Hameed Akhtar passes away

Hameed Akhtarپاکستان کی ترقی پسند ادیب اور روزنامہ ایکسپریس کے کالم نگار حمید اختر کا لاہور میں سترہ اکتوبر کو انتقال ہو گیا۔ ان کی موت سے پاکستانی صحافت ایک اچھے صحافی اور کالم نگار کے علاوہ ایک اچھے انسان سے محروم ہو گئی ہے جو اپنے دل میں غریبوں کے لیے درد رکھتے تھے۔ وہ پاکستان کے ان صحافیوں، شاعروں اور ادیبوں کی نسل میں سے تھے جنہوں نے اپنے نظریات کی خاطر جیلیں کاٹیں۔

یہ مضموں انہوں نے کئی برس اپنے موت پر خود لکھا تھا ۔ جدید ادب کا یہ شاہکار پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ پاکستان کے شاید پہلے ادیب اور کالم نگار ہوں گے، جنہوں نے اپنے موت سے قبل ہی اپنے موت پر اپنے ہاتھوں سے ایک مضمون لکھا تھا۔ یہ مضمون ان کی کتاب آشنائیاں کیا کیا سے شکریہ کے ساتھ شائع کیا جارہا ہے۔ ٹاپ سٹوری آن لائن کا ادارتی عملہ ان کے انتقال پر افسردہ ہے اور انہیں ان کی پاکستان صحافت کے لیے ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتا ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ حمید اختر جیسے عظیم لوگوں کی وجہ سے آج صحافت معتبر ہے۔ حمید اختر صاحب ہم آپ کو مس کریں گے: ایڈیٹر ٹاپ سٹوری آن لائن

بے وقوف

حمید اختر

خوش پوش، خوش گفتار، نیک نفس مگر کم عقل بلکہ بے وقوف، یہ تھے حمید اختر، عمر بھر توہمات، تعصبات اور مذہبی جنون پرستوں کے خلاف سینہ سپر رہے۔ مگر آخری عمر میں اس پر خاصے متاسف نظر آتے تھے، افسوس یہ تھا کہ ان کے بزرگوں نے تین پشت پہلے نہ معلوم کیوں اس فیصلے کا اعلان کر دیا کہ ان کی اولاد اپنے خاندانی نسب کو ظاہر نہیں کرے گی۔ روایت یہ تھی کہ ان کے دادا مرحوم کی روحانی قوت کسی چیلنج میں ظاہر ہو گئی تھی۔ اس کے فوراً بعد آپ انتقال کر گئے مگر وصیت بھی کر گئے کہ ان کی آنے والی نسلیں پیری مریدی کا خدانی پیشہ ترک کر کے خود محنت کر کے کمائیں اور کھائیں۔ چنانچہ ان کے والد اور تایا اور پھر ان کی اولاد کام پر لگ گئی۔ یہ بھی فیصلہ تھا کہ نام کے ساتھ سید نہیں لکھیں گے۔ اس خاندان کے لوگ اپنے ناموں کے ساتھ شیخ لکھنے لگے کہ اس زمانے میں اس لفظ کا خاصا احترام تھا۔ مگر کچھ عرصے کے بعد غالباً چنیوٹ کے شیخان کو دیکھ کر اور اپنے میں ان کی کوئی خوبی نہ پا کر قریشی لکھنا شروع کر دیا۔ اس وقت تک یہ لفظ بھی واجب الاحترام تھا۔ اس خاندان کی تیسری نسل کے جوان ہونے تک ملک کے تمام قصاب قریشی بن چکے تھے۔

اس لیے مجبوراً یہ لقب بھی ترک کرنا پڑا، مگر اس ادل بدل کی وجہ سے نزدیکی لوگوں میں اس خاندان کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار ہونا شروع ہو گیا۔ البتہ جو لوگ واقف تھے مثلاً سادات جگراؤں کا خاندان، انہیں اس بات پر بہت حیرت تھی کہ لوگوں کو سید بنتے تو بہت دیکھا ہے مگر یہ خاندان ایسا ہے جو اس کو عیب سمجھ کر چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہیں شاید اس مجبوری کا علم نہیں تھا جو بزرگوں کی وصیت کی شکل میں ان کے سر منڈھ دی گئی تھی۔

حمید اختر کو اس پابندی پر بہت افسوس تھا آخری عمر میں جب کام کرنے کے قابل نہ رہے، اخراجات میں اضافہ اور آدمنی میں کمی ہو گئی تو بہت افسردہ رہنے لگے۔ خاص طور سے جب پیروں فقیروں کو مفت کی کھاتے دیکھتے تو افسوس سے کہتے ’’ہمارے بزرگوں نے ہم پر بڑا ظلم کیا اگر وہ ہم پر یہ پابندی عائد نہ کرتے تو اس ملک میں ہمارا رتبہ کتنا بلند ہوتا۔ خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ جو ہمارے جد امجد تھے، اپنے مرشد خواجہ اجمیریؒ اور حضرت داتا گنج بخشؒ کے سوا برصغیر کے تمام صوفیاء سے سینئر تھے۔ اس لیے پاکستان میں جہاں جہالت اور تعصبات کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں اور عالم لوگ روزمرہ کی محرومیوں سے تنگ آ کر دوبارہ پیر پرستی کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ ہمارے لیے عیش و عشرت کے دروازے کھلے ہوتے مگر افسوس کہ بزرگ ہمیں کام پر لگا گئے نتیجہ یہ ہے کہ عمر بھر چکی پیستے رہے، محنت کرتے رہے، ہمیشہ مقروض رہے، اپنا گھر تک نہ بنا سکے۔‘‘

