔
نماڑ کی تہذیب ، یہاں کے قدیم سیاسی نشیب و فراز کی مرہونِ منت ہے ۔ ….. نماڑ میں مختلف اوقات میں ، مختلف بادشاہوں اور راجاؤں کی چھوٹی چھوٹی حکومتیں رہی ہیں۔……… اس کا قدیم سلسلہ ہمیں دلاور خاں غوری ( ۱۴۰۱ء ؁ تا ۱۴۰۶ء ؁ ) ۳۶؂ اور مشرقی نماڑ میں ملک راجہ فاروقی ( ۱۳۷۰ء ؁ تا ۱۳۹۹ء ؁ ) سے ملتا ہے ۳۷؂
ملک راجہ فاروقی اور دلاور خاں غوری سے قبل یہاں کی عوامی زندگی میں مقامی رنگ کا غلبہ زیادہ نظر آتا ہے ۔بُدھ اور جَین عقائد کے اثرات دکھائی دیتے ہیں لیکن جب اس خطے پر مسلم حکمراں کا ورود ہوا ، تو مقامی میل جول سے ایک نئی تہذیب وجود میں آئی ۔جس کی ترقی پذیر صورت آج بھی اس خطے کے رہن سہن اور بُودو بَاش میں نظر آتی ہے …..
نماڑ کی تاریخ کافی پرانی ہے ۔جس کا تفصیلی ذکر یہاں غیر ضروری ہے ۔مضمون کی نوعیت، اس بات کی اجازت نہیں دیتی پھر بھی کوشش کی گئی ہے کہ مختلف ادوار کے سیاسی ، سماجی ،تہذیبی اور ثقافتی نشیب و فراز کا ایک آئینہ خانہ پیش کیا جا سکے ۔
اس طرح ، اس مختصر سے تجزیئے میں نماڑ کی پوری تاریخ کا سرسری جائزہ لیا گیا ہے۔ ممکن ہے ، نماڑ کی اس سیاسی ، تہذیبی ، ثقافتی اور جغرافیائی تاریخ سے قارئین کی تشنگی دور ہو سکے ۔
حواشی
۱؂ ایم ،پی ضلع گزیٹرمشرقی نماڑ ۔ مرتب پریم نارائن شریواستو۔ ضلع گزیٹر وبھاگ ایم ، پی بھوپال ۱۹۷۱ء ؁ ص ۱ ترجمہ ہندی سے
۲؂ البیرونیز انڈیا ۔ ای سی سچو ص ۲۰۳؍ اور مشرقی نماڑ گزیٹر ۱۹۷۱ء ؁ ص ۱
۳؂ سی ،پی ایڈمنسٹریشن رپورٹ ۶۴۔۱۸۶۳ء ؁ ص ۹ ترجمہ انگریزی سے
۴؂ نماڑ دسٹرکٹ گزیٹر ۱۹۰۸ء ؁ ص ۲۔ از ایم ، پی ضلع گزیٹر مشرقی نماڑ ۱۹۷۱ء ؁ ص ۱
۵؂ ایم ، پی ضلع گزیٹرمغربی نماڑ ۔ مرتب راجندر ورما ۔ ضلع گزیٹر وبھاگ ایم ۔ پی بھوپال ۱۹۷۳ء ؁ ص ۲ ترجمہ ہندی سے
۶؂ نماڑ کا سنسکرتک اتیہاس مولف رام نارائن اپادھیائے ۔ ص ۱۴ ترجمہ ہندی سے
۷؂ ایضاً ………………………………………………………………………….
