GRAND FELICITATION TO DR SHAHZAD RIZVI AT BHOPAL Part 1

ڈاکٹر شہزاد رضوی اور امریکہ میں اردو ادب کی قدآور شخصیت :مسلم سلیم
بھوپال کے فر زند کو پروفیسر آفاق احمد کا بھی خراج: شاندار استقبالیہ منعقد

بھوپال: ۲۹؍ دسمبر ۲۰۱۳واشنگٹن میں مقیم مدھیہ پردیش اور بھوپال کے عظیم فرزند مشہور شاعر اور ناول نگار ڈاکٹر شہزاد رضوی کو ہم سخن ویلفئر سوسائٹی و کھوج خبر نیوز ڈاٹ کام کی جانب سے شاندار استقبالیہ دیا گیا۔ اس موقعہ پرجناب مسلم سلیم نے ڈاکٹر رضوی کو امریکہ میں اردو ادب کی قدآور شخصیت سے تعبیر کیا۔ مہمانِ خصوصی پروفسر آفاق احمد نے بھی ڈاکٹر رضوی کی ادبی خدمات کو سراہا۔ اس سے قبل مسلم سلیم اور پروفسر آفاق احمد نے ڈاکٹر شہزاد رضوی کو ’’فخر بھوپال ‘‘ ٹرافی پیش کی۔ ہم سخن کے سکریٹری جناب عبدالاحد فرحان نے ڈاکٹر رضوی کو منظوم سپاس نامہ پیش کیا دہلی کے مشہور شاعر ڈاکٹر احمد علی برقی ؔ اعظمی نے تحریر کیا تھا۔ ڈاکٹر رضوی کی اہلیہ محترمہ رابعہ رضوی اور دختر ممتاز رضوی بھی اسٹیج پر موجود تھیں۔ پروگرام کا آغاز گلوکار جناب یعقوب ملک نے مسلم سلیم کی تحریر کردہ نعت سے کیا۔
جناب مسلم سلیم نے کہا کہ فی زمانہ ایک خانوادہ امریکہ میں اردو ادب کی سب سے زیادہ خدمت انجام دے رہا ہے جسمیں ڈاکٹر شہزاد رضوی ، انکی ہمشیرہ ڈاکٹر عمرانہ نشتر خیرآبادی ، ناہید نشترخیرآبادی اورر خسانہ وسیم اور برادرِ خورد سید ضیا خیرآبادی شامل ہیں۔ان کے والد یادگار حسین نشتر خیرابادی، والدہ محترمہ سیدہ سرفراز فاطمہ نشتر اور ہمشیرہ سیدہ سہیلہ خیرآبادی بھی اچھے سخنور تھے۔ڈاکٹر شہزاد رضوی ۱۹۶۴ء میں عالم شباب میں امریکہ چلے گئے۔ وہاں انہوں نے مختلف یونیورسٹیوں میں ا علیٰ تعلیم حاصل کی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرکے پروفیسر ہوگئے۔ اب وہ امریکی شہریت حاصل کرکے واشنگٹن میں اپنے اہل وعیال کے ساتھ عرصہ سے مقیم ہیں۔
جناب مسلم سلیم نے بتایا کہ اردو کے علاوہ ڈاکٹر رضوی انگریزی میں بھی شاعری کرتے ہیں۔ آپ نے انگریزی میں کہانیاں اور ناول لکھنے میں بھی کافی شہرت حاصل کی ہے اور ان کے ناول Kahany.orgپر دیکھے جاسکتے ہیں یا amazom.comسے دستیاب ہوسکتے ہیں۔جناب مسلم سلیم نے اپنے مقالے میں امریکہ میں اردو ادب اور تدریس پر بھی سیر حاصل روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر شہزاد رضوی کی حیات و کمالات پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر آفاق احمد نے بتایا کہ ڈاکٹر رضوی نے دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی ۔ انہوں نے موسم گرما کے دوران آکسفورڈ، سوربون(فرانس) اور لندن میں جاکر کورس کئے اور اسی دوران پورے یوروپ کا سفر بھی کیا۔صدر ریگن کے دوران حکومت ڈاکٹر رضوی نے ایوان صدر میں مترجم کی خدمات انجام دیں اور مسز ریگن کے ساتھ بحیثیت مترجم ان کے ہوائی جہاز میں میں سفر کرنے کا موقع بھی ملا، اس دوران میں امریکہ کی مشہور شخصیتوں، جیسے کہ ہنرسی کسنجر، افسران اور اداکار ان سے ملاقات ہوئی۔
پروفیسر آفاق احمد نے بتایا کہ ڈاکٹر شہزاد رضوی وہ اپنی شاعری میں روایتی موضوعات، واعظ، ساقی اور محبوب کی جفاکاری پر نہیں لکھتے۔ ان کی شاعری کے موضوع زندگی اور عالمی مسائل ہوتے ہیں جن سے آج انسان دوچار ہے۔ وہ اپنی شاعری سے مذہبی تفریق اور تعصب ، نسلی امتیاز اور قبائلی اور قومی رسہ کشی اور تصادم کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی یہ بڑی آرزو ہے کہ دہشت گردی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے اور دنیا کے لوگوں میں ہم آہنگی اور بھائی چارہ پیدا ہوجائے۔ ڈاکٹر شہزاد رضوی صاحب اب تک ۱۲؍ ناول انگریزی میں تحریر کر چکے ہیں جنکے عنوان یہ ہیں۔.ان میں سے دو ناولوں ’’د ا لاسٹ ریسیڈینٹ ‘‘ اور ’’بہائنڈ د ا ویل‘‘ بھوپال کے پس منظر میں تحریر کئے گئے ہیں۔لیکن یہ مکمل طور سے فکتشنل ہیں اور انکابھوپال کے نوابی خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر شہزاد رضوی نے اراکینِ ہم سخن ویلفئر سوسائٹی و کھوج خبر نیوز ڈاٹ کام کا شکریہ ادا کیا۔ڈاکٹر رضوی نے بتایا کہ ان کی پیدائش۲۸فروری ۱۹۳۷ء لشکر گوالیار میں ہوئی جہاں ان کے دادا خان بہادر حضرت مضطر خیرآبادی ایک زمانے میں جج تھے۔ مضطر خیرآبادی علامہ فضل حق خیرآبادی کے نواسے تھے ۔آپ کے خاندان کا ہندوستان کی جنگِ آازدی میں بھی اہم حصہ رہا ہے۔ آپ کے پرنانا حضرت فضلِ حق خیرابادی نے انگریزوں کے خلاف زبردست مہم چلائی تھی جسکی پاداش میں انھیں کالے پانی کی سزا دی گئی تھی اور وہیں انڈومان میں آپ کا انتقال ہو ا تھا۔ڈاکٹر رضوی کی والدہ محترمہ سیدہ سرفراز فاطمہ نشتر کا تعلق بھوپال کے ایک جاگیردار خاندان سے ہے۔ ڈاکٹر رضوی نے حمیدیہ کالج بھوپال سے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد کچھ عرصہ سیفیہ کالج میں لیکچرر رہے۔ اس کے بعد ایک اور ایم اے کی ڈگری انگریزی ادب میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی اور پھر امریکہ چلے گئے۔
اس موقعہ پر ڈاکٹر شہزاد رضوی صاحب نے اپنی متعدد نثری نظموں سے بھی سامعین کو نوازا۔ ڈاکٹر رضوی نے مسلم سلیم کو اردو کے ایک بڑے شاعر اور ادیب سے تعبیر کیا۔ انھوں نے کہا کہ جناب مسلم سلیم انٹرنیٹ کے ذریعے بھی اردو کی بیش بہا خدمت انجام دے رہے ہیں۔
اس دوران رائسین سے تشریف لائے جناب حاجی میاں نے ڈ ایک بیش قیمت قلم اور پروفیسر مجید خاں و ڈاکٹر اعظم نے اپنی کتابیں اکٹر شہزاد رضوی کو پیش کیں۔
شروعات میں کھوج خبر نیوز ڈاٹ کا م کے ایڈیٹر جناب عطاء ا ﷲ فیضان ، ہم سخن کے صدر جناب شارق علی ، جناب بسید فیضان علی، ڈاکٹر انیس سلطانہ ، محترمہ رشدہ جمیل اور جناب مظفر اقبال صدیقی نے مہمانان کی گلپوشی کی اور ہم سخن کے سکریٹری جناب عبدالاحد فرحان نے ڈاکٹر شہزاد رضوی کو منظوم سپاسنامہ پیش کیا۔ جناب سلیم قریشی صاحب سے کہ اظہار خیال فرمایا۔
تقریب کی نظامت خوش فکر شاعر اور ادیب ڈاکٹر اعظم نے فرمائی۔ آپ ہی نے اظہار تشکر بھی کیا۔

About Muslim Saleem

Muslim Saleem (born 1950) is a great Urdu poet, writer and journalist and creator of massive directories of Urdu poets and writers on different blogs. These directories include 1. Urdu poets and writers of India part-1 2. . Urdu poets and writers of India part-II 3. Urdu poets and writers of World part-I 4. Urdu poets and writers of World part-II, 5. Urdu poets and writers of Madhya Pradesh, 6. Urdu poets and writers of Allahabad, 7. Urdu poets and writers of Shajahanpur, 8. Urdu poets and writers of Jammu-Kashmir and Kashmiri Origin, 9. Urdu poets and writers of Hyderabad, 10. Urdu poets and writers of Augrangabad, 11. Urdu poets and writers of Maharashtra 12. Urdu poets and writers of Tamil Nadu, 13, Urdu poets and writers of Karnataka 14. Urdu poets and writers of Gujarat, 15. Urdu poets and writers of Uttar Pradesh, 16. Urdu poets and writers of Canada, 17. Urdu poets and writers of Burhanpur, 18. Urdu poets and writers of West Bengal 19. Female Urdu poets and writers, 20. Hindu Naatgo Shuara etc. These directories can be seen on :- 1. www.khojkhabarnews.com 2, www.muslimsaleem.wordpress.com 3. www.urdunewsblog.wordpress.com, 4. www.khojkhabarnews.wordpress.com. 5. www.poetswritersofurdu.blogspot.in 6 www.muslimsaleem.blogspot.in 7. www.saleemwahid.blogspot.in (Life) Muslim Saleem was born in 1950 at Shahabad, Hardoi, Uttar Pradesh in India, brought up in Aligarh, and educated at Aligarh Muslim University. He is the son of the well-known Urdu poet Saleem Wahid Saleem. He has lived in Bhopal, India since 1979. (Education): Muslim Saleem studied right from class 1 to BA honours in AMU schools and University. He completed his primary education from AMU Primary School, Qazi Para Aligarh (Now converted into a girls school of AMU). He passed high school exam from AMU City School, Aligarh and B.A. Hons (Political Science) from Aligarh Muslim University Aligarh. Later, Muslim Saleem did M.A. in Arabic from Allahabad University during his stay