مشرقی پنجاب کے ضلع لدھیانہ کے ایک دور افتادہ گاؤں میں پیدا ہوئے جب ہوش سنبھالا تو گھر والوں نے حفظ قرآن کیلئے مدرسے میں داخل کرا دیا۔ بظاہر اس کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ سوائے اس کے کہ انہیں کسی نے بتا دیا تھا۔ حافظ قرآن کی سات پشتیں بخشی جاتی ہیں۔ دس سال سے کم عمر ہی میں قرآن حفظ کر لیا مگر اس دینی مدرسے میں طلباء سے جو سلوک ہوتا تھا اس کے ردعمل کے نیتجے میں بلوغت تک پہنچتے پہنچتے تمام دینی رشتوں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ افسوس صرف سات پشتوں کی محرومی کا تھا۔ اپنی عاقبت کی کبھی فکر نہ کی۔ آخری عمر میں بھی نہیں کہ اس کو وضع داری کے خلاف سمجھتے تھے اور ایسے لوگوں سے سخت نفرت کرتے تھے جو زندگی بھر لوٹ مار، چوری دھوکہ، بے ایمانی اور ہر قسم کے لہو و لعب میں مصروف رہتے اور آخری عمر میں داڑھی بڑھا کر تسبیح ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ اس ضمن میں اپنے ایک تایا کو گرو مانتے تھے۔ یہ تایا اور ان کے چھوٹے بھائی متضاد صفات کے حامل تھے، چھوٹے بھائی پڑھے لکھے، عالم فاضل اور بہت نیک انسان تھے۔ بڑے اور گرو تایا گنوار اور ان پڑھ تھے۔ چھوٹے تایا نے بزرگوں کی وصیت کے پیش نظر نوکری کر لی اور پولیس کے محکمے میں تھانیدار ہو گئے۔ بڑے زمینوں کی دیکھ بھال کرتے رہے۔ عمر بھر اپنی گھوڑی کے سوا کسی دوسری سواری پر بھروسہ نہیں کیا۔ چھوٹے تایا جب نوکری کے دن پورے کرنے کے بعد ریٹائر ہو کر گھر آئے تو انہوں نے چھوٹے سے پرانے دیوان خانے کو مسمار کر کے نیا، بڑا اور انتہائی پر شکوہ پختہ دیوان خانہ تعمیر کرایا۔ اس کے سامنے اور اردگرد اعلیٰ قسم کے باغات لگوائے جن میں ہر موسم کے پھول کھلتے تھے۔

زیادہ وقت عبادت میں گزارتے، پنشن کی پوری رقم دواؤں پر خرچ کر دیتے، جو غریب دیہاتیوں ے مفت علاج کے کام آتیں۔ تسبیح ہر وقت ہاتھ میں رہتی۔ پھولوں کو دیکھتے اور خدا کی قدرت کا نظارہ کرتے ہوئے اللہ اللہ کا ورد کرتے رہتے۔ نماز کے پابند اور تلاوت کے عادی تھے۔ مگر کسی بے نمازی کو برداشت نہ کرتے تھے۔ بڑے تایا چونکہ بے نماز تھے اس لیے ان پر یہ پابندی عائد تھی کہ نماز پڑھیں گے تو دیوان خانے میں رہ سکیں گے ورنہ ان کی چارپائی اور بستر اصطبل میں رہے گا۔ بڑے تایا دس برس اصطبل میں رہے ان کا کہنا تھا ’’چوری میں نے نہیں کی، یاری میں نے نہیں لگائی، میں کیوں نماز پڑھوں۔ جنہوں نے یہ سب کیا ہے وہ پڑھتے پھریں نمازیں۔‘‘

حمید اختر کی ابتدائی زندگی غربت میں گزری، تین برس کے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا۔ اس زمانے میں خاندانی زرعی اراضی کا بہت بڑا حصہ دریا برد ہو گیا۔ ویسے بھی 1924ء کی پیدائش تھی اور اس کے بعد کے دس بارہ برس برصغیر میں کساد بازاری اور بحران کے تھے۔ جنس کی کوئی قیمت نہ تھی اور روزگار کے ذرائع مسدود تھے۔ بچپن اس طرح گزرا کہ مدرسے میں بلاوجہ حافظ صاحب سے مار کھاتے رہے۔ مدرسہ ان کے اپنے بزرگوں کا قائم کردہ تھا۔ حافظ صاحب یہ ثابت کرنے کیلئے بلاوجہ سزا دیتے تھے کہ مالکوں کے بچے بھی سزا سے نہیں بچ سکتے تھے۔ اصل میں وہ یہ سب اپنے گھناؤنے جرائم کی پردہ پوشی کیلئے کرتے تھے تاکہ بچے دہشت زدہ رہیں اور گھر جا کر ان کے بارے میں کچھ نہ کہیں۔ اس میں وہ بلاشبہ کامیاب رہے خود حافظ صاحب بھی دنیا کے ستائے ہوئے تھے۔ سوتیلی ماں کے ظلم سے تنگ آ کر گھر سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ کسی خیراتی مدرسے میں قرآن حفظ کیا۔ روٹیاں مانگ مانگ کر کھاتے رہے اور اپنے تمام مصائب کا انتقام بچوں سے لیتے رہے۔ شادی نہیں کی کہ اس قابل ہی نہیں تھے سال بھر اروی کھاتے تھے کیونکہ کسی نے ان سے کہہ دیا تھا اروی کھانے سے شادی کے قابل ہو جائیں گے مگر افسوس کہ ان کی یہ آرزو پوری نہ ہوئی۔

حمید اختر کا بچپن کھیتوں کھلیانوں میں گزرا۔ پانچ برس کی عمر سے نماز باجماعت ادا کرنے کی پابندی تھی۔ نماز قضا ہونے کی صورت میں حافظ صاحب مرغا بنا کر کمر پر ڈبل اینٹیں رکھ دیتے۔ اس ڈر کی وجہ سے فجر کی اذان کے ساتھ ہی صبح صبح اٹھ بیٹھتے اور مسجد کا رخ کرتے لیکن چونکہ باجماعت نماز خوف کی وجہ سے ادا کرتے تھے۔ اس لیے برس ہا برس بغیر وضو کے منہ پر چھینٹے مار کر ہی پڑھتے رہے، باقی نمازوں سے پہلے البتہ وضو ضرور کر لیتے تھے برس ہا برس تک کوئی نماز قضا نہیں کی۔ آٹھ دس برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے عادت پختہ ہو چکی تھی مگر چودہ پندرہ برس کی عمر کے بعد کبھی ادھر کا رخ نہیں کیا۔ کہا کرتے تھے میں بچپن ہی میں اپنا کوٹہ پورا کر چکا ہوں۔ دس برس کی عمر میں قرآن شریف حفظ کر لیا تھا۔ اسی سال رمضان میں تراوایح پڑھائی اور پورا قرآن سنایا۔ شبینہ بھی پڑھا۔ یہ سارے کام بڑی شتابی سے کیے۔ اس کے بعد گھر والوں کو دنیاوی علوم کی فکر ہوئی تو گاؤں سے بڑے بھائی کے پاس لدھیانہ بھجوا دیا جہاں تیسری جماعت میں داخلہ لیا اور وہیں سے بغاوت کا آغاز ہوا۔