۸؂ ہندی سہ ماہی سنکلن شمارہ ۳ ؂جولائی تا ستمبر ۱۹۹۷ء ؁ ص ۲۵ ترجمہ ہندی سے
۹؂ نماڑ ڈسٹرکٹ گزیٹر ۱۹۰۸ء ؁ ص ۱ ۔ از ایم ۔ پی ضلع گزیٹر مشرقی نماڑ ۱۹۷۱ء ؁ ص ۱
۱۰؂ اردو کی ترقی میں نماڑ کا حصہ ۔ ڈاکٹر سید صفدر رضا کھنڈوی ۔ طلسم حرف پبلیکیشنز کھنڈوہ ۲۰۰۹ء ؁ ص ۲۱
۱۱ ؂ فرہنگ عامرہ ۔ مرتب محمد عبداللہ خاں خویشگی ۔ اعتقاد پبلیشنگ ہاؤس دہلی۔ ستمبر ۲۰۰۰ء ؁ ضمیمہ ’’ لغات ہندی ‘‘ ص ۸
۱ ؂ زمانۂ قدیم میں مشرقی خاندیش کا حصہ تھا جسے انگریزی دور حکومت میں ممالک متوسط برار [CP&barar]میں شامل کردیا گیا تھا ۔
۱۲؂ ایم ۔پی ضلع گزیٹرمشرقی نماڑ ۔ مرتب پریم نارائن شری واستو ۔ضلع گزیٹر وبھاگ ایم ۔پی بھوپال ۱۹۷۱ء ؁ ص ۲ ترجمہ ہندی سے
۱۳؂ ایضاً ……………………………………………………………ص۴۳سے ۵۶؍ ترجمہ ہندی سے
۱۴؂ ایم ، پی ضلع گزیٹرمغربی نماڑ ۔ مرتب راجندر ورما ۔ ضلع گزیٹر وبھاگ ،ایم ۔ پی بھوپال ۱۹۷۳ء ؁ ص ۳۷ تا ۵۵ ترجمہ ہندی سے
۱۵؂ اسیر گڑھ ۔ محمد حشمت اللہ ریاضی ۔بشمول۔ ماہنامہ۔ الہام ۔ پونہ ۔اگست ۱۹۵۴ء ؁ ص ۲۷
ایضاً ’’مالوہ کی کہانی تاریخ کی زبانی ۔ مولف قاضی عبدالقدوس فاروقی دیپال پوری۔ ضیا ء پبلیکیشنز لکھنؤ ۔اگست ۱۹۹۵ ؁ء ص ۳۶
۱۶؂ ایضاً ………. …………………………………………….. ص ۳۶ ۔ ۴۸۰ ۔ ۵۰۰ ۔ اور ۱۰۲
۱۷؂ ایم ۔پی ضلع گزیٹرمشرقی نماڑ ۔ مرتب پریم نارائن شری واستو۔ ضلع گزیٹر وبھاگ ،ایم ۔پی بھوپال ۱۹۷۱ء ؁ ص ۵۸ تا ۷۱ ترجمہ ہندی سے
۱۸؂ ایم ، پی ضلع گزیٹرمغربی نماڑ ۔ مرتب راجندر ورما ۔ ضلع گزیٹر وبھاگ ،ایم ۔ پی بھوپال ۱۹۷۳ء ؁ ص ۲ تا ۳ ترجمہ ہندی سے
۱۹؂ جامع مسجد برہان پور کے کتبات ۔ مولوی معین الدین ندوی ۔بشمول ۔ماہ نامہ معارف۔ اعظم گڑھ۔ جلد ۱۱۶ ،عدد ۲ ماہ اگست ۱۹۷۵ء ؁ ص ۱۵۲
۲۰؂ اسیر گڑھ پر ایک نظر۔ بشیر محمد خان۔بشمول۔ ماہ نامہ۔ عالمگیر لاہور ۔ جلد ۳۲ شمارہ ۳ ماہ فروری ۱۹۴۰ء ؁ ص ۴۴
۲۱؂ مالوہ کی کہانی تاریخ کی زبانی ۔ مولف قاضی عبدالقدوس فاروقی دیپالپوری۔ ضیا ء پبلیکیشنز لکھنؤ۔اگست ۱۹۹۵ء ؁ ص ۲۰۰ اور ۲۲۰
۲۲؂ ایم ۔ پی ضلع گزیٹرمغربی نماڑ ۔ مرتب راجندر ورما ۔ ضلع گزیٹر وبھاگ ،ایم ۔ پی بھوپال ۱۹۷۳ ؁ء ص ۲ تا ۳ ترجمہ ہندی سے
ایضاً ایم۔پی ضلع گزیٹیر مشرقی نماڑ۔ مرتب پریم نارائن شریواستو۔ ضلع گزیٹیر وبھاگ ۔ ایم۔پی، بھوپال۱۹۷۱ ؁ء ص ۱۷؍ ص ۷۲؍ اور ص ۸۰؍ ترجمہ ہندی سے
۱؂ فصیل برہانپور میں واقع ہے اور شہرپناہ کے نام جانی جاتی ہے ۔ مقالہ نگار
۲۳؂ نظام الملک آصف جاہ اول مؤلف ۔ سید مراد علی طالع ۔ اعظم اسٹیم پریس حیدر آباد، دکن ۱۹۴۴ء ؁ ص ۱۲ ۔ ۲۶ ۔ ۲۸ اور ۳۲
۲۴؂ ایم ، پی ضلع گزیٹرمغربی نماڑ ۔مرتب راجندر ورما ۔ ضلع گزیٹر وبھاگ ،ایم ۔ پی بھوپال۱۹۷۳ء ؁ ص ۶۶ ۔ ۷۰ ترجمہ ہندی سے
ایضاً … ایم ۔پی ضلع گزیٹرمشرقی نماڑ ۔ مرتب پریم نارائن شری واستو ضلع گزیٹر وبھاگ ایم ۔پی بھوپال ۱۹۷۱ ؁ ء ص ۸۲ تا ۸۷ ترجمہ ہندی سے
ایضاً …..رپورٹ آف دی پراونس آف نماڑ۔ ۱۹۵۶ء ؁ ص ۱۶ تا ۱۹ انگریزی سے ترجمہ
