Author of Udaas Naslen Abdullah Hussain passes away

اردو زبان کے معروف ترین اور عہد ساز ناول نگاروں میں سے ایک عبداللہ حسین چوارسی برس کی عمر میں۴ ر جولائی کو لاہور میں انتقال کر گئے۔۔ وہ گزشتہ ایک برس سے خون کے سرطان سے نبرد آزما تھے اور چند روز پہلے ہسپتال سے گھر منتقل ہو گئے تھے۔ سمیت مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات نے عبداللہ حسین کی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔عبداللہ حسین کی تخلیقی صلاحیتوں کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں 2012ئ میں انہیں ’کماِل فن‘ لٹریچر ایوارڈ سے نواز تھا۔ پاکستان میں یہ ایوارڈ ادب کی صنف میں سب سے زیادہ معتبر تصور کیا جاتا ہے جبکہ اس کے ساتھ پانچ لاکھ روپے کی نقد رقم بھی دی جاتی ہے۔
عبداللہ حسین کا ناول ’اداس نسلیں‘ اردو ادب میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ناول کو نہ صرف اردو زبان کے قارئین کی طرف سے بہت زیادہ پذیرائی ملی بلکہ اس کے انگریزی سمیت کئی زبانوں میں تراجم بھی شائع ہو چکے ہیں جنہیں بین الاقوامی سطح پر بہت پسند کیا گیا تھا۔’اداس نسلیں‘ کا خصوصی سلور جوبلی ایڈیشن ابھی دو سال قبل ہی شائع ہوا تھا۔ عبداللہ حسین نے ماضی میں اپنے متعدد انٹرویوز میں تذکرہ کیا تھا کہ انہوں نے اس ناول کے لیے بہت زیادہ تحقیق کی تھی۔ وہ اپنے اس ناول کو اردو ادب میں ایک اہم اضافہ قرار دیتے تھے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی اپنی تخلیقات میں سے ان کا پسندیدہ ناول ’نادار لوگ‘ تھا۔ ماضی میں ڈی ڈبلیو سے ایک گفتگو کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ ’اداس نسلیں‘ کو بہت زیادہ مقبولیت اور پذیرائی ملی ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ’نادار لوگ‘ ان کا فیورٹ ناول ہے۔
[عبداللہ حسین کا ناول ’اداس نسلیں‘ اردو ادب میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے]
عبداللہ حسین کا ناول ’اداس نسلیں‘ اردو ادب میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔’اداس نسلیں‘ اور ’نادار لوگ‘ کے علاوہ عبداللہ حسین کی دیگر قابل ذکر تخلیقات میں ’باگھ‘، ’نشیب‘، ’فریب‘، ’قید‘ اور ’رات‘ بھی شامل ہیں۔ وہ ناول نگاری کو ایک انتہائی مشکل، صبر آزما اور پیچیدہ عمل قرار دیتے تھے۔2013ئ میں پاکستان کی اکادمی ادبیات کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا، ”ناول لکھنا آسان کام نہیں بلکہ یہ فن تعمیر کے مماثل ہے، آپ ایک اینٹ پر دوسری اینٹ رکھتے ہیں اور یوں ایک دیوار بنتی ہے۔“اپنے اسی خطاب میں عبداللہ حسین نے یہ بھی کہا تھا کہ آج کل کے دور میں لوگ ناول نہیں لکھ سکتے کیونکہ وہ جلد باز ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول ناول نگاری میں تاخیر اور مشکلات کے باوجود مستقل مزاج اور مستعد رہنا پڑتا ہے۔ تب عبداللہ حسین نے کہا تھا کہ ایک اچھا ناول لکھنے کے لیے کم ازکم چار پانچ برس کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔
عبداللہ حسین کی نماز جنازہ سنیچر کو ہی ڈیفینس کے علاقے میں واقع ا±ن کی رہائش گاہ پر ادا کی گئی۔نماز ِجنازہ میں عطا الحق قاسمی ، اصغر ندیم سید ، اِنتظار حسین، امجد سلام امجد اور مرزا اطہر بیگ سمیت علم و ادب سے تعلق رکھنے والے دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔اس موقع پر اصغر ندیم سید کا کہنا تھا کہ عبداللہ حسین کے پہلے ہی ناول ا±داس نسلیں نے پورے برصغیر کی ادبی تاریخ میں تہلکہ مچا دیا تھا کیونکہ ا±ن کا یہ ناول برصغیر کی سماجی اور سیاسی تاریغ کا احاطہ کرتا ہے۔اصغر ندیم سید نے کہا کے عبداللہ حسین کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ ا±ن کے تحریروں میں سچائی اور حقیقت ہے اور ا±س میں زندگی کے حقائق کا بہت قریب سے تجربہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ا±ردو ادب آج ایک بہت بڑے لکھاری سے محروم ہو گیا ہے۔
امجد اسلام امجد کا کہنا ہے کہ عبداللہ حسین جیسا نام اب اِس د±نیا میں کم ہی نظر آتا ہے۔انہوں نے کہا ہمارے جیسے معاشرے میں جہاں پڑھنے ولے نسبتا کم ہیں اور کتابیں بھی کم بکتی ہیں وہاں پچاس برس تک لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانا بہت بڑا کارنامہ ہے اور عبداللہ حسین ا±ن چند افراد میں سے ایک ہیں جنہوں نے یہ کانامہ انجام دیا۔امجد اسلام امجد نے کہا کہ نئی نسل کے افسانہ نگار بھی عبداللہ حسین کی تحریروں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے اور جب تک ا±ردو لکھنے اور پڑھنے والے باقی ہیں وہ عبداللہ حسین کو ہمیشہ محبت سے یاد رکھیں گے۔

