سدیف گیلانی کا کالم مسلم سلیم کے شعر پر

اک وہ نہیں شہر میں ،مجرم تو بہت تھے
بس یہ ہے کہ وہ آگیا الزام کی زد میں
مذاکرات دو مختلف سوچ رکھنے والے ذہنوں کو یکجا کرنے کا نام ہے۔مذاکراتی عمل وہ بہترین عمل ہے جس میں مخالف اور دوست ملکر بیٹھتے ہیں۔اختلاف اپنی جگہ مگر ایک درست نقطے پر متفق ہو جانابہترین کامیابی ہے۔ہمارے ہاں مذاکرات کو مذاق سمجھا جا رہا ہے ۔پاکستان میں مذاکرات اس لیے کیے جاتے ہیں کہ آپ جس غلط منزل کی طرف سفر کر رہے ہیں اس میں ہمیں بھی شریک عمل کریں۔کہیں ہم اس سعادت سے محروم نہ ہو جائیں ۔اس وقت مذاکرات تحریک طالبان سے کیے جا چکے ہیں۔طالبان کے ساتھ پہلے بھی امن معاہدے ہو چکے ہیں ۔مگر ان معاہدوں میں کس نے خلاف ورزی کی ہے کوئی پتہ نہیں۔سیاستدان اپنی جان و مال کے تحفظ کے عوض ملک کو داؤ پر لگا چکے ہیں ۔پنجاب کو بخش دو پورا ملک آپکا۔کلعدم تنظیموں کے سربراہ اپنے اور پنجاب حکومت کے بھائی چارہ کا کئی مرتبہ اعلان کر چکے ہیں ۔کیا خوب گورنر بلوچستان نے کہا ہے کہ باقی صوبوں میں آپریشن ہو رہا ہے ۔جہاں سے لشکر جھنگوی آیا ہے وہا یہ نہیں کیا جا رہا ۔شدت پسند عناصر کے خلاف مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔جبکہ وہ انکار کر رہے ہیں مگر ہمارے حکمرانوں نے پہلے ہاتھ جوڑے اور اب امید ہے پاؤں پکڑیں گے ۔حقیقت یہ ہے کہ حفاظت کی بھیک مانگنا راہ نجات نہیں بلکہ حفاظت کا سامان کرنا نجات ہے ۔بے باک انسان موت سے نہیں ڈرتاکیونکہ اسے قیامت میں اچھے صلہ کی امید ہوتی ہے ۔طالبان نے پہلی شرط ڈرون حملوں کی بندش رکھی ہے تاکہ ہم آزادانہ پھر سکیں ۔دوسرا فوجی چوکیوں کو ختم کیا جائے تاکہ علاقوں پر ہمارا قبضہ ہو ۔اس کے بعد کئی مہینے لگیں گے مذاکرات کو ۔اس وقت تک وہ اپنے قدم جما کر فوج سے لڑنے کی مہارت حاصل کر چکے ہونگے
اس وقت پاکستان کے اکثریتی اور بڑے علاقوں میں جتنی مساجد ہیں اس کے پیش امام قبائلی علاقوں کے انجان علاقے کے ہیں۔جن کے خلاف لڑنے کی ضرورت ہے ان کے مذاکرات ہوتے ہیں اور مذاکرات مولانا سمیع الحق طالبان کے والد اور بزرگوار مولانا فضل الرحمٰن ہیں جو ملک کی خاطر اپنی کوشش بروئے کار لاکر۔۔۔
مذاکرات تو ہمیں ان لوگوں سے کرنے چاہئیں جو ملک کی بھلائی چاہتے ہیں۔مذاکرات ہمیں بلوچوں سے کرنے چاہئیں جن کے حقوق ہم نے غضب کیے ۔جس کے نتیجے میں انہوں نے ہتھیاروں کا سہارا لیا ۔اپنی فوج بنائی ہے ۔طالبان جنہوں نے ہماری فوج کے گلے کاٹے وہ بھائی ہیں ۔ملکی املاک کو نقصان پہنچایا مسلمانوں کو خون میں نہلایا وہ دوست ہیں۔جنہوں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اپنا حق مانگا وہ بلوچ ملک کے دشمن اور غدار ہیں۔جن کے ہم نے بندے مارے ہیں وہ قاتل کی گرفتاری کا مطالبہ کریں تو ملک کی دشمنی ہے ۔وہ آرمی چیف جس نے 10سال ملک کی کمان سنبھالی فوج کا سربراہ رہا ملک کے سیاہ و سفید کا مالک تھا، وہ غدار ہے ۔اس کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ ۔جنہوں نے ماؤں سے بچے چھینے ،بہنوں سے بھائی الگ کر دیے اور فوجیوں کے سر کاٹ کر تم کو پیش کیے وہ تمہارے دودھ کے بھائی۔یہ باتیں مجھے لکھتے ہوئے ،سوچتے ہوئے شرم آرہی ہے تمہیں ضمیر ملامت نہیں کرتا کیا تم مردہ ضمیر ہو ۔جس نے ملک میں کرپشن کی وہ تمہارے ساتھ بیٹھے ۔جو غریبوں کا حق مارے وہ لٹیرا بڑا سیاستدان ہے ۔جو جتنا بڑاظالم وہ اتنا بڑا ملک کا مخلص و ہمدرد ہے ۔