خاندان میں علی ہر نام کے ساتھ ضروری تھا۔ والد کا نام رحمت علی تھا۔ تایا حیدر علی تھے، تین بڑے بھائی جعفر علی، اصغر علی اور صفدر علی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ان کا اپنا خاندانی نام بھی اختر علی تھا۔ سکول میں داخلے کے وقت اڑ گئے کہ ہر نام کے ساتھ علی لگانے کی کیا تک ہے؟ میرا نام اختر علی نہیں حیمد اختر ہے، بھائیوں، بزرگوں، سکول والوں سبھی نے لاکھ سر مارا مگر یہ اڑے رہے بالآخر سب لوگوں کو نام میں یہ معصوم سی ترمیم ماننا پڑی۔ چنانچہ سکول میں اپنے تجویز کردہ نام ہی سے داخل ہوئے۔ جب چھٹی جماعت میں پہنچے تو ہم جماعتوں کے مقابلے میں بہت لمبے ہو گئے اور ساتھی لڑکے لمبو کہہ کر چڑانے لگ۔ اسی زمانے میں ایک روز گھر آ کر بستہ پھینک دیا اور اعلان کر دیا کہ دیو بند جا کر مولوی بنوں گا۔ سکول اب ہرگز نہیں جاؤں گا۔ دلیل یہ تھی کہ صحیح وقت پر سکول میں داخل کرانے کی بجائے مسجد میں قرآن کریم حفظ کرنے بٹھا دیا تو اب انگریزی تعلیم کی کیا ضرورت ہے اصولاً اب مولوی بننا چاہیے۔

گھر والوں پر جب یہ عقدہ کھلا کہ چھٹی جماعت کے لحاظ سے قد بڑھنے کی وجہ سے لڑکے تنگ کرتے ہیں۔ اس لیے سکول سے بددل ہیں تو وہ سر جوڑ کر بیٹھے۔ فیصلہ ہوا کہ سکول سے اٹھا لیا جائے اور گھر میں تیاری کر کے آٹھویں جماعت یعنی ورنیکلر فائنل کا امتحان دلایا جائے۔ اس طرح لڑکا ایک سال میں تین جماعتیں پاس کر کے ’’ہم قدوں کی کلاس‘‘ میں پہنچ جائے گا اگلے برس نویں میں پہنچے تو اس خرابی کی خاصی حد تک اصلاح ہو چکی تھی۔

بچپن اگرچہ غربت میں گزرا تھا، مگر اس خاندان کی اپنے گاؤں ہی میں نہیں پورے علاقے میں بہت عزت تھی۔ خاندان اگرچہ پیری مریدی ترک کر چکا تھا مگر سب لوگ حقیقت حال سے آگاہ تھے۔ خاندانی برتری کے قصے بھی مشہور تھے مثلاً پورے علاقے میں یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ کوئی چور ان کے گھر گیا تو اندھا ہو گیا چور ان کے خاندان کے گھروں سے دو دو میل دور رہتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد البتہ چوروں نے یہ کمی پوری کی اور متعدد بار ان کے مال پر ہاتھ صاف کیے۔ کسی کی بینائی کو ضعف تک نہیں پہنچا بلکہ کیؤں کی نظر اس کے بعد سے زیادہ تیز ہو گئی۔ خیر قیام پاکستان سے قبل آس پاس کے علاقے میں اس خاندان کا بہت احترام کیا جاتا تھا۔ شہر میں آنے کے بعد اس کی کمی محسوس کی تو کھیل کود اور ادبی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے اور یوں انفرادی طور پر نمایاں ہونے کی سعی کرتے رہے۔ یہ دوسری جنگ عظیم کا زمانہ تھا۔ آزادی کی لہر پورے ملک میں چل رہی تھی یہ طالبعلمی کے زمانے میں ہی مجلس احرار اور کانگریس کے جلسوں میں شریک ہونے لگے مگر یہ دور مختصر رہا۔ جلد ہی ٹریڈ یونین اور کمیونسٹ پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں میں سرگرمِ عمل تھے۔ انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنایا اور غریبوں اور مظلوموں کی حمایت کا بیڑا اٹھا لیا۔

لدھیانہ میں نوجوانوں کا ایک گروہ تھا۔ جس کے سرخیل ساحر لدھیانوی تھے۔ اس میں اکرم یوسفی، اعجاز اکرم مرحوم، احمد ریاض مرحوم، ظہور نظر مرحوم کے علاوہ فیض الحسن چودھری، غلام مرتضیٰ اسحاق (ساقی) اور افسانہ نگار سید انور وغیرہ شامل تھے۔ یہ سبھی لوگ حمید اختر سے سینئر تھے مگر یہ بے وقوف ان کے گروپ میں شامل ہو گیا اور سیاسی ہنگامہ آرائی میں سب سے آگے نکل گیا۔ یہ لوگ بہت اچھی اچھی باتیں کرتے۔ سیاسی اور سماجی کام بھی کرتے۔ لکھنے پڑھنے میں کم دلچسپی لیتے مگر ساتھ ہی اپنی ذاتی زندگی بنانے کی ضرورت سے غافل نہ ہوتے۔ ان میں سے کسی نے تعلیم ادھوری نہیں چھوڑی۔ سوائے ساحر کے مگر اس میں بھی دیگر عوامل کا دخل زیادہ تھا۔ مگر یہ حضرت لدھیانہ گورنمنٹ ہائی سکول سے فرسٹ ڈویژن میں میٹرک پاس کرنے کے بعد کالج میں داخل ہوئے تو ساحر نے بڑی جامع دلیلوں سے یہ واضح کر دیا کہ ہمیں انگریزی تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ہم نے انگریزی کی نوکری کرنی ہی نہیں بلکہ اس ملک کو آزاد کرانا اور عام لوگوں کی حالت بہتر بنانی ہ۔ جنگ کی وجہ سے گرانی نے ملازم پیشہ لوگوں کی زندگی اجیرت کی ہوئی تھی۔ بڑے بھائیوں کے جو سبھی ملازمت میں تھے حالات دیکھ کر موصوف نے تعلیم ادھوری چھوڑ دی اور سیاسی تحریکوں اور ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگے۔ کبھی لاہور، کبھی لدھیانہ، کبھی شملہ اور کبھی انبالہ میں نظر آتے۔ انبالہ تو ایک طرح سے ہیڈ کوارٹر بن گیا۔ اس لیے کہ ابن انشاء میٹرک پاس کرنے کے بعد وہاں ملٹری اکاؤنٹس کے محکمے میں ملازمت کر رہا تھا۔ بیچ بیچ میں مہنگائی اور گھر کی حالت دیکھ کر نوکریاں بھی کیں۔ سات ماہ میں چار پانچ سرکاری محکموں کو اپنا مقروض بنا کر گھر آتے رہے۔ کہیں سے زمانہ جنگ کے باوجود ہڑتال کرا کے فرار ہوئے۔ کہیں بیس دن کام کرنے کے بعد افسر سے جھگڑا ہوا اور اپنے واجبات چھوڑ کر گھر آ گئے۔ کہیں سے نکالے گئے۔ 1944ء میں شملہ کے نزدیک سباتھو میں امریکنوں کے ریسٹ کیمپ میں ملازم ہوئے۔ یہاں تین مہینے گزارے۔ اس کیمپ میں امریکی سپاہی محاذ جنگ سے پندرہ پندرہ روز کیلئے لائے جاتے تھے۔ ان کیلئے کھانے پینے کی فراوانی تھی۔ دیگر جبلی تقاضے پورے کرنے کا اہتمام بھی تھا چونکہ کھانے پینے کی اشیاء کا چارج حمید اختر کے پاس تھا اور حساب کتاب رکھنے کی کوئی پابندی نہ تھی۔ اس لیے بڑے اصرار کے ساتھ ساحر لدھیانوی اور شورش کاشمیری کو اپنے پاس بلایا۔ دو دن تک ان کی خاطر مدارت کی۔ وہ خوب عیش کر کے رخصت ہوئے تو خفیہ پولیس کی رپورٹ پر اگلے ہی دن ان کو بھی وہاں سے بڑی عزت کے ساتھ رخصت کر دیا گیا۔

