Raziq-ul-Khairi

مولانا رازق الخیری

شان الحق حقی  بدھ 24 دسمبر 2014

مولانا رازق الخیری ایک ’’مصفی‘‘ اور بے داغ کردار کے مالک تھے۔ پاک باطن، نیک سیرت، نیک طینت جہاں کوئی انگلی اٹھانے کی گنجائش نہیں جو دل میں وہ زبان پہ۔ وہ باقاعدگی کا نمونہ تھے۔ ان کے معمولات بندھے ہوئے تھے۔ جن میں کبھی فرق نہیں آیا۔ انھوں نے محنت اور اپنے فرائض کی انجام دہی سے کبھی جی نہیں چرایا۔ آزاد پیشہ آدمی تھے۔ کسی کے پابند نہیں تھے۔ پابندی تھی تو صرف اپنے اختیار کردہ اصولوں کی۔ اسی کو سیلف ڈسپلن کہتے ہیں۔ انھیں اپنے نفس پر پورا قابو تھا جو سب سے بڑی جنگ ہے۔ بقول اقبال ’’ کردار کا غازی‘‘ بننا آسان نہیں۔ اپنی اختیار کردہ راہ پر جو دراصل خدمت اور فلاح خلق کی راہ تھی ان کے قدم اتنے مضبوط تھے کہ لغزش کا سوال ہی نہیں تھا۔

اسی فراغی اور فارغ البالی کے زمانے میں بھی جو انھیں ایک بڑے نشری ادارے کے مالک، ایک صاحب املاک اور عالیٰ خاندان آدمی کی حیثیت سے دلی میں حاصل رہی اور اس خستہ حالی کے دور میں بھی جو پاکستان ہجرت کرنے کے بعد ان پر گزارا ان کی رفتار ایک سی رہی۔ عزم و استقلال انھی پر ختم تھا وہ ان غنیمت ہستیوں میں سے تھے جو اپنی عمر عزیز اور زندگی کی بخشی ہوئی توانائی کو کسی کار خیر میں لٹاتے رہتے ہیں اور اسی کو نشاط حیات سمجھتے ہیں۔حدیث نبوی ﷺ ہے کہ مفلسی جلد ہی کفر میں بدل سکتی ہے ایک عرصے کی غلامی نے ہمارے قومی کردار کو خاصا مسخ کر ڈالا تھا جس طرح کسی مضمحل ضعیف عورت کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ عین شباب میں رنگ و روپ اور چال ڈھال کیا ہو گی۔ اسی طرح قوموں کا حلیہ جب بگڑتا ہے تو پہچانا نہیں جاتا۔ افسوس ہے کہ آزادی بھی ہماری غلامی کے بخشے ہوئے عوارض کا مداوا نہ کر سکی۔ ابھی تک قوم ایک بے اعتمادی کا شکار ہے۔ اپنے مستقبل کی طرف سے مایوسی جو دراصل بے اعتمادی کی ایک شکل ہے۔ اکثر سماجی حلقوں کی تہہ میں یہی بے اعتمادی کارفرما ہے۔

ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں تو غنیمت زمانہ شخصیتوں کا ایک سلسلہ نظر آتا ہے جنہوں نے قوم کے مستقبل سے مایوسی اختیار نہ کی بلکہ اپنے ہاتھوں اس کی تعمیر کے لیے بستہ ہو گئے۔ اسی سلسلے میں سرسید احمد خان اور ان رفقاء کے ساتھ جن اکابر کے نام لیے جاتے ہیں ان میں علامہ راشد الخیری کی ذات نمایاں حیثیت رکھتی ہے وہ اہل سیاست میں سے نہیں تھے نہ حکام تھے وہ سماجی خدمت کو مقدم خیال کرتے تھے اور اس میدان میں بھی انھوں نے اس سمت نظر کی جدھر اس دور میں کم ہی نظریں اٹھتی تھیں۔