۲۵؂ ہسٹری آف فریڈم مو منٹ ان ایم ۔ پی ص ۲۹۹
ایضاً ضلع مشرقی نماڑ گزیٹر۔ ۱۹۷۱ء ؁ ص ۹۲
ایضاً کرانتی کے چرن ۔ پریا دت شکل ص ۱۵۵
۲۶؂ یاد گار سلف۔ جاویدؔ انصاری ۱۹۸۳ء ؁ ص ۲۱
ایضاً مومن انصاری برادری کی تہذیبی تاریخ ۔ ڈاکٹر محی الدین مومن ۔ بھاوے پراؤیٹ لمیٹیڈ بمبئی ۸۔ مارچ ۱۹۹۴ء ؁ ص ۶۸۹
۲۷؂ مجموعۂ کلام ۔ میکدہ۔(حشمت اللہ) ریاضیؔ برہان پوری ۔ مارچ ۱۹۷۲ء ؁ ص ۶
’’مومن انصاری برادری کی تہذیبی تاریخ ۔ ڈاکٹر مومن محی الدین ۔ بھاوے پراؤیٹ لمیٹیڈ بمبئی ۸۔ مارچ ۱۹۹۴ء ؁ ص ۶۸۹ تا ۶۹۰
۲۸ ؂ تاریخِ مسلم لیگ۔ مرتب مرزا اختر حسن ایڈوکیٹ۔ مکتبہ لیگ بمبئی ۳۔ ص ۴۲۲
۲۹؂ مومن انصاری برادری کی تہذیبی تاریخ ۔ڈاکٹر محی الدین مومن ۔ بھاوے پراؤیٹ لمیٹیڈ بمبئی ۸۔ مارچ ۱۹۹۴ء ؁ ص ۶۸۱ تا ۶۸۲
۳۰؂ مجموعۂ کلام ۔ یاد گارِ پنجتن۔ علی احمد گرامیؔ چشی ۔ فردوس بک ڈپو بمبئی ۔ص ۶
۳۱؂ برہان پور میں اردو نثر نگاری ماضی اور حال کے آئینہ میں ۔وسیم افتخار انصاری۔ مقالہ برائے ایم۔ اے سال آخر ۴۔۲۰۰۳ء ؁ غیر مطبوعہ
ایضاً ’’برہان پور تاریخ کے آئینہ میں ‘‘ پروفیسر وسیم افتخار انصاری ۔بشمول ۔روز نامہ اردو ٹائمز ممبئی ۔آٹھویں قسط ۔اتوار ۱۰؍ اکتوبر۲۰۱۰ء ؁ ص ۶
۳۲؂ مجموعۂ کلام ۔ نیرنگ دانش ۔ محمد اسما عیل فہمیؔ برہان پوری ۔ مرتب جاویدؔ انصاری۔ ادبی سوسائٹی برہان پور ۱۹۷۶ ؁ء ص ۶
۳۳؂ ہندی ۔ ہفت روزہ۔ کرم ویر ۔ ۴؍جون ۱۹۲۱ء ؁ ا ز مشرقی نماڑ گزیٹر ص ۹۳
۳۴ ؂ مجموعۂ کلام۔ میکدہ۔ (حشمت اللہ) ریاضیؔ برہان پوری ۱۹۷۲ ؁ ء ص ۶
۳۵؂ مجموعۂ کلام۔ میکدہ۔ (حشمت اللہ) ریاضیؔ برہان پوری ۱۹۷۲ ؁ء ص ۶
۳۶؂ ’’مالوہ کی کہانی تاریخ کی زبانی ۔ مولف قاضی عبدالقدوس فاروقی دیپال پوری ۔ضیا ء پبلیکیشنز لکھنؤ۔ اگست ۱۹۹۵ء ؁ ص ۳۶
۳۷؂ ایم ۔پی ضلع گزیٹرمشرقی نماڑ ۔ مرتب پریم نارائن شری واستو۔ ضلع گزیٹر وبھاگ، ایم ۔پی بھوپال۱۹۷۱ء ؁ ص ۵۸ تا ۵۹ترجمہ ہندی سے
ڈاکٹر وسیم افتخار انصاری
صدر شعبۂ اردو
گورنمنٹ مہا رانی لکشمی بائی گرلس پی.جی.کالج
قلعہ میدان،اندور۴۵۲۰۰۶(ایم.پی.)
موبائل :۹۰۰۹۲۲۸۷۸۶ ۰

Advertisements

About Muslim Saleem

Muslim Saleem (born 1950) is a great Urdu poet, writer and journalist and creator of massive directories of Urdu poets and writers on different blogs. These directories include 1. Urdu poets and writers of India part-1 2. . Urdu poets and writers of India part-II 3. Urdu poets and writers of World part-I 4. Urdu poets and writers of World part-II, 5. Urdu poets and writers of Madhya Pradesh, 6. Urdu poets and writers of Allahabad, 7. Urdu poets and writers of Shajahanpur, 8. Urdu poets and writers of Jammu-Kashmir and Kashmiri Origin, 9. Urdu poets and writers of Hyderabad, 10. Urdu poets and writers of