Mushaira held at Muslim Saleem’s residence

Mushaira.Nadeemمسرور احمد مسرور کی صدارت میں شعری نشست کا انعقاد
بھوپال: گذشتہ دنوں بھوپال میں ایک معیاری شعری نشست منعقد کی گئی جسمیں س میں علی الترتیب قاضی نوید ملک، محترمہ پروین کیف، داکٹر اعظم، ڈاکٹر انیس سلطانہ، مسلم سلیم اور پروفیسر آفاق احمد نے اپنے کلام سے سامعین کو نوازا۔۔ مشاعرے کی نظامت ڈاکٹر محمد اعظم نے کی۔ یہ نشست بے حد کامیاب رہی جس کی صدارت جناب کراچی سے تشریف لائے نامور صحا فی جناب مسرور احمد مسرور نے کی جبکہ پھوپال کی ادبی تہذیب کے معتبر نمائندہ پروفیسر آفاق احمد مہمانِ خصوصی تھے۔ْ مشاعرے کا انعقاد ’’ہم سخن ویلفیر سوسائٹی‘‘ و کھوج خبر نیوز ڈاٹ کام نے کیا تھا۔
مشاعرے کے آغاز میں بھوپال کے ابھرتے ہوئے منفرد لب و لہجہ کے شاعر قاضی ملک نوید نے دو بہترین غزلیں پیش کیں۔ اس شعر پر انھیں خصوصی طور پر داد ملی:۔
کتنا ناراض ہوں، کتنا بھی خفا ہوں ہم سے
بد دعائیں نہیں د یتیں کبھی مائیں لیکن
بھوپال شہر کو بین الاقوامی شہرت شاعری کے حوالے سے دلانے والے شاعر کیفی بھوپالی کی دختر پروین کیف بھی ایک بہترین شاعر ہ ہیں۔ انھوں نے اپنی غزلوں اور نطموں سے محفل میں سماں باندھ دیا۔ ان کا یہ شعر سامعین کی بے شمار داد کا حقدار بنا:۔
لو چراغوں کی بڑھانی ہے، بڑھا لی جائے
اپنے گھر کو نہ مگر آگ لگا لی جائے
ڈاکٹر اعظم ایک ایس نام ہے جو شاعری اور نثر نگاری میں بہترین موجودگی درج کرا رہا ہے۔ اب تک دو کتابیں منظرِعام پر آچکی ہیں۔ علمِ عروض سے خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ آپ کی دونوں غزلوں اور خاص طور پر اس شعر کو سامعین نے بھرپور داد سے نوازا۔
پردہ، گھونگھٹ ، نقاب اپنی جگہ
پھر بھی کردار کی ضرورت ہے
شہر کی کہنہ مشق اور شاعرہ اور ادیبہ انیس سلطانہ کا نام سنجیدہ شاعری کے حوالے سے اعتبار حاصل کر چکا ہے۔ ان کے اس شعر نے خوب داد و تحسین حاصل کی:
عمر بھر یاد رہیں کی ، کبھی تڑپائیں گی
ایسی باتوں پہ اگر خاک نہ ڈالی جائے
جناب مسلم سلیم نہ صرف ایک بہترین شاعر ہیں بلکہ صحافت میں اعلیٰ مقام کے حامل ہیں۔ بھوپال کی ادبی سرگرمیوں کو ساری دنیا میں انٹرنیٹ کے ذریعے مشتہر کرجے کا فریضہ بحسن و خوبی نبھاتے ہیں اور اردو زبان سے نوجوان نسل کو جوڑ رہے ہیں۔ آپ کی نادر ردیف ’’اطلاعاً عرض ہے‘‘ پر غزل نے سامعین کو مسحور کر دیا۔یہ شعر سامعین نے کئی بار مکرر پڑھوایا۔
آپ کی مانند چلتے تھے اکڑ کو جو کبھی
خاک میں وہ سب گڑے ہیں اطلاعاً عرض ہے
مہمان خصوصی پروفیسر آفاق صاحب ایک عبقری شخصیت کا درجہ رکھتے ہیں۔ وہ نقاد، افسانہ نگار اور اعلیٰ معیار کے شاعر ہیں۔ ان کے اس شعر پر سامعین نے جی بھر کر داد لٹائی۔
وہ جو ہاتھوں میں ہیں خورشید کی مشعل تھامے
تیرگی ان سے اجالوں کی کہانی مانگے۔
ا س طرح جناب مسلم سلیم کے دولت کدہ پر بھوپال کی ایک یادگار اور معیاری شعری نشاست اختمام پذیر ہوئی۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر اعظم نے انجام دئے۔
ط گیا۔ مشاعرے کی نظامت ڈاکٹر محمد اعظم نے کی۔ش
یہ نشست بھی بے حد کامیاب رہی جس کی صدارت جناب مسرور احمد مسرور نے کی جبکہ پھوپال کی ادبی تہذیب کے معتبر نمائندہ پروفیسر آفاق احمد مہمانِ خصوصی تھے۔ْ
مشاعرے کے آغاز میں بھوپال کے ابھرتے ہوئے منفرد لب و لہجہ کے شاعر قاضی ملک نوید نے دو بہترین غزلیں پیش کیں۔ اس شعر پر انھیں خصوصی طور پر داد ملی:۔
کتنا ناراض ہوں، کتنا بھی خفا ہوں ہم سے
بد دعائیں نہیں د یتیں کبھی مائیں لیکن
بھوپال شہر کو بین الاقوامی شہرت شاعری کے حوالے سے دلانے والے شاعر کیفی بھوپالی کی دختر پروین کیف بھی ایک بہترین شاعر ہ ہیں۔ انھوں نے اپنی غزلوں اور نطموں سے محفل میں سماں باندھ دیا۔ ان کا یہ شعر سامعین کی بے شمار داد کا حقدار بنا:۔
لو چراغوں کی بڑھانی ہے، بڑھا لی جائے
اپنے گھر کو نہ مگر آگ لگا لی جائے