غداری کس کو کہتے ہیں ۔ملک دشمنی کیا ہوتی ہے ۔ملک سے بے وفائی کیسے ہوتی ہے نمک حرامی کس کو کہتے ہیں ۔شرم و حیا سے عاری لوگ کیسے ہوتے ہیں ۔(یہ سوال اب مجھے پیچیدہ لگنے لگے ہیں )قارئین جواب دیں میرا ذہن ساتھ نہیں دے رہا ۔سوچ مفلوج ہوتی جا رہی ہے ۔کیا میں طالبان کا ساتھ دوں تو محب الوطن کہلاؤں گا یا پرویز مشرف کا۔کیا میں اس ظالم سیاستدانوں کو سچا کہوں جنہوں نے ملک کو لوٹا ہے ۔یا میں ان بلوچوں کو ظالم کہوں جنہوں نے اپنے لیے حقوق مانگے ہیں ۔جس وقت پرویز مشرف غدار ہے تو یقینًا طالبان محب الوطن ہوں طالبان نے صرف آئین نہیں توڑابلکہ ایک دھماکے میں سینکڑوں گھر اجاڑدیے۔طالبان نے مساجد کی بے حرمتی کی ،گھر اجاڑدیے ۔طالبان کو حصہ دینے کے لیے ہم سر جھکا کے حصہ دینے کو تیار ہیں مگر مشرف کو نہیں ۔مشرف کو پھانسی کہ اس نے آئین توڑا ۔پرویز مشرف نے دو بار آئین توڑا لیکن طالبان نے کبھی آئین نہیں توڑا۔بے شک ہمیں طالبان کے ساتھ ہاتھ جوڑکر نہیں بلکہ پاؤں پکڑکر معافی بھی مانگنی چاہیے اور مذاکرات بھی کرنے چاہئیں۔تاکہ ملک میں آئین سلامت رہے ۔ہم شرم و حیا سے عاری اسی لائق ہیں کیونکہ ہم وہ بے حس قوم ہیں جس کا غیرت ،حمیت سے دور تک واسطہ نہیں ۔سزا کے حقدار پرویز مشرف اور طالبان دونوں مگر ہم طالبان کو رہائی اور پرویز مشرف کو پھانسی دینا چاہتے ہیں۔میرا مقصد ن لیگ کی پالیسی کو اجاگر کرنا تھا جو ملک و آئین کی بالادستی چاہتی ہے ۔مشرف بے بس ہے اس لیے پھانسی ،طالبان جوتے مارتے ہیں اس لیے بھائی۔نبی مکرمؐ کی حدیث مبارکہ ہے جس معاشرے میں کمزور کو سزا دی جاتی ہے اور طاقتور کو سزا نہیں ملتی وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے ۔کیا ہم تباہی کی طرف سفر کررہے ہیں اور وہ بھی پورے جوش و جذبے کیساتھ۔ کیا میں آپ لوگوں کی منزل و مقصود کی دعا مانگوں۔
محترم مسلم سلیم صاحب انڈیا کا ایک شعر جو میں پرویز مشرف کی نظر کرنا چاہتا ہوں۔
اک وہ نہیں شہر میں ،مجرم تو بہت تھے
بس یہ کہ وہ آگیا الزام کی زد میں

About Muslim Saleem

Muslim Saleem (born 1950) is a great Urdu poet, writer and journalist and creator of massive directories of Urdu poets and writers on different blogs. These directories include 1. Urdu poets and writers of India part-1 2. . Urdu poets and writers of India part-II 3. Urdu poets and writers of World part-I 4. Urdu poets and writers of World part-II, 5. Urdu poets and writers of Madhya Pradesh, 6. Urdu poets and writers of Allahabad, 7. Urdu poets and writers of Shajahanpur, 8. Urdu poets and writers of Jammu-Kashmir and Kashmiri Origin, 9. Urdu poets and writers of Hyderabad, 10. Urdu poets and writers of Augrangabad, 11. Urdu poets and writers of Maharashtra 12. Urdu poets and writers of Tamil Nadu, 13, Urdu poets and writers of Karnataka 14. Urdu poets and writers of Gujarat, 15. Urdu poets and writers of Uttar Pradesh, 16. Urdu poets and writers of Canada, 17. Urdu poets and writers of Burhanpur, 18. Urdu poets and writers of West Bengal 19. Female Urdu poets and writers, 20. Hindu Naatgo Shuara etc. These directories can be seen on :- 1. www.khojkhabarnews.com 2, www.muslimsaleem.wordpress.com 3. www.urdunewsblog.wordpress.com, 4. www.khojkhabarnews.wordpress.com. 5. www.poetswritersofurdu.blogspot.in 6 www.muslimsaleem.blogspot.in 7. www.saleemwahid.blogspot.in (Life) Muslim Saleem was born in 1950 at Shahabad, Hardoi, Uttar Pradesh in India, brought up in Aligarh, and educated at Aligarh Muslim University. He is the son of the well-known Urdu poet Saleem Wahid Saleem. He has lived in Bhopal, India since 1979. (Education): Muslim Saleem studied right from class 1 to BA honours in AMU schools and University. He completed his primary education from AMU Primary School, Qazi Para Aligarh (Now converted into a girls school of AMU). He passed high school exam from AMU City School, Aligarh and B.A. Hons (Political Science) from Aligarh Muslim University Aligarh. Later, Muslim Saleem did M.A. in Arabic from Allahabad University during his stay in Allahabad. (Career) Muslim Saleem began his career as a journalist in the Urdu-language newspaper Aftab-e-Jadeed, Bhopal. He