Augrangabad, 11. Urdu poets and writers of Maharashtra 12. Urdu poets and writers of Tamil Nadu, 13, Urdu poets and writers of Karnataka 14. Urdu poets and writers of Gujarat, 15. Urdu poets and writers of Uttar Pradesh, 16. Urdu poets and writers of Canada, 17. Urdu poets and writers of Burhanpur, 18. Urdu poets and writers of West Bengal 19. Female Urdu poets and writers, 20. Hindu Naatgo Shuara etc. These directories can be seen on :- 1. www.khojkhabarnews.com 2, www.muslimsaleem.wordpress.com 3. www.urdunewsblog.wordpress.com, 4. www.khojkhabarnews.wordpress.com. 5. www.poetswritersofurdu.blogspot.in 6 www.muslimsaleem.blogspot.in 7. www.saleemwahid.blogspot.in (Life) Muslim Saleem was born in 1950 at Shahabad, Hardoi, Uttar Pradesh in India, brought up in Aligarh, and educated at Aligarh Muslim University. He is the son of the well-known Urdu poet Saleem Wahid Saleem. He has lived in Bhopal, India since 1979. (Education): Muslim Saleem studied right from class 1 to BA honours in AMU schools and University. He completed his primary education from AMU Primary School, Qazi Para Aligarh (Now converted into a girls school of AMU). He passed high school exam from AMU City School, Aligarh and B.A. Hons (Political Science) from Aligarh Muslim University Aligarh. Later, Muslim Saleem did M.A. in Arabic from Allahabad University during his stay in Allahabad. (Career) Muslim Saleem began his career as a journalist in the Urdu-language newspaper Aftab-e-Jadeed, Bhopal. He is multilingual journalist having worked on top posts with Dainik Bhaskar (Hindi), Central Chronicle (English), National Mail (English), News Express (English) and most recently as the chief copy editor of the Hindustan Times in Bhopal. At present, Muslim Saleem is English news advisor to Directorate of Public Relations, Government of Madhya Pradesh. (as on December 1, 2012). (Works and awards) Muslim Saleem has been appointed as Patron of Indo-Kuwait Friendship Society. He is the author of Aamad Aamad, a compilation of his poetry published by Madhya Pradesh Urdu Academi. Several of his couplets are well known in the Urdu language. He won the Yaad-e-Basit Tarhi Mushaira, a poetry competition, in 1982. In 1971, Muslim Saleem was awarded by Ismat Chughtai for his Afsana “Nangi Sadak Par” at AMU Aligarh. His ghazals and short stories have been published in Urdu-language publications Shair, Ahang, Asri, Adab, Agai, Naya