ڈاکٹر اعظم ایک ایس نام ہے جو شاعری اور نثر نگاری میں بہترین موجودگی درج کرا رہا ہے۔ اب تک دو کتابیں منظرِعام پر آچکی ہیں۔ علمِ عروض سے خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ آپ کی دونوں غزلوں اور خاص طور پر اس شعر کو سامعین نے بھرپور داد سے نوازا۔
پردہ، گھونگھٹ ، نقاب اپنی جگہ
پھر بھی کردار کی ضرورت ہے
شہر کی کہنہ مشق اور شاعرہ اور ادیبہ انیس سلطانہ کا نام سنجیدہ شاعری کے حوالے سے اعتبار حاصل کر چکا ہے۔ ان کے اس شعر نے خوب داد و تحسین حاصل کی:
عمر بھر یاد رہیں کی ، کبھی تڑپائیں گی
ایسی باتوں پہ اگر خاک نہ ڈالی جائے
جناب مسلم سلیم نہ صرف ایک بہترین شاعر ہیں بلکہ صحافت میں اعلیٰ مقام کے حامل ہیں۔ بھوپال کی ادبی سرگرمیوں کو ساری دنیا میں انٹرنیٹ کے ذریعے مشتہر کرجے کا فریضہ بحسن و خوبی نبھاتے ہیں اور اردو زبان سے نوجوان نسل کو جوڑ رہے ہیں۔ آپ کی نادر ردیف ’’اطلاعاً عرض ہے‘‘ پر غزل نے سامعین کو مسحور کر دیا۔یہ شعر سامعین نے کئی بار مکرر پڑھوایا۔
آپ کی مانند چلتے تھے اکڑ کو جو کبھی
خاک میں وہ سب گڑے ہیں اطلاعاً عرض ہے
مہمان خصوصی پروفیسر آفاق صاحب ایک عبقری شخصیت کا درجہ رکھتے ہیں۔ وہ نقاد، افسانہ نگار اور اعلیٰ معیار کے شاعر ہیں۔ ان کے اس شعر پر سامعین نے جی بھر کر داد لٹائی۔
وہ جو ہاتھوں میں ہیں خورشید کی مشعل تھامے
تیرگی ان سے اجالوں کی کہانی مانگے۔
ا س طرح جناب مسلم سلیم کے دولت کدہ پر بھوپال کی ایک یادگار اور معیاری شعری نشاست اختمام پذیر ہوئی۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر اعظم نے انجام دئے۔

About Muslim Saleem

Muslim Saleem (born 1950) is a great Urdu poet, writer and journalist and creator of massive directories of Urdu poets and writers on different blogs. These directories include 1. Urdu poets and writers of India part-1 2. . Urdu poets and writers of India part-II 3. Urdu poets and writers of World part-I 4. Urdu poets and writers of World part-II, 5. Urdu poets and writers of Madhya Pradesh, 6. Urdu poets and writers of Allahabad, 7. Urdu poets and writers of Shajahanpur, 8. Urdu poets and writers of Jammu-Kashmir and Kashmiri Origin, 9. Urdu poets and writers of Hyderabad, 10. Urdu poets and writers of Augrangabad, 11. Urdu poets and writers of Maharashtra 12. Urdu poets and writers of Tamil Nadu, 13, Urdu poets and writers of Karnataka 14. Urdu poets and writers of Gujarat, 15. Urdu poets and writers of Uttar Pradesh, 16. Urdu poets and writers of Canada, 17. Urdu poets and writers of Burhanpur, 18. Urdu poets and writers of West Bengal 19. Female Urdu poets and writers, 20. Hindu Naatgo Shuara etc. These directories can be seen on :- 1. www.khojkhabarnews.com 2, www.muslimsaleem.wordpress.com 3. www.urdunewsblog.wordpress.com, 4. www.khojkhabarnews.wordpress.com. 5. www.poetswritersofurdu.blogspot.in 6 www.muslimsaleem.blogspot.in 7. www.saleemwahid.blogspot.in (Life) Muslim Saleem was born in 1950 at Shahabad, Hardoi, Uttar Pradesh in India, brought up in Aligarh, and educated at Aligarh Muslim University. He is the son of the well-known Urdu poet Saleem Wahid Saleem. He has lived in Bhopal, India since 1979. (Education): Muslim Saleem studied right from class 1 to BA honours in AMU schools and University. He completed his primary education from AMU Primary School, Qazi Para Aligarh (Now converted into a girls school of AMU). He passed high school exam from AMU City School, Aligarh and B.A. Hons (Political Science) from Aligarh Muslim University Aligarh. Later, Muslim Saleem did M.A. in Arabic from Allahabad University during his stay in Allahabad. (Career) Muslim Saleem began his career as a journalist in the Urdu-language newspaper Aftab-e-Jadeed, Bhopal. He is multilingual