اسی زمانے میں ساحر اور حمید اختر بمبئی پہنچ گئے۔ ایک دوست نے وہاں فلم کمپنی بنائی تھی اور آل انڈیا کانگریس کی تاریخ کو کہانی کی شکل میں فلم میں دکھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے ان دونوں کو فلم کے گانے اور مکالمے لکھنے کیلئے بلوا لیا تھا۔ بمبئی میں تقریباً دو سال گزارے۔ اس بے وقوف نے یہاں بھی کمپنی میں بے قاعدگیوں کے خلاف مورچہ لگا لیا اور چند ہی ماہ بعد اس سے الگ ہو کر دالکیشور روڈ پر سید سجاد ظہیر کے گھر رہنے لگا۔ یہ گھر جس میں بنے بھائی (سجاد ظہیر) رضیہ سجاد ظہیر، ان کی دو چھوٹی بچیاں، نجمہ اور نسیم رہتی تھیں۔ ایک مثالی گھر تھا۔ اسی گھر میں سال ڈیڑھ سال قیام کرنے کا نتیجہ حمید اختر عمر بھر بھگتتے رہے، اس لیے کہ یہاں انہوں نے انسانی محبت، اخوت، رواداری اور بے لوث خدمت کی جو مثالیں دیکھیں وہ ذہن پر ثبت ہو گئیں، بنے بڑے گھر کے بیٹے تھے مگر بمبئی میں ان کی زندگی درویشانہ بلکہ قلندرانہ تھی۔ یہ گھرانہ بمبئی جیسے شہر میں سو ڈیڑھ سو روپے ماہوار میں گزارا کرتا تھا۔ ان کے گھر والے بھائی بہن عزیز رشتہ داری یو۔پی میں بڑے ٹھاٹھ سے انتہائی امیرانہ زندگی بسر کرتے تھے۔ مگر بنے اپنی ہی دھن میں ملک میں آزادی اور انقلاب کی جنگ لڑ رہے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ حمید اختر نے عمر بھر بنے بھائی اور فیض احمد فیض کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کی، انسانی سماج اور معاشرے کی اصلاح کیلئے اپنی زندگی کا فراموش کیے رکھا۔ بمبئی کے قیام کا زمانہ ایک یادگار زمانہ تھا انجمن ترقی پسند مصنفین کی شاخ بمبئی کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت میں انہوں نے نہ صرف بمبئی میں ادیبوں کو منظم کیا بلکہ احمد آباد، سورت، مالیگاؤں، حیدر آباد وغیرہ میں شاندار ادبی کانفرنسوں کے انعقاد کا اہتمام بھی کیا۔ انہیں دنوں فلم میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی ایک فلم میں بڑک کامیابی سے نہایت اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد گویا فلمی دنیا کے دروازے کھل گئے۔ ہر طرف سے معاہدوں کی پیشکش ہونے لگی۔ یہ ایک صورت تھی جس کیلئے ہزاروں نوجوان برسوں بمبئی کی سڑکوں کی خاک چھانتے ہیں، بھوکوں مرتے ہیں مگر اس عقل مند نے یہاں بھی اپنی زندگی بنانے کی کوشش نہیں کی۔ یہی کہتے رہے یہ میرا میدان نہیں ہے میں ادب کا آدمی ہوں۔ 1947ء میں اپنے گاؤں چلے گئے۔ وہاں سے ہنگاموں کے درمیان دریائے ستلج پار کر کے نکودر کیمپ میں پہنچ گئے جہاں بدترین حالات میں تین مہینے گزارنے کے بعد لاہور آ گئے۔

نکودر کیمپ میں تین مہینوں کے قیام نے حمید اختر کو بہت حد تک سنکی بنا دیا۔ یہ حیرت انگیز تجربہ تھا جس میں پندرہ سولہ لاکھ انسان، مرد، عورتیں، بوڑھے، بچے، بیمار، ضعیف حتیٰ کہ حاملہ عورتیں بھی کھلے آسمانوں کے نیچے پڑے تھے۔ یہ کوئی باقاعدہ کیمپ نہیں تھا بلکہ انسانی ہجوم کھیتوں میں پڑا ہوا تھا۔ اردگرد کے سینکڑوں دیہات کے لاکھوں افراد جو پشتوں سے اس جگہ آباد تھے اور زمین کا سینہ چیر کر رزق پیدا کرتے آئے تھے۔ اچانک اپنا گھر بار، مال مویشی، زمین اور ہر قسم کے اثاثے چھوڑے کر یہاں آ گئے تھے۔ ان کے ساتھ زیادہ سامان تھا۔ وہ گیہوں اور دوسری اجناس منہ مانگے داموں پر فروخت کر رہے تھے۔ تین چار ماہ تک یہ لوگ کسمپرسی کی حالت میں پاکستان جانے کے منتظر بیٹھے رہے۔ نہانے اور کپڑے دھونے کا کوئی انتظام نہ تھا۔ ابتدائی دو تین ہفتے اسی پریشان حالت میں گزرے پھر اس کیمپ میں از خود ایک قسم کی باقاعدگی پیدا ہو گئی چونکہ تمام ہنرمند لوہار، ترکھان، حجام، موچی، دھوبی وغیرہ مسلمان تھے۔ اس لیے سب نے کاروبار کے راستے دریافت کر لیے۔ چٹائیوں پر جگہ جگہ کاریگر لوگ کام کے انتظار میں بیٹھے دکھائی دینے لگے۔