is multilingual journalist having worked on top posts with Dainik Bhaskar (Hindi), Central Chronicle (English), National Mail (English), News Express (English) and most recently as the chief copy editor of the Hindustan Times in Bhopal. At present, Muslim Saleem is English news advisor to Directorate of Public Relations, Government of Madhya Pradesh. (as on December 1, 2012). (Works and awards) Muslim Saleem has been appointed as Patron of Indo-Kuwait Friendship Society. He is the author of Aamad Aamad, a compilation of his poetry published by Madhya Pradesh Urdu Academi. Several of his couplets are well known in the Urdu language. He won the Yaad-e-Basit Tarhi Mushaira, a poetry competition, in 1982. In 1971, Muslim Saleem was awarded by Ismat Chughtai for his Afsana “Nangi Sadak Par” at AMU Aligarh. His ghazals and short stories have been published in Urdu-language publications Shair, Ahang, Asri, Adab, Agai, Naya Daur, Sada-e-Urdu, Nadeem and other periodicals and magazines. His work in service of the Urdu language was recognized in a special 2011 edition of the periodical Abadi Kiran, devoted to his work. Evenings in his honour have been organised in a number of cities. Muslim Saleem is currently compiling a massive database of poets and writers of the Urdu language, both historic and currently active. (Translation of Muslim Saleem’s work in English): Great scholar Dr. Shehzad Rizvi based in Washington has translated Muslim Saleem’s ghazal in English even though they have never met. Dr. Rizvi saw Muslim Saleem’s ghazals on websites and was so moved that he decided to translate them. (Praise by poets and writers) Great poet and scholar of Urdu and Persian Dr. Ahmad Ali Barqi Azmi has also written a number of poetic tributes to Muslim Saleem. Dr. Azmi and Muslim Saleem are yet to meet face to face. Beside this, great short-story writer and critic Mehdi Jafar (Allahabad, Bashir Badr (Bhopal), Jafar Askari (Lucknow), Prof. Noorul Husnain (Aurangabad), Kazim Jaffrey (Lahore) and a host of others have written in-depth articles defining Muslim Saleem’s poetry. (Muslim Saleem on other websites) Muslim Saleem’s life and works have been mentioned on Wikipedia, www.urduadab4u.blogspot.in, www.urduyouthforum.org and several other website. In fact, www.urduyouthforum.org has given credit to Muslim Saleem for lifting a number of pictures and entries from Muslim Saleem’s websites and blogs. (Address): Muslim Saleem, 280 Khanugaon, VIP Road, Bhopal-462001 Mobiles: 0 9009217456 0 9893611323 Email: muslimsaleem@rediffmail.com saleemmuslim@yahoo.com Best couplets: Zindagi ki tarah bikhar jaayen…… kyun ham aise jiyen ki mar jaayen kar di meeras waarison ke sipurd…. zindagi kis ke naam mar jaayen rooh ke karb ka kuchh mudaawa no tha doctor neend ki goiyan likh gaya wo dekhne mein ab bhi tanawar darakht hai haalanke waqt khod chuka hai jaden tamam My Facebook url is http://en-gb.facebook.com/pages/Muslim-Saleem/176636315722664#!/pages/Muslim-Saleem/176636315722664?sk=info Other blogs http://urdupoetswriters.blogspot.com/ http://muslimspoetry.blogspot.com/ http://abdulahadfarhan.blogspot.com/ http://ataullahfaizan.blogspot.com/ http://hamaramp.blogspot.com/ http://madhyanews.blogspot.com/ http://cimirror.blogspot.com/
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s