journalist having worked on top posts with Dainik Bhaskar (Hindi), Central Chronicle (English), National Mail (English), News Express (English) and most recently as the chief copy editor of the Hindustan Times in Bhopal. At present, Muslim Saleem is English news advisor to Directorate of Public Relations, Government of Madhya Pradesh. (as on December 1, 2012). (Works and awards) Muslim Saleem has been appointed as Patron of Indo-Kuwait Friendship Society. He is the author of Aamad Aamad, a compilation of his poetry published by Madhya Pradesh Urdu Academi. Several of his couplets are well known in the Urdu language. He won the Yaad-e-Basit Tarhi Mushaira, a poetry competition, in 1982. In 1971, Muslim Saleem was awarded by Ismat Chughtai for his Afsana “Nangi Sadak Par” at AMU Aligarh. His ghazals and short stories have been published in Urdu-language publications Shair, Ahang, Asri, Adab, Agai, Naya Daur, Sada-e-Urdu, Nadeem and other periodicals and magazines. His work in service of the Urdu language was recognized in a special 2011 edition of the periodical Abadi Kiran, devoted to his work. Evenings in his honour have been organised in a number of cities. Muslim Saleem is currently compiling a massive database of poets and writers of the Urdu language, both historic and currently active. (Translation of Muslim Saleem’s work in English): Great scholar Dr. Shehzad Rizvi based in Washington has translated Muslim Saleem’s ghazal in English even though they have never met. Dr. Rizvi saw Muslim Saleem’s ghazals on websites and was so moved that he decided to translate them. (Praise by poets and writers) Great poet and scholar of Urdu and Persian Dr. Ahmad Ali Barqi Azmi has also written a number of poetic tributes to Muslim Saleem. Dr. Azmi and Muslim Saleem are yet to meet face to face. Beside this, great short-story writer and critic Mehdi Jafar (Allahabad, Bashir Badr (Bhopal), Jafar Askari (Lucknow), Prof. Noorul Husnain (Aurangabad), Kazim Jaffrey (Lahore) and a host of others have written in-depth articles defining Muslim Saleem’s poetry. (Muslim Saleem on other websites) Muslim Saleem’s life and works have been mentioned on Wikipedia, www.urduadab4u.blogspot.in, www.urduyouthforum.org and several other website. In fact, www.urduyouthforum.org has given credit to Muslim Saleem for lifting a number of pictures and entries from Muslim Saleem’s websites and blogs. (Address): Muslim Saleem, 280 Khanugaon, VIP Road, Bhopal-462001 Mobiles: 0 9009217456 0 9893611323 Email: muslimsaleem@rediffmail.com saleemmuslim@yahoo.com Best couplets: Zindagi ki tarah bikhar jaayen…… kyun ham aise jiyen ki mar jaayen kar di meeras waarison ke sipurd…. zindagi kis ke naam mar jaayen rooh ke karb ka kuchh mudaawa no tha doctor neend ki goiyan likh gaya wo dekhne mein ab bhi tanawar darakht hai haalanke waqt khod chuka hai jaden tamam My Facebook url is http://en-gb.facebook.com/pages/Muslim-Saleem/176636315722664#!/pages/Muslim-Saleem/176636315722664?sk=info Other blogs http://urdupoetswriters.blogspot.com/ http://muslimspoetry.blogspot.com/ http://abdulahadfarhan.blogspot.com/ http://ataullahfaizan.blogspot.com/ http://hamaramp.blogspot.com/ http://madhyanews.blogspot.com/ http://cimirror.blogspot.com/
Image | This entry was posted in Muslim Saleem's works. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s