ترکھانوں نے درخت کاٹ کاٹ کر سائبانوں کیلئے ڈھانچے بنا دیئے۔ حجام بال کاٹنے لگے، مداری تماشہ دکھانے لگے۔ ریچھوں اور بندروں کے کرتب دکھانے والے دن بھر کیمپ میں گھومتے نظر آتے۔ زندگی ہر جگہ اپنے راستے ڈھونڈ لیتی ہے۔ زندہ انسان بدترین حالات میں بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا مگر سب کچھ ہوتے ہوئے بھی یہ لاکھوں افراد بے بسی اور بیچارگی کی تصویر تھے۔ باہر کی دنیا سے ان کا کوئی رابطہ نہ تھا۔ بیماروں کیلئے دوا دارو موجود نہ تھا۔ ہزاروں افراد ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گئے۔ گندگی کی وجہ سے وبائیں پھوٹ پڑیں۔ وہیں زندگہ انسانوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں قبریں ابھر آئیں۔ ان کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ کبھی کبھی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہاں سے زندگی نکل کر کوئی نہیں جائے گا۔ سب یہاں اسی مٹی میں دفن ہو جائیں گے۔ مہینوں کسی نے ان کی خبر نہ لی۔ تین ماہ میں دو بار بیس ٹرک آئے اور چند افراد کو ساتھ لے گئے۔ اس کے بعد مہینوں خاموشی رہی۔ رتیں بدلیں، ساون بھادوں، اسوج کے مہینے گزر گئے۔ اور کاتک کی اداس صبحیں اور شامیں اپنا اثر دکھانے لگی۔ دن بھر اداس تھکا دینے والی ہوائیں چلتی رہتیں۔ خنکی بڑھ گئی اور پوری فضا بوجھل ہونے لگی۔ کسی کو انجام کی خبر نہ تھی۔

حمید اختر کیلئے یہ دن بہت اذیت ناک تھے۔ پہروں کھلے آسمان کے نیچے بیکار بیٹھے بیٹھے یہی سوچ دامن گیر ہوتی کہ آزادی کی جس منزل کیلئے برسوں سے جدوجہد کر رہے تھے کیا یہی ہے وہ منزل؟ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ ان کی زندگیوں میں یہ زہر کس نے گھول دیا ہے انہوں نے یہیں اس کیمپ میں اسی آسمان کے نیچے یہ عہد کیا کہ زندہ پاکستان پہنچ گئے تو اپنی زندگی ملک اور عوام کیلئے وقف کر دیں گے۔

پاکستان میں چالیس برس سے زیادہ مدت اسی جدوجہد میں گزار دی۔ ابتائی چند برس میں بھرپور سیاسی کام کیا۔ ادیبوں کی تنظیم، ٹریڈ یونین سرگرمیاں اخبار نویسی غرضیکہ ہر کام کا محور یہی جذبہ تھا۔ جب یار لوگ الاٹمنٹوں میں لگے ہوئے تھے۔ یہ حضرت سیاسی کام کرتے رہے، جیل جاتے رہے۔ اس ملک سے بھوک بیماری اور احتیاج کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر چالیس برس بعد پتہ چلا کہ ہم تو اور پیچھے چلے گئے ہیں۔ تعصبات اور توہمات نے جن کے خلاف جہاد کرنے کا مشن اپنایا تھا، خلق خدا کے گرد گھیرا اور تنگ کر دیا تھا۔ افلاس اور بھوک نے ہر طرف پنجے گاڑ رکھے تھے، چند لوگ لاکھوں کروڑوں افراد کی محنت پر عیش کر رہے تھے۔ ہر طرف لوٹ بازار گرم تھا۔ استحصالی طبقے زیادہ طاقتور نظر آ رہے تھے اور ملا اور پیر انہی کو اور زیادہ مضبوط بنانے پر تلے ہوئے تھے۔

یہ سب کچھ برداشت کرنا آسان نہیں تھا مگر اس کا علاج ایک ہی تھا۔ جدوجہد جاری رہے، چنانچہ جیسے تیسے آخر دم تک اس عہد کو نبھایا۔ ہاں البتہ عمر کے آخری حصے میں اپنی کوتاہیوں اور بے وقوفیوں پر بہت کڑھتے تھے۔ جب تک لوگوں کو فائدہ یا نقصان پہنچانے کی پوزیشن میں رہے، عزیز و اقربا اور دوست یار بہت پیار سے ذکر کرتے اور کہتے یہ شخص بہت بھولا ہے۔ جوں جوں نفع یا نقصان پہنچانے کی حیثیت سے گرتے گئے۔ دوستوں نے پہلے دبی زان میں پھر صاف لفظوں میں بیوقوف کہنا شروع کر دیا۔ عمر بھر کام کیا، محنت کی، روز کنواں کھود کر پانی نکالتے رہے۔ کبھی بینک میں پیسہ رکھنے کی نوبت نہ آئی، کوئی جائیداد نہ بنائی۔ جو کچھ کمایا اس سے زیادہ خرچ کیا۔ مال و دولت جمع کرنے کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں۔ ساری عمر بنجاروں کی طرح گزری، لمحہ لمحہ کر کے زندگی کے دن پورے کیے مگر شان کے ساتھ، جب بچے ہوئے تو فیصلہ کیا۔ انہیں زندگی کی تمام آسائشیں میسر ہونی چاہیں۔ ان کی تعلیم اور تربیت کیلئے ہر ممکن کوشش کرنا ضروری ہے۔ اچھے ماحول، اچھی تعلیم اور زندگی کی آسائشوں پر سب کا حق ہے۔

یہ فیصلے خود ہی کیے اور پھر عمر بھر ان پر عمل کیا۔ دوستوں سے کہتے میرے بچے احساس محرومی کا شکار نہیں ہوں گے۔ جان مار کر زندگی بھر بچوں کیلئے آسائشوں کا اہتمام کرتے رہے۔ بدترین حالات اور انتہائی مشکلات میں بھی بچوں کی ضروریات اور آرام و آسائش کا خیال رکھا۔ بچے جب بڑے ہوئے تو وہ پوری دیانتداری سے اپنے تیءں امیر خاندان کا فرد تصور کرنے لگے اور وہ اس میں حق بجانت تھے، ان کو تو پتہ ہی نہیں کہ وہ انہیں پانی پلانے کیلئے روز کنواں کھودتا ہے لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ بہت دیر ہو چکی تھی اور یہاں سے واپسی ممکن نہیں تھی۔ اپنی بے وقوفی کا احساس ہوا مگر باامر مجبوری خود بھی انہی کے ساتھ مل گئے۔ اس لیے کہ بچوں کو بہت چاہتے تھے۔ آخری دنوں میں جب دوست احباب بچوں کے معاملات میں ان کی کمزوری کا مذاق اڑاتے تو یہ سمجھ نہیں سکتے تھے کہ لوگوں کو اس پر کیا اعتراض ہے۔ اس لیے کہ ان کیلئے اب اپنے گھر اور بچوں کے سوا کسی چیز میں دلچسپی ہی نہیں رہی تھی۔