’اداس نسلیں‘ کے خالق عبداللہ حسین اردو کو اداس چھوڑ گئےاردو زبان کے معروف ترین اور عہد ساز ناول نگاروں میں سے ایک عبداللہ حسین چوارسی برس کی عمر میں۴ ر جولائی کو لاہور میں انتقال کر گئے۔۔ وہ گزشتہ ایک برس سے خون کے سرطان سے نبرد آزما تھے اور چند روز پہلے ہسپتال سے گھر منتقل ہو گئے تھے۔ سمیت مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات نے عبداللہ حسین کی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔عبداللہ حسین کی تخلیقی صلاحیتوں کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں 2012ئ میں انہیں ’کماِل فن‘ لٹریچر ایوارڈ سے نواز تھا۔ پاکستان میں یہ ایوارڈ ادب کی صنف میں سب سے زیادہ معتبر تصور کیا جاتا ہے جبکہ اس کے ساتھ پانچ لاکھ روپے کی نقد رقم بھی دی جاتی ہے۔عبداللہ حسین کا ناول ’اداس نسلیں‘ اردو ادب میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ناول کو نہ صرف اردو زبان کے قارئین کی طرف سے بہت زیادہ پذیرائی ملی بلکہ اس کے انگریزی سمیت کئی زبانوں میں تراجم بھی شائع ہو چکے ہیں جنہیں بین الاقوامی سطح پر بہت پسند کیا گیا تھا۔’اداس نسلیں‘ کا خصوصی سلور جوبلی ایڈیشن ابھی دو سال قبل ہی شائع ہوا تھا۔ عبداللہ حسین نے ماضی میں اپنے متعدد انٹرویوز میں تذکرہ کیا تھا کہ انہوں نے اس ناول کے لیے بہت زیادہ تحقیق کی تھی۔ وہ اپنے اس ناول کو اردو ادب میں ایک اہم اضافہ قرار دیتے تھے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی اپنی تخلیقات میں سے ان کا پسندیدہ ناول ’نادار لوگ‘ تھا۔ ماضی میں ڈی ڈبلیو سے ایک گفتگو کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ ’اداس نسلیں‘ کو بہت زیادہ مقبولیت اور پذیرائی ملی ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ’نادار لوگ‘ ان کا فیورٹ ناول ہے۔[عبداللہ حسین کا ناول ’اداس نسلیں‘ اردو ادب میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے]عبداللہ حسین کا ناول ’اداس نسلیں‘ اردو ادب میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔’اداس نسلیں‘ اور ’نادار لوگ‘ کے علاوہ عبداللہ حسین کی دیگر قابل ذکر تخلیقات میں ’باگھ‘، ’نشیب‘، ’فریب‘، ’قید‘ اور ’رات‘ بھی شامل ہیں۔ وہ ناول نگاری کو ایک انتہائی مشکل، صبر آزما اور پیچیدہ عمل قرار دیتے تھے۔2013ئ میں پاکستان کی اکادمی ادبیات کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا، ”ناول لکھنا آسان کام نہیں بلکہ یہ فن تعمیر کے مماثل ہے، آپ ایک اینٹ پر دوسری اینٹ رکھتے ہیں اور یوں ایک دیوار بنتی ہے۔“اپنے اسی خطاب میں عبداللہ حسین نے یہ بھی کہا تھا کہ آج کل کے دور میں لوگ ناول نہیں لکھ سکتے کیونکہ وہ جلد باز ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول ناول نگاری میں تاخیر اور مشکلات کے باوجود مستقل مزاج اور مستعد رہنا پڑتا ہے۔ تب عبداللہ حسین نے کہا تھا کہ ایک اچھا ناول لکھنے کے لیے کم ازکم چار پانچ برس کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔  عبداللہ حسین کی نماز جنازہ سنیچر کو ہی ڈیفینس کے علاقے میں واقع ا±ن کی رہائش گاہ پر ادا کی گئی۔نماز ِجنازہ میں عطا الحق قاسمی ، اصغر ندیم سید ، اِنتظار حسین، امجد سلام امجد اور مرزا اطہر بیگ سمیت علم و ادب سے تعلق رکھنے والے دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔اس موقع پر اصغر ندیم سید کا کہنا تھا کہ عبداللہ حسین کے پہلے ہی ناول ا±داس نسلیں نے پورے برصغیر کی ادبی تاریخ میں تہلکہ مچا دیا تھا کیونکہ ا±ن کا یہ ناول برصغیر کی سماجی اور سیاسی تاریغ کا احاطہ کرتا ہے۔اصغر ندیم سید نے کہا کے عبداللہ حسین کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ ا±ن کے تحریروں میں سچائی اور حقیقت ہے اور ا±س میں زندگی کے حقائق کا بہت قریب سے تجربہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ا±ردو ادب آج ایک بہت بڑے لکھاری سے محروم ہو گیا ہے۔  امجد اسلام امجد کا کہنا ہے کہ عبداللہ حسین جیسا نام اب اِس د±نیا میں کم ہی نظر آتا ہے۔انہوں نے کہا ہمارے جیسے معاشرے میں جہاں پڑھنے ولے نسبتا کم ہیں اور کتابیں بھی کم بکتی ہیں وہاں پچاس برس تک لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانا بہت بڑا کارنامہ ہے اور عبداللہ حسین ا±ن چند افراد میں سے ایک ہیں جنہوں نے یہ کانامہ انجام دیا۔امجد اسلام امجد نے کہا کہ نئی نسل کے افسانہ نگار بھی عبداللہ حسین کی تحریروں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے اور جب تک ا±ردولکھنے اور پڑھنے والے باقی ہیں وہ عبداللہ حسین کو ہمیشہ محبت سے یاد رکھیں گے۔