یعنی اصلاح و تعلیم نسواں کسی قوم کو پستی سے نکالنا اور ترقی کی راہ پر ڈالنا ہو تو پہلے اس کے طبقہ اناث کو سنبھالیے۔ کردار کی داغ بیل ماں کی آغوش میں پڑتی ہے بلکہ کر دار ماں کی کوکھ ہی سے جنم لیتا ہے۔ آپ آدھی قوم کو جاہل اور زندگی کے کاموں سے بے دخل رکھ کر فلاح کی امید نہیں کر سکتے۔ کسی قوم یا ملک کی سب سے بڑی دولت افرادی قوت ہے بشرطیکہ اس کا نظام معیشت درست ہو جو اس قوت سے کام لے سکے لہٰذا ملک کو کل بھی ذہانت، روشن خیال اور با ہنر خواتین کی ضرورت تھی آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔

نظریات سے اختلاف کرنے والے موجود ہیں تو خیال کیجیے کہ اس دور میں ان حضرت کو کتنے بڑے جہاد کا سامنا تھا جو تعلیم نسواں کے علمبردار تھے۔ علامہ نے اعتدال اور معقولیت کی روش اختیار کی تھی۔ انھوں نے قومی معاشرت کو آئینہ دکھایا تھا۔ طبقہ نسواں کی جہالت و مظلومیت کی دلدوز داستانیں لکھیں، قوم کے احساسات کو جگانے کا اس سے زیادہ موثر اور کارگر حربہ کیا ہو سکتا تھا جو انھوں نے اختیار کیا۔ ان کی تصانیف ہمارے قومی ادب کا گراں قدر سرمایہ ہیں جس کا مقام ہماری تاریخ میں محفوظ ہے۔

’’ادب برائے زندگی‘‘ کا نعرہ بہت بعد میں بلند ہوا اس کی طرح ڈالنے والے یہی مصنفین تھے مولوی نذیراحمد، مولانا حالی، مصورغم علامہ راشد الخیری یہ اس سلسلہ کی پہلی کڑیاں تھیں۔ علامہ راشد الخیری کی زندگی ہی میں مولانا رازق الخیری ان کے مشن میں پوری طرح سرگرم تھے۔ علامہ کی وفات کے بعد ذمے داری تمامتر ان کے سر آ پڑی۔ مدرستہ البنات اور مطبوعات و رسائل کا کام ان کے کاندھوں پر رہا اور انھوں نے اس کو جس تندہی اور حسن لیاقت کے ساتھ انجام دیا انھی کا حصہ تھا۔ ان کے ہاتھوں ادارے کو بہت فروغ ہوا۔

علامہ مغفور تخلیقی ذہن لے کر پیداہوئے تھے وہ موجد مخترع اور خلاق تھے تو رازق صاحب انتظامی امور میں طاق۔ علامہ کی بعض ابتدائی تصانیف جو دوسرے ناشروں نے برائے نام معاوضہ دے کر خرید رکھی تھیں ان کے حقوق رازق صاحب نے بڑے بڑے دام دے کر واپس لیے۔ تقسیم کے وقت تک ادارہ ’’عصمت‘‘ ایک فعال باضابطہ اور پھلتا پھولتا ادارہ تھا تمام برصغیر میں اس کی ساکھ اور دھاک تھی پھر یوں ہوا کہ وہ بساط الٹ گئی ہزارہا مہاجرین کی طرح مولانا رازق الخیری بھی اپنے اہل و عیال کی جان کے صدقے میں اپنا سب کچھ گنوا کر پاکستان میں پناہ گزیں ہو گئے۔ وہ حالات کے آگے ہمت ہارنے والے انسان نہیں تھے یہاں ان کے کردار کو ایک نئی اور بہت بڑی آزمائش سے گزرنا پڑا ان کی جوانی کا زمانہ نہیں تھا کوئی اور ہوتا تو کندھا ڈال دیتا لیکن ’’عصمت‘‘ جو ان کی زندگی کا مشن تھا ظلمات کا چراغ تھا حوادث کے جھونکوں سے نہ بجھ سکا اور ان کی سعادت مند اولاد کے حوصلے اور ہمت کے طفیل آج بھی جاری ہے۔ان رسائل اور ان مطبوعات سے جو ادارہ ’’عصمت‘‘ نے شایع کیں کتنی خلق خدا نے فیض پایا اس کا شمار محال ہے۔