ایسی ایسی حماقتیں کرتے رہے کہ ان کے ذکر کیلئے ایک علیحدہ کتاب لکھنے کی ضرورت ہوگی۔ بچوں کی اتنی ناز برداری کی کہ اصولاً انہیں بگڑ جانا چاہیے تھا مگر موصوف کی خوش قسمتی تھی کہ ان کی تمام کوششوں کے باوجود اولاد بگڑی نہیں بلکہ بچے بڑے ذمہ دار اور انتہائی حقیقت پسند رہے جو عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھاتے رہے۔ جو باپ جو ان بچوں کیلئے گرم جلیبیاں خرید کر گھر جاتا ہوا گاڑی تیز چلا کر محض اس لیے حادثہ کر بیٹھے کہ دیر ہو جانے سے جلیبیاں ٹھنڈی ہو جائیں گی اور بچوں کو مزا نہیں آئے گا۔ اس کے بچوں کو لازماً بگڑ جانا چاہیے۔ مگر وہ نہیں بگڑے۔ یہ ان کا کمال ہے۔

جوانی میں بچپن اور بڑھاپے میں جوانی کو یاد کرتے رہے۔ اس لیے کہ مقررہ اوقات میں کوئی کام نہیں کیا۔ بچپن میں جب کھیلنے، کھانے کے دن تھے۔ مدرستے میں قرآن پڑھتے، نمازیں ادا کرتے اور حافظ صاحب کی مار کھاتے رہے۔ اس لیے بچپن گزر گیا تو گاؤں کے درخت، دریا اور مناظر یاد کرتے تھے۔ پرندوں کی اڑان اور مناظر فطرت کے بارے میں پہروں سوچتے اور افسوس کرتے کہ انہوں نے دوسرے بچوں کی طرح اپنی عمر کے اس دور کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ ادھیڑ عمر کو پہنچے تو ناکام معاشقوں کے ضمن میں اپنی حماقتوں پر کف افسوس ملتے رہے۔ ان حسیناؤں کو یاد کرتے جنہیں مایوس کیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ غفوان شباب میں ان پر عشق کا بھوت اس وقت تک سوار رہتا جب تک فریق ثانی متوجہ نہ ہوتا۔ آہیں بھرتے روتے بلکتے، کھانے پینے کا ہوش نہ رہتا مگر جونہی اس طرف سے بازیابی کی نوید ملتی۔ یہ دور ہٹتے چلے جاتے وجیہہ آدمی تھے۔ اس لیے بعض جانباز خواتین نے خود بھی پیش قدمی کی مگر اردو فارسی کے کلاسیکی شعراء کے مطالعے کی وجہ سے ایسی حسیناؤں کے اخلاق و کردار کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہو جاتے۔

اس لیے کہ ہماری کلاسیکی شاعری میں مہربان معشوق کا کوئی تصور ہی موجود نہیں ہے۔ وہ تو ہمیشہ ستم پیشہ اور جفا جُو ہوتا ہے۔ اس لیے اظہارِ عشق کرنے والی اور رومال پر دل میں تیر کا نشان کاڑھ کر رومال پھینکنے والی خواتین کو خطرے کی علامت سمجھ کر ان سے دور بھاگتے، بعض مستقل مزاج خواتین نے برسوں محنت کے بعد بالآخر زیر کیا تو زندگی بھر ان سے جواب طلب کرتی رہیں کہ پہلے دو برس تک ہماری طرف توجہ کیوں نہیں کی؟ چالیس برس کی عمر کو پہنچنے اور ذرا عقل آئی تو اظہار محبت کے سلسلے میں صنف نازک کو برابر کا حق دینے پر آمادہ ہو گئے۔ لیکن اس وقت تک یہ خود ’’کھڑک‘‘ چکے تھے اور وہ تمام حسینان خوش خصال جو رومالوں پر ’’آئی لو یو‘‘ وغیرہ کاڑھ کر پیش کیا کرتی تھیں۔ اپنے گھر بار کی ہو چکی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑھاپے میں جوانی کے گم گشتہ اور گریز پا ایام کو یاد کرتے رہے۔

پیسہ حمید اختر کو کاٹتا تھا۔ اس سے نفرت اسے ضائع کر کے کرتے رہے، عمر بھر ان کے پاس پھوٹی کوڑی تک جمع نہ ہو سکی۔ کسی بینک میں پیسہ جمع کرانے کی نوبت نہ آئی لیکن خرچ اس ٹھاٹھ سے کرتے کہ دوست دشمن ان کی آمدنی کے خفیہ ذرائع تلاش کرتے رہے۔ ادھر ان کی زندگی کا کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرا جب کسی نہ کسی کے مقروض نہ رہے ہوں۔ کوئی دن ایسا نہ تھا جب پینے کا پانی مہیا کرنے کیلئے کنواں نہ کھودنا پڑا ہو مگر دیکھنے والے انہیں امیر کبیر سمجھتے رہے۔ جب کبھی ملنے والے ان کی امارت اور خوشحالی کا اظہار کرتے تو یہ بہت دکھی ہو جاتے اور دوستوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے کہ ایسا نہیں ہے۔ بے تکلف دوستوں سے پریشانی کا اظہار کرتے۔ اس سلسلے میں ایک روز عبداللہ ملک سے بڑے دکھ کے ساتھ اپنی اس تکلیف کا اظہار کیا تو اس نے بڑے وثوق کے ساتھ مشورہ دیا۔ ’’مت کسی کو بتاؤ کہ تم مقروض اور مفلوک الحال ہو، لوگ تمہاری ظاہری ٹھاٹ باٹھ دیکھ کر جلتے ہیں تو جلنے دو، بلکہ ہو سکے تو اور جلاؤ۔‘‘
یہ حالانکہ جانتے تھے کہ عبداللہ ملک کا کام ہی دوستوں کو گمراہ کرنا ہے مگر برسوں اس کے مشورے پر عمل کرتے رہے۔ ٹھاٹھ باٹھ میں اضافہ ہو گیا اور جلنے والوں کی تعداد بھی بڑھ گئی۔ برسوں بعد احساس ہوا کہ اس مشورے پر عمل کرنا ضروری نہ تھا مگر جو ہونا تھا ہو چکا تھا۔ اب واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا۔ آخری عمر میں یہ ٹھاٹھ باٹھ قائم رکھنے کیلئے مشقت کے قابل نہ رہے تھے مگر خود کردہ راعلا جے نیست اس لیے یہ بھاگ دوڑ محنت مشقت زندگی کی آخری سانس تک جاری رہی۔