Daur, Sada-e-Urdu, Nadeem and other periodicals and magazines. His work in service of the Urdu language was recognized in a special 2011 edition of the periodical Abadi Kiran, devoted to his work. Evenings in his honour have been organised in a number of cities. Muslim Saleem is currently compiling a massive database of poets and writers of the Urdu language, both historic and currently active. (Translation of Muslim Saleem’s work in English): Great scholar Dr. Shehzad Rizvi based in Washington has translated Muslim Saleem’s ghazal in English even though they have never met. Dr. Rizvi saw Muslim Saleem’s ghazals on websites and was so moved that he decided to translate them. (Praise by poets and writers) Great poet and scholar of Urdu and Persian Dr. Ahmad Ali Barqi Azmi has also written a number of poetic tributes to Muslim Saleem. Dr. Azmi and Muslim Saleem are yet to meet face to face. Beside this, great short-story writer and critic Mehdi Jafar (Allahabad, Bashir Badr (Bhopal), Jafar Askari (Lucknow), Prof. Noorul Husnain (Aurangabad), Kazim Jaffrey (Lahore) and a host of others have written in-depth articles defining Muslim Saleem’s poetry. (Muslim Saleem on other websites) Muslim Saleem’s life and works have been mentioned on Wikipedia, www.urduadab4u.blogspot.in, www.urduyouthforum.org and several other website. In fact, www.urduyouthforum.org has given credit to Muslim Saleem for lifting a number of pictures and entries from Muslim Saleem’s websites and blogs. (Address): Muslim Saleem, 280 Khanugaon, VIP Road, Bhopal-462001 Mobiles: 0 9009217456 0 9893611323 Email: muslimsaleem@rediffmail.com saleemmuslim@yahoo.com Best couplets: Zindagi ki tarah bikhar jaayen…… kyun ham aise jiyen ki mar jaayen kar di meeras waarison ke sipurd…. zindagi kis ke naam mar jaayen rooh ke karb ka kuchh mudaawa no tha doctor neend ki goiyan likh gaya wo dekhne mein ab bhi tanawar darakht hai haalanke waqt khod chuka hai jaden tamam My Facebook url is http://en-gb.facebook.com/pages/Muslim-Saleem/176636315722664#!/pages/Muslim-Saleem/176636315722664?sk=info Other blogs http://urdupoetswriters.blogspot.com/ http://muslimspoetry.blogspot.com/ http://abdulahadfarhan.blogspot.com/ http://ataullahfaizan.blogspot.com/ http://hamaramp.blogspot.com/ http://madhyanews.blogspot.com/ http://cimirror.blogspot.com/
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s