انھوں نے قوم کو بہت کچھ دیا افسوس کہ قوم ان کی خدمات کے خالی خولی اعترا ف کا حق بھی ادا نہ کر سکی یہ وہ دور تھا کہ جس میں خدمت کی قد رہی نہیں رہی تھی۔ کچھ ملتا تو ان کو جو اس کے طلبگار ہوتے، وہ طلبگار تھے نہ انھوں نے پیروکار تلاش کیا۔ وہ قوم سے اپنی خدمات کا صلہ کیا مانگتے کہ یہ تو سودائے محبت تھا لیکن اہل قلم پر ان کی خدمت اور عظمت کا اعتراف ضرور واجب ہے۔ یہ ایک فرض کفایہ ہی نہیں اسے جتنے لوگ بھی ادا کریں کم ہے۔

میں نے مولانا کو پہلے پہل غالباً 1925ء میں دیکھا تھا انھوں نے اس وقت ایک کار خریدی تھی اور ہمارے حیدرآباد دکن سے آئے ہوئے کچھ عزیزوں کے ساتھ مجھے بھی بٹھا کر سیر کرانے لے گئے میں اس وقت بچہ ہی تھا اس وقت سے لے کر تادم مرگ ان کی شفقت مجھے حاصل رہی۔ ان کا سایہ ان کے بچوں کے سر سے ہی نہیں اٹھا یہ ان تمام خوردگان کے سر سے اٹھا ہے جو ان کے مہر و محبت سے سرفراز رہے ہیں۔ اس کی قدر اس دور میں زیادہ ہوتی ہے جب کہ زمانے نے خود ہم کو رفتہ رفتہ اگلی صفوں میں دھکیل دیا ہے۔ دھوپ کڑی ہوتی جا رہی ہے اور سائبان اٹھتے جا رہے ہیں۔مولانا ترقی اردو بورڈ کراچی کی تاسیس کے وقت سے ہی اس کی مجلس اعلیٰ کے رکن تھے۔

میں اس کا سیکریٹری تھا اور یہ خدمت 18 برس میرے سپرد رہی یہاں بھی میں نے مولانا کو ہمیشہ راست گو، حق پرست اور اپنے کام سے کام رکھنے والا آدمی دیکھا۔ وہ بورڈ کے اجلاس میں اسی باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے جو ان کی سرشت میں بھی تھی۔ نپی تلی بے لاگ رائے دیتے تھے۔ کام کو آگے بڑھانے کے سوا انھیں کسی اور بات سے غرض نہ تھی۔ کسی کے لینے دینے میں نہیں تھے۔ ان کی شخصیت وزنی تھی مگر طمطراق سے خالی جسے جدید اصطلاح میں ’’گلیمر‘‘ کہتے ہیں اور یہ اوپری رنگ و روغن سے تعبیر ہوتا ہے جو اکثر باتکلف پیدا کیا جاتا ہے کہاں وہ کہاں یہ باتیں وہ سیدھے سادے مسلمان تھے۔