حمید اختر کی ایک کمزوری کا بہت کم لوگوں کو علم ہے۔ وہ یہ تھی کہ ہمیشہ اس فکر میں رہے کہ لوگ عزیز اقرباء ملنے جلنے اور جان پہچان والے سبھی انہیں اچھا آدمی سمجھیں یا کم از کم ان کے روزمرہ کے معمولات اور میل جول میں گھٹیا پن کا اظہار نہ ہو۔ عمر بھر اسی پر خوش ہوتے رہے کہ ملنے جلنے والے سبھی لوگ اسن کی تعریف کرتے رہیں۔ اس کوشش میں بہت سے سنہری مواقع ضائع کر دیئے۔ اکثر نقصان بھی اٹھایا۔ بہت وقت ضائع کرنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی کہ اس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بلکہ یہ سراسر خسارے کا سودا ہے پھر یہ بھی دیکھا کہ بڑے بڑے بے ایمان، بدطینت اور بدنام لوگ مزے کر رہے ہیں اور لوگوں کے ان کو برا سمجھنے اور کہنے سے ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اپنی تربیت اور ابتدائی زندگی کے محاورہ کے مطابق ہمیشہ صاحب علم لوگوں سے مرعوب رہے، اپنے آپ کو دوسروں سے کمتر سمجھتے اور کہتے رہے۔ بھری محفلوں میں اعلان کر دیتے کہ صاحبان علم کے مقابلے میں ہم تو کچھ بھی نہیں ہیں۔ یہ علان کرتے ہوئے دل میں کہیں یہ آرزو ہوتی کہ لوگ اس کی تردید کریں گے علم و ادب سے تعلق خاطر کے سلسلے میں کچھ اتنے بے بضاعت بھی نہ تھے مگر ان کے اپنے اور مسلسل اعلانات کے بعد لوگوں نے انہیں واقعی کمتر سمجھ کر نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ جب یار لوگ جماعتیں بنا بنا کر تحسین باہمی کا اہتمام کر رہے ہوں تو ایسے آدمی سے ان کو کیا لینا دینا جو خود اپنی کم علمی کا اعتراف کر رہا ہو اور بار بار کر رہا ہو۔

قیام پاکستان کے بعد انجمن ترقی پسند مصنفیں کی لاہور شاخ کو منظم کیا اور اس وقت تک اس کے جنرل سیکرٹری رہے جب تک حکومت نے اسے سیاسی جماعت قرار دیکر عملاً خلاف قانون قرار نہیں دے دیا۔ 1951-52ء میں سال بھر قید تنہائی میں رکھے گئے۔ نظر بندی کے دوران میں گھریلو حالات بگڑ گئے۔ اس لیے رہائی کے بعد روزنامہ امروز میں ملازم ہو گئے۔ یہاں روزانہ ادارتی نوٹ لکھتے لکھتے زبان غیر ادبی ہو گئی اور جب کہانی لکھتے وقت صوابدید اور مطلوبہ جیسی ترکیبیں تحریر میں نظر آنے لگیں تو ادب کے میدان کو خیر باد کہہ کر صرف صحافتی سرگرمیوں پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا۔ پھر بھی ان کے اخبار نویس دوست ان کو ادیب اور ادیب لوگ اخبار نویس قرار دیتے رہے۔ چنانچہ 25 برس کی ملازمت کے بعد جبری طور پر ریٹائر کیے گئے تو محسوس ہوا نہ ادھر کے رہے ہیں نہ ادھر کے۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا اب کیا کریں۔ کچھ غور و فکر کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ اخبار نویسی ترک کر کے اپنا اصل میدان اپنایا جائے لیکن جب ادب کی طرف آئے تو معلوم ہوا کہ اس برادری کے بہت سے گروپ قلعے بنا کر اور اونچی دیواریں کھینچ کر بیٹھے ہیں۔ کسی کو اندر آنے کی اجازت نہیں ہے۔ ویسے یہ تماشہ ابتدائی زندگی سے دیکھتے آ رہے تھے کہ بڑے بڑے نامور ادیب اور شاعر اپنی شہرت اور قبولیت کیلئے گروپ بنا کر تحسین باہمی کا اہتمام کرتے ہیں۔

بڑے ادیب اور بڑے شاعر بھی جب ایسے کام کرتے ہیں تو انہیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ نوواردوں پر اس کا کتنا برا اثر پڑتا ہے۔ تعریف تو وہ ہے جو دوسرا کرے مگر ہمارے ہاں یہ عجیب رسم چلی ہے کہ اپنی تعریف کا اہتمام بھی خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ یہ کام حمید اختر کی طبیعت کے خلاف تھا اس لیے آخر عمر میں تقریباً گوشہ نشین ہو گئے۔ دل میں یہ اطمینان ضرور تھا کہ زندگی بھر کسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔ ضمیر کے خلاف کوئی کام نہیں کیا۔ یہ افسوس ضرور تھا کہ اپنا گھر نہ بنا سکے مگر یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت مناسب رہی اور وہ اپنی دیکھ بھال کرنے کے قابل ہیں۔ اچھے برے کی تمیز کر سکتے ہیں۔ ناز برادریوں کے باوجود بگڑے نہیں بلکہ متوازن ذہن رکھتے ہیں۔ خوش قسمتی سے بچوں میں بھی کسی میں دولت کی ہوس نہیں تھی۔ ضرورت ضرور تھی اور اس کی کمی کا احساس بھی تھا مگر ہر طریقے سے اور ہر قیمت پر دولت پیدا کرنے کی کسی نے کوشش نہیں کی۔ یہ اطمینان بھی تھا کہ ان میں سچ پر قائم رہنے اور جھوٹ اور غلط کاری کے خلاف آواز بلند کرنے کا حوصلہ بھی ہے۔

بچوں بالخصوص بچیوں میں یہ اعتماد اور خود داری پیدا کرنے کیلئے ان کو خود ذہنی اذیتوں میں سے گزرنا پڑا۔ وہ بچوں کو مکمل آزادی دینے کے حق میں تھے لیکن بچیوں کے معاملے میں ابھی ہمارا معاشرہ شاید اتنی آزادی کا عادی نہیں ہو سکا چنانچہ متعدد بار ایسا ہوا کہ بچیاں دعوتوں یا گھومنے پھرنے کے سلسلے میں رات کو دیر تک گھر سے باہر رہیں تو یہ ان کے آنے تک ٹہلتے رہے۔ سو نہیں سکتے تھے مگر ان کو روکنے کے حق میں نہیں تھے۔ اسی وجہ سے ان میں اعتماد پیدا ہو اور عمر کے آخری حصے میں حمید اختر اپنے اس کارنامے پر مطمئن نظر آتے تھے۔