in Allahabad. (Career) Muslim Saleem began his career as a journalist in the Urdu-language newspaper Aftab-e-Jadeed, Bhopal. He is multilingual journalist having worked on top posts with Dainik Bhaskar (Hindi), Central Chronicle (English), National Mail (English), News Express (English) and most recently as the chief copy editor of the Hindustan Times in Bhopal. At present, Muslim Saleem is English news advisor to Directorate of Public Relations, Government of Madhya Pradesh. (as on December 1, 2012). (Works and awards) Muslim Saleem has been appointed as Patron of Indo-Kuwait Friendship Society. He is the author of Aamad Aamad, a compilation of his poetry published by Madhya Pradesh Urdu Academi. Several of his couplets are well known in the Urdu language. He won the Yaad-e-Basit Tarhi Mushaira, a poetry competition, in 1982. In 1971, Muslim Saleem was awarded by Ismat Chughtai for his Afsana “Nangi Sadak Par” at AMU Aligarh. His ghazals and short stories have been published in Urdu-language publications Shair, Ahang, Asri, Adab, Agai, Naya Daur, Sada-e-Urdu, Nadeem and other periodicals and magazines. His work in service of the Urdu language was recognized in a special 2011 edition of the periodical Abadi Kiran, devoted to his work. Evenings in his honour have been organised in a number of cities. Muslim Saleem is currently compiling a massive database of poets and writers of the Urdu language, both historic and currently active. (Translation of Muslim Saleem’s work in English): Great scholar Dr. Shehzad Rizvi based in Washington has translated Muslim Saleem’s ghazal in English even though they have never met. Dr. Rizvi saw Muslim Saleem’s ghazals on websites and was so moved that he decided to translate them. (Praise by poets and writers) Great poet and scholar of Urdu and Persian Dr. Ahmad Ali Barqi Azmi has also written a number of poetic tributes to Muslim Saleem. Dr. Azmi and Muslim Saleem are yet to meet face to face. Beside this, great short-story writer and critic Mehdi Jafar (Allahabad, Bashir Badr (Bhopal), Jafar Askari (Lucknow), Prof. Noorul Husnain (Aurangabad), Kazim Jaffrey (Lahore) and a host of others have written in-depth articles defining Muslim Saleem’s poetry. (Muslim Saleem on other websites) Muslim Saleem’s life and works have been mentioned on Wikipedia, www.urduadab4u.blogspot.in, www.urduyouthforum.org and several other website. In fact, www.urduyouthforum.org has given credit to Muslim Saleem for lifting a number of pictures and entries from Muslim Saleem’s websites and blogs. (Address): Muslim Saleem, 280 Khanugaon, VIP Road, Bhopal-462001 Mobiles: 0 9009217456 0 9893611323 Email: muslimsaleem@rediffmail.com saleemmuslim@yahoo.com Best couplets: Zindagi ki tarah bikhar jaayen…… kyun ham aise jiyen ki mar jaayen kar di meeras waarison ke sipurd…. zindagi kis ke naam mar jaayen rooh ke karb ka kuchh mudaawa no tha doctor neend ki goiyan likh gaya wo dekhne mein ab bhi tanawar darakht hai haalanke waqt khod chuka hai jaden tamam My Facebook url is http://en-gb.facebook.com/pages/Muslim-Saleem/176636315722664#!/pages/Muslim-Saleem/176636315722664?sk=info Other blogs http://urdupoetswriters.blogspot.com/ http://muslimspoetry.blogspot.com/ http://abdulahadfarhan.blogspot.com/ http://ataullahfaizan.blogspot.com/ http://hamaramp.blogspot.com/ http://madhyanews.blogspot.com/ http://cimirror.blogspot.com/
This entry was posted in Muslim Saleem's works. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s