شہرۂ آفاق اردو ناول ’’ اُداس نسلیں‘‘ کے خالق عبداللہ حسین کے سانحۂ ارتحال پر منظوم تاثرات
احمد علی برقی اعظمی
’’ اُداس نسلیں ‘‘ کے خالق اُداس کرکے گئے
وہ اپنا دامنِ شہرت جہاں میں بھر کے گئے
خلا ہے جانے سے بر صغیر میں اُن کے


ہے سب کے وردِ زباں ان کا آج یہ ناول
جنھیں سبورنا تھا دنیا سے وہ بکھر کے گئے
وہ پیش کرکے مسائل اِدھر اُدھر کے گئے

عروج تھا جنھیں حاصل جہانِ فانی میں
نگاہِ اہل جہاں سے یہں اُتَرکے گئے

وہ شاہکار دئے جو نہ مِٹ سکے گا کبھی
وہ کرکے ٹکڑے سبھی کے دل و جگر کےگئے

تھا عصری کرب کا آئینہ دار اُن اک ہُنر
وہ کرکے زندۂ جاوید اس کو مَر کے گئے

Advertisements

About Muslim Saleem

Muslim Saleem (born 1950) is a great Urdu poet, writer and journalist and creator of massive directories of Urdu poets and writers on different blogs. These directories include 1. Urdu poets and writers of India part-1 2. . Urdu poets and writers of India part-II 3. Urdu poets and writers of World part-I 4. Urdu poets and writers of World part-II, 5. Urdu poets and writers of Madhya Pradesh, 6. Urdu poets and writers of Allahabad, 7. Urdu poets and writers of Shajahanpur, 8. Urdu poets and writers of Jammu-Kashmir and Kashmiri Origin, 9. Urdu poets and writers of Hyderabad, 10. Urdu poets and writers of Augrangabad, 11. Urdu poets and writers of Maharashtra 12. Urdu poets and writers of Tamil Nadu, 13, Urdu poets and writers of Karnataka 14. Urdu poets and writers of Gujarat, 15. Urdu poets and writers of Uttar Pradesh, 16. Urdu poets and writers of Canada, 17. Urdu poets and writers of Burhanpur, 18. Urdu poets and writers of West Bengal 19. Female Urdu poets and writers, 20. Hindu Naatgo Shuara etc. These directories can be seen on :- 1. www.khojkhabarnews.com 2, www.muslimsaleem.wordpress.com 3. www.urdunewsblog.wordpress.com, 4. www.khojkhabarnews.wordpress.com. 5. www.poetswritersofurdu.blogspot.in 6 www.muslimsaleem.blogspot.in 7. www.saleemwahid.blogspot.in (Life) Muslim Saleem was born in 1950 at Shahabad, Hardoi, Uttar Pradesh in India, brought up in Aligarh, and educated at Aligarh Muslim University. He is the son of the well-known Urdu poet Saleem Wahid Saleem. He has lived in Bhopal, India since 1979. (Education): Muslim Saleem studied right from class 1 to BA honours in AMU schools and University. He completed his primary education from AMU Primary School, Qazi Para Aligarh (Now converted into a girls school of AMU). He passed high school exam from AMU City School, Aligarh and B.A. Hons (Political Science) from Aligarh Muslim University Aligarh. Later, Muslim Saleem did M.A. in Arabic from Allahabad University during his stay in Allahabad. (Career) Muslim Saleem began his career as a journalist in the Urdu-language newspaper Aftab-e-Jadeed, Bhopal. He is multilingual journalist having worked on top posts with Dainik Bhaskar (Hindi), Central Chronicle (English), National Mail (English), News Express (English) and most recently as the chief copy editor of the Hindustan Times in Bhopal. At present, Muslim Saleem is English news advisor to Directorate of