وہ کہتے تھے لوگ یہ بات نہیں سمجھتے کہ انسان کی خوشی اور خاندان کی مسرت کا راز روپے پیسے کی فراوانی نہیں ہے۔ اچھے دوست اور اہل خاندان کی سوچ اور فکر کی یکسانیت ہی انسان کو مطمئن اور آسودہ کر سکتی ہے اور یہ کہ وہ خود اس دولت سے عمر بھر مالا مال رہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ ان کے نزدیکی دوست اس بات پر خوش ہونے کے سلسلے میں انہیں مطعون کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کے پاس اور کچھ نہیں ہے۔ اس لیے محض اپنی بے وقوفیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے عذر تراش رہے ہیں۔ واللہ واعلم و بالصواب۔

Advertisements

About Muslim Saleem

Muslim Saleem (born 1950) is a great Urdu poet, writer and journalist and creator of massive directories of Urdu poets and writers on different blogs. These directories include 1. Urdu poets and writers of India part-1 2. . Urdu poets and writers of India part-II 3. Urdu poets and writers of World part-I 4. Urdu poets and writers of World part-II, 5. Urdu poets and writers of Madhya Pradesh, 6. Urdu poets and writers of Allahabad, 7. Urdu poets and writers of Shajahanpur, 8. Urdu poets and writers of Jammu-Kashmir and Kashmiri Origin, 9. Urdu poets and writers of Hyderabad, 10. Urdu poets and writers of Augrangabad, 11. Urdu poets and writers of Maharashtra 12. Urdu poets and writers of Tamil Nadu, 13, Urdu poets and writers of Karnataka 14. Urdu poets and writers of Gujarat, 15. Urdu poets and writers of Uttar Pradesh, 16. Urdu poets and writers of Canada, 17. Urdu poets and writers of Burhanpur, 18. Urdu poets and writers of West Bengal 19. Female Urdu poets and writers, 20. Hindu Naatgo Shuara etc. These directories can be seen on :- 1. www.khojkhabarnews.com 2, www.muslimsaleem.wordpress.com 3. www.urdunewsblog.wordpress.com, 4. www.khojkhabarnews.wordpress.com. 5. www.poetswritersofurdu.blogspot.in 6 www.muslimsaleem.blogspot.in 7. www.saleemwahid.blogspot.in (Life) Muslim Saleem was born in 1950 at Shahabad, Hardoi, Uttar Pradesh in India, brought up in Aligarh, and educated at Aligarh Muslim University. He is the son of the well-known Urdu poet Saleem Wahid Saleem. He has lived in Bhopal, India since 1979. (Education): Muslim Saleem studied right from class 1 to BA honours in AMU schools and University. He completed his primary education from AMU Primary School, Qazi Para Aligarh (Now converted into a girls school of AMU). He passed high school exam from AMU City School, Aligarh and B.A. Hons (Political Science) from Aligarh Muslim University Aligarh. Later, Muslim Saleem did M.A. in Arabic from Allahabad University during his stay in Allahabad. (Career) Muslim Saleem began his career as a journalist in the Urdu-language newspaper Aftab-e-Jadeed, Bhopal. He is multilingual journalist having worked on top posts with Dainik Bhaskar (Hindi), Central Chronicle (English), National Mail (English), News Express (English) and most recently as the chief copy editor of the Hindustan Times in Bhopal. At present, Muslim Saleem is English news advisor to Directorate of Public Relations, Government of Madhya Pradesh. (as on December 1, 2012). (Works and awards) Muslim Saleem has been appointed as Patron of Indo-Kuwait Friendship Society. He is the author of Aamad Aamad, a compilation of his poetry published by Madhya Pradesh Urdu Academi. Several of his couplets are well known in the Urdu language. He won the Yaad-e-Basit Tarhi Mushaira, a poetry competition, in 1982. In 1971, Muslim Saleem was awarded by Ismat Chughtai for his Afsana “Nangi Sadak Par” at AMU Aligarh. His ghazals and short stories have been published in Urdu-language publications Shair, Ahang, Asri, Adab, Agai, Naya Daur, Sada-e-Urdu, Nadeem and other periodicals and magazines. His work in service of the Urdu language was recognized in a special 2011 edition of the periodical Abadi Kiran, devoted to his work. Evenings in his honour have been organised in a number of cities. Muslim Saleem is currently compiling a massive database of poets and writers of the Urdu language, both historic and currently active. (Translation of Muslim Saleem’s work in English): Great scholar Dr. Shehzad Rizvi based in Washington has translated Muslim Saleem’s ghazal in English even though they have never met. Dr. Rizvi saw Muslim Saleem’s ghazals on websites and was so moved that he decided to translate them. (Praise by poets and writers) Great poet and scholar of Urdu and Persian Dr. Ahmad Ali Barqi Azmi has also written a number of poetic tributes to Muslim Saleem. Dr. Azmi and Muslim Saleem are yet to meet face to face. Beside this, great short-story writer and critic Mehdi Jafar (Allahabad, Bashir Badr (Bhopal), Jafar Askari (Lucknow), Prof. Noorul Husnain (Aurangabad), Kazim Jaffrey (Lahore) and a host of others have written in-depth articles defining Muslim Saleem’s poetry. (Muslim Saleem on other websites) Muslim Saleem’s life and works have been mentioned on Wikipedia, www.urduadab4u.blogspot.in, www.urduyouthforum.org and several other website. In fact, www.urduyouthforum.org has given credit to Muslim Saleem for lifting a number of pictures and entries from Muslim Saleem’s websites and blogs. (Address): Muslim Saleem, 280 Khanugaon, VIP Road, Bhopal-462001 Mobiles: 0 9009217456 0 9893611323 Email: muslimsaleem@rediffmail.com saleemmuslim@yahoo.com Best couplets: Zindagi ki tarah bikhar jaayen…… kyun ham aise jiyen ki mar jaayen kar di meeras waarison ke sipurd…. zindagi kis ke naam mar jaayen rooh ke karb ka kuchh mudaawa no tha doctor neend ki goiyan likh gaya wo dekhne mein ab bhi tanawar darakht hai haalanke waqt khod chuka hai jaden tamam My Facebook url is http://en-gb.facebook.com/pages/Muslim-Saleem/176636315722664#!/pages/Muslim-Saleem/176636315722664?sk=info Other blogs http://urdupoetswriters.blogspot.com/ http://muslimspoetry.blogspot.com/ http://abdulahadfarhan.blogspot.com/ http://ataullahfaizan.blogspot.com/ http://hamaramp.blogspot.com/ http://madhyanews.blogspot.com/ http://cimirror.blogspot.com/
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s