About Muslim Saleem

Muslim Saleem (born 1950) is a great Urdu poet, writer and journalist and creator of massive directories of Urdu poets and writers on different blogs. These directories include 1. Urdu poets and writers of India part-1 2. . Urdu poets and writers of India part-II 3. Urdu poets and writers of World part-I 4. Urdu poets and writers of World part-II, 5. Urdu poets and writers of Madhya Pradesh, 6. Urdu poets and writers of Allahabad, 7. Urdu poets and writers of Shajahanpur, 8. Urdu poets and writers of Jammu-Kashmir and Kashmiri Origin, 9. Urdu poets and writers of Hyderabad, 10. Urdu poets and writers of Augrangabad, 11. Urdu poets and writers of Maharashtra 12. Urdu poets and writers of Tamil Nadu, 13, Urdu poets and writers of Karnataka 14. Urdu poets and writers of Gujarat, 15. Urdu poets and writers of Uttar Pradesh, 16. Urdu poets and writers of Canada, 17. Urdu poets and writers of Burhanpur, 18. Urdu poets and writers of West Bengal 19. Female Urdu poets and writers, 20. Hindu Naatgo Shuara etc. These directories can be seen on :- 1. www.khojkhabarnews.com 2, www.muslimsaleem.wordpress.com 3. www.urdunewsblog.wordpress.com, 4. www.khojkhabarnews.wordpress.com. 5. www.poetswritersofurdu.blogspot.in 6 www.muslimsaleem.blogspot.in 7. www.saleemwahid.blogspot.in (Life) Muslim Saleem was born in 1950 at Shahabad, Hardoi, Uttar Pradesh in India, brought up in Aligarh, and educated at Aligarh Muslim University. He is the son of the well-known Urdu poet Saleem Wahid Saleem. He has lived in Bhopal, India since 1979. (Education): Muslim Saleem studied right from class 1 to BA honours in AMU schools and University. He completed his primary education from AMU Primary School, Qazi Para Aligarh (Now converted into a girls school of AMU). He passed high school exam from AMU City School, Aligarh and B.A. Hons (Political Science) from Aligarh Muslim University Aligarh. Later, Muslim Saleem did M.A. in Arabic from Allahabad University during his stay in Allahabad. (Career) Muslim Saleem began his career as a journalist in the Urdu-language newspaper Aftab-e-Jadeed, Bhopal. He is multilingual journalist having worked on top posts with Dainik Bhaskar (Hindi), Central Chronicle (English), National Mail (English), News Express (English) and most recently as the chief copy editor of the Hindustan Times in Bhopal. At present, Muslim Saleem is English news advisor to Directorate of Public Relations, Government of Madhya Pradesh. (as on December 1, 2012). (Works and awards) Muslim Saleem has been appointed as Patron of Indo-Kuwait Friendship Society. He is the author of Aamad Aamad, a compilation of his poetry published by Madhya Pradesh Urdu Academi. Several of his couplets are well known in the Urdu language. He won the Yaad-e-Basit Tarhi Mushaira, a poetry competition, in 1982. In 1971, Muslim Saleem was awarded by Ismat Chughtai for his Afsana “Nangi Sadak Par” at AMU Aligarh. His ghazals and short stories have been published in Urdu-language publications Shair, Ahang, Asri, Adab, Agai, Naya Daur, Sada-e-Urdu, Nadeem and other periodicals and magazines. His work in service of the Urdu language was recognized in a special 2011 edition of the periodical Abadi Kiran, devoted to his work. Evenings in his honour have been organised in a number of cities. Muslim Saleem is currently compiling a massive database of poets and writers of the Urdu language, both historic and currently active. (Translation of Muslim Saleem’s work in English): Great scholar Dr. Shehzad Rizvi based in Washington has translated Muslim Saleem’s ghazal in English even though they have never met. Dr. Rizvi saw Muslim Saleem’s ghazals on websites and was so moved that he decided to translate them. (Praise by poets and writers) Great poet and scholar of Urdu and Persian Dr. Ahmad Ali Barqi Azmi has also written a number of poetic tributes to Muslim Saleem. Dr. Azmi and Muslim Saleem are yet to meet face to face. Beside this, great short-story writer and critic Mehdi Jafar (Allahabad, Bashir Badr (Bhopal), Jafar Askari (Lucknow), Prof. Noorul Husnain (Aurangabad), Kazim Jaffrey (Lahore) and a host of others have written in-depth articles defining Muslim Saleem’s poetry. (Muslim Saleem on other websites) Muslim Saleem’s life and works have been mentioned on Wikipedia, www.urduadab4u.blogspot.in, www.urduyouthforum.org and several other website. In fact, www.urduyouthforum.org has given credit to Muslim Saleem for lifting a number of pictures and entries from Muslim Saleem’s websites and blogs. (Address): Muslim Saleem, 280 Khanugaon, VIP Road, Bhopal-462001 Mobiles: 0 9009217456 0 9893611323 Email: muslimsaleem@rediffmail.com saleemmuslim@yahoo.com Best couplets: Zindagi ki tarah bikhar jaayen…… kyun ham aise jiyen ki mar jaayen kar di meeras waarison ke sipurd…. zindagi kis ke naam mar jaayen rooh ke karb ka kuchh mudaawa no tha doctor neend ki goiyan likh gaya wo dekhne mein ab bhi tanawar darakht hai haalanke waqt khod chuka hai jaden tamam My Facebook url is http://en-gb.facebook.com/pages/Muslim-Saleem/176636315722664#!/pages/Muslim-Saleem/176636315722664?sk=info Other blogs http://urdupoetswriters.blogspot.com/ http://muslimspoetry.blogspot.com/ http://abdulahadfarhan.blogspot.com/ http://ataullahfaizan.blogspot.com/ http://hamaramp.blogspot.com/ http://madhyanews.blogspot.com/ http://cimirror.blogspot.com/
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s