Public Relations, Government of Madhya Pradesh. (as on December 1, 2012). (Works and awards) Muslim Saleem has been appointed as Patron of Indo-Kuwait Friendship Society. He is the author of Aamad Aamad, a compilation of his poetry published by Madhya Pradesh Urdu Academi. Several of his couplets are well known in the Urdu language. He won the Yaad-e-Basit Tarhi Mushaira, a poetry competition, in 1982. In 1971, Muslim Saleem was awarded by Ismat Chughtai for his Afsana “Nangi Sadak Par” at AMU Aligarh. His ghazals and short stories have been published in Urdu-language publications Shair, Ahang, Asri, Adab, Agai, Naya Daur, Sada-e-Urdu, Nadeem and other periodicals and magazines. His work in service of the Urdu language was recognized in a special 2011 edition of the periodical Abadi Kiran, devoted to his work. Evenings in his honour have been organised in a number of cities. Muslim Saleem is currently compiling a massive database of poets and writers of the Urdu language, both historic and currently active. (Translation of Muslim Saleem’s work in English): Great scholar Dr. Shehzad Rizvi based in Washington has translated Muslim Saleem’s ghazal in English even though they have never met. Dr. Rizvi saw Muslim Saleem’s ghazals on websites and was so moved that he decided to translate them. (Praise by poets and writers) Great poet and scholar of Urdu and Persian Dr. Ahmad Ali Barqi Azmi has also written a number of poetic tributes to Muslim Saleem. Dr. Azmi and Muslim Saleem are yet to meet face to face. Beside this, great short-story writer and critic Mehdi Jafar (Allahabad, Bashir Badr (Bhopal), Jafar Askari (Lucknow), Prof. Noorul Husnain (Aurangabad), Kazim Jaffrey (Lahore) and a host of others have written in-depth articles defining Muslim Saleem’s poetry. (Muslim Saleem on other websites) Muslim Saleem’s life and works have been mentioned on Wikipedia, www.urduadab4u.blogspot.in, www.urduyouthforum.org and several other website. In fact, www.urduyouthforum.org has given credit to Muslim Saleem for lifting a number of pictures and entries from Muslim Saleem’s websites and blogs. (Address): Muslim Saleem, 280 Khanugaon, VIP Road, Bhopal-462001 Mobiles: 0 9009217456 0 9893611323 Email: muslimsaleem@rediffmail.com saleemmuslim@yahoo.com Best couplets: Zindagi ki tarah bikhar jaayen…… kyun ham aise jiyen ki mar jaayen kar di meeras waarison ke sipurd…. zindagi kis ke naam mar jaayen rooh ke karb ka kuchh mudaawa no tha doctor neend ki goiyan likh gaya wo dekhne mein ab bhi tanawar darakht hai haalanke waqt khod chuka hai jaden tamam My Facebook url is http://en-gb.facebook.com/pages/Muslim-Saleem/176636315722664#!/pages/Muslim-Saleem/176636315722664?sk=info Other blogs http://urdupoetswriters.blogspot.com/ http://muslimspoetry.blogspot.com/ http://abdulahadfarhan.blogspot.com/ http://ataullahfaizan.blogspot.com/ http://hamaramp.blogspot.com/ http://madhyanews.blogspot.com/ http://cimirror